ڈاکٹر اورنگزیب خارانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر اورنگزیب خارانی بن عبد اللطیف بن حاجی امام بخش بن شیر دل بن دل وش بن ھیدک،26 شعبان 1401ھ بمطابق 29 جون 1981ء، میں کراچی کےساحلی علاقے ہاکس بے روڈ پر واقع ایک قدیم علاقے’’ماری پور‘‘ میں پیدا ہوئے۔آپ کی قوم ’’نوشیروانی‘‘ اور قبیلہ ’’شہبازی‘‘ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کنیت ’’ابو محمد‘‘ ہے۔

تعلیم[ترمیم]

والدہ ماجدہ تربیت کے حوالے سے نہایت ہی مستعدہ تھیں، ڈھائی سال کی عمر میں ہی ڈاکٹر صاحب کو ماری پور میں واقع مسرور کالونی کے مقامی اسکول ’’شیما انگلش اسکول‘‘ میں بنیادی تا پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل کیا، جہاں سے فراغت کے بعد 1993؁ ء؁ا میں مچھی میانی مارکیٹ، کھارادر کراچی میں واقع ’’مدرسہ اسلامیہ سیکنڈری اسکول‘‘ سے وابستہ ہوئے اور1998ء؁ میں میٹر سائنس سے فاضل ہوئے۔ سینٹ پیٹرک گورنمنٹ کالج صدر سے 2003ء؁ میں پری انجینئری کی سند حاصل کی، 1998ء؁ سے ہی ٹیوشن پڑھانے کی ابتدا کی اور کوچنگ سینٹرز میں فزکس اور کیمسٹری کے استاد رہے۔ 2001ء؁ سے درس نظامی کی تعلیم صادق آباد کے علاقے رحیم آباد میں شیخ الصرف ’’مولانا نصر اللہ خاں صاحبؒ‘‘ سے علم الصرف کی بنیادی تعلیم کے حصول سے کی، بعد از آں کراچی کے علاقہ لیاری میں گلستان کالونی، کوئلہ گودام، جامعہ مدنیہ، میں باقاعدہ درسِ نظامی کا درس وفاق العربیہ پاکستان کے تحت درجہ ثانیہ میں داخلہ لیا۔درس نظامی کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی سے B.A پرائیویٹ کی سند2005ء؁ میں حاصل کی جبکہ درس نظامی سے فراغت جامعہ احسن العلوم گلشنِ اقبال بلاک2، سے 2008ء؁ ہوئی۔2009ء؁ میں M.Aاسلامک اسٹیڈیز جامعہ کراچی سے پرائیویٹ سے فاضل ہوئے اور اسی سال شیخ الحدیث مولانا مفتی حبیب اللہ صاحبؒ سے لیمارکیٹ صرافہ بازار میں واقع کھتری مسجد سے افتاء کا کورس کیا۔2012 ء؁میں ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی وفاق اردو یونیورسٹی برائے فنون،سائنس اور ٹیکنالوجی، عبد الحق کیمپس کراچی، کے شعبہ علوم اسلامی میں داخلہ لیا اور15 جنوری 2019ء؁ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

1998ء؁ سے N.A دانش کوچنگ سینٹر کھڈا مارکیٹ میں سیکنڈری تک ٹیوشن ٹیچر رہے،1999ء؁ میں بلدیہ،لیاری اور ماری پور کے متعدد کوچنگ سینٹرز میں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے ماہر استاد رہے۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ جورک گھوٹھ، اللہ بنو(کراچی کے مضافاتی گاؤں) میں دینی مدرسوں کی بنیاد رکھی جن میں دار العلوم اللہ بنوں کی بنیاد بھی شامل ہے جہاں ناظرہ قرآن کریم اور درسِ نظامی کی تعلیم دی۔ 2004ء؁ میں صُفّہ کوچنگ سینٹر ماری پور ٹیکری ولیج، قائم کیا جہاںمقامی طلبہ کودینی اور دنیوی تعلیم دی جاتی رہی۔ 2006ء؁ میں جامعہ قوۃ الاسلام ماری پور ہاکس بے روڈ، میں بطور مہتمم خدمات انجام دیں۔2010ء؁ جامعہ قوۃ الاسلام،وفاق المدارس العربیہ سے ملحق ہوا اور باقاعدہ دار الافتاء کا آغاز ہوا۔ نیز جامع مسجد قوۃ الاسلام میں بطور امام و خطیب خدمات انجام دیں۔جنوری،2019ء؁ سے اب تک وفاقی اردو یونیورسٹی میں بطور معاہداتی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ مطالعہ ادیانِ عالم ، کلیہ معارف اسلامیہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

موصوف کی کتاب ’’مطالعہ ادیان و مذاہب‘‘ 2019ء؁ میں شائع ہو چکی ہے جبکہ ’’ازواج مطہرات کی تعداد کا تحقیقی جائزہ‘‘، ’’شریعت کے عوامی فوائد‘‘ اور ’’مسائل و احادیث بعد از عصر و فجر‘‘ نامی کتابوں پر تحقیقی کام جاری ہے۔