ڈائنوسار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سینکینبرگ عجائب گھر (Senckenberg Museum) میں ایک حیوان المہیب ؛ ٹیرانوساوروس ریکس (Tyrannosaurus rex)

ڈائنوسار، دراصل قبل از تاریخ نمودار و ناپید ہو جانے والے جاندار ہیں، جنہیں انگریزی میں Dinosaur کہا جاتا ہے۔ یہ بہت صدیوں پہلے اس دنیا سے ختم ہو چکے ہیں۔ اب اس دنیا پر اس کے ڈھانچے عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

زمانہ[ترمیم]

ڈائنوسار جانوروں کے زمانے کی ابتدا 20 تا 23 کروڑ (23 کے بعد 7 صفر) سال قبل ہو کر 6 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ختم ہوچکی ہے، گویا لگ بھگ 16 کروڑ سال تک یہ جاندار خاک ارض (terrestrial) پر چلتے پھرتے رہے۔ آج کرہء ارض پر اڑتے پرندے، ڈائنوسار کی ایک قسم تھیروپوڈ (theropod) کی اولاد سمجھے جاتے ہیں۔

قبل از حیوانات المہیب[ترمیم]

عمر کائنات کا تخمینہ تیرہ ارب ستر کروڑ سال اور عمرارض کا چارارب پچاس کروڑ سال (45 کے بعد 8 صفر) لگایا گیا ہے اور اس پیدائش زمیں کے ایک ارب سال بعد یعنی تین ارب پچاس کروڑ سال قبل (انسانی تخمینوں کے مطابق) اللہ تعالٰی نے اس پر زندگی کو پیدا کیا۔ یہ ابتدائی زندگی یک خلوی تھی جس کو کثیرخلوی ہونے میں مزید دو ارب سال لگے۔ یہ تمام حیات پانی میں ہوئی اور پھر تقریباً 47 کروڑ سال قبل تک زندگی مچھلی وغیرہ سے ملتے جلتے جانداروں جیسی رہی۔ اس کے بعد خشکی پر بھی حشرات نما زندگی دیکھی جانے لگی۔ جو خاک ارض پر مختلف ادوار طے کرتی ہوئی کوئی 20 کروڑ سال قبل، حیوانات المہیب تک پہنچی۔ اس موضوع پر تفصیلی مضمون کے لیے دیکھیے زندگی کی ابتداء (origin of life)

تاریخ دریافت[ترمیم]

ڈائنوسار کے بارے میں مختلف اقسام کی کہانیاں اور معلومات دنیا کے مختلف حصوں میں شائد ہزار برسوں سے ملتی چلی آ رہی ہیں ؛ مثلا خیال ہے کہ چین میں پایا جانے والا مشہور تصور عفریت جو ایک اژدہا کی صورت رکھتا ہے اور اسی طرح یورپ کا وہ تصور جس کے مطالق طوفان نوح میں یا شائد اس سے بھی پہلے کسی طوفان عظیم میں ڈوب کر ناپید ہوجانے والے دیوہیکل جاندار، حیوان المہیب ہی کی ذات سے نکلنے والی حققتیں ہوسکتی ہیں جو برس ہا برس گزرے پر افسانوی داستانیں بن گئیں (طوفان عظیم اور / یا طوفان نوح کے بارے میں خاصہ ابہام پایاجاتا ہے جو ویکیپیڈیا میں اپنے اپنے مقامات پر درج ہے)

حیوان المہیب کی پہلی نوع جو 1822 میں گیڈون مانٹیل (Gideon Mantell) نے دریافت کی اس کو موجودہ دور میں پائے جانے والی بڑی چھپکلی کی ایک قسم اگوانے سے مماثلت کی وجہ سے اگوانوڈون (Iguanodon) کا نام دیا گیا۔

جسامت[ترمیم]

چونکہ ناپید ہوجانے والے حیوانات میں سے انتہائی کم ہی ایسے ہوتے ہیں جو سنگوارا (fossil) میں تبدیل ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی کثیر حصہ ابھی تک کرہءارض کی گہرائیوں میں دفن ہے لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ سب سے چھوٹا اور سب سے بڑا حیوان المہیب جسامت میں کون سا تھا اور اس کی جسامت کیا تھی۔ چھوٹے ترین ساؤروپوڈ بھی اپنے گرد موجود محل ہست وبود میں کسی بھی جانور سے بڑے ہوا کرتے تھے۔ فیل کبیر (mammoth) جو زمانہ گزشتہ میں ناپیدشدہ ایک عظیم الجسامت ہاتھی تھا وہ بھی ان ساؤروپوڈوں کے سامنے بونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دور حاضر کے چند ہی جاندار شاید فیل کبیر کی جسامت کو پہنچ سکیں (مثلا، حوت نیلگوں --- blue whale) جو وزن میں 190000 کلوگرام اور طوالت میں ساڑھے 33 میٹر تک جاسکتی ہے۔ لیکن تمام حیوان المہیب ساؤروپوڈ کی طرح عظیم جسامت کے بھی نہیں تھے، انمیں کچھ چھوٹی جسامت والے تھے۔ ایک ماہر حفریات، Bill Erickson کے مطابق ایک اوسط درجے کے حیوان المہیب کا وزن 500 تا 5000 کلوگرام تک پایا جاتا تھا۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے

مزید دیکھے[ترمیم]