بہاء الدین محمد ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈاکٹر بہاء الدین محمد جمال الدین الملیباری
ڈاکٹر بہاء الدین محمد جمال الدین الملیباری
Dr. Bahauddeen Nadwi.jpg
معروفیت شیخ ڈاکٹر بہاء الدین محمد جمال الدین الملیباری
پیدائش 22 اپریل 1951ء (عمر 67 سال)
دور جدید
شعبۂ زندگی كیرلا
مذہب اسلام
مکتب فکر شافعی
اہم نظریات دینی ومادی تعلیم کی آمیزش
کارہائے نماياں فقه الأطفال
الإسلام والمسیحیة
مختار الأخلاق والآداب
تاریخ الأدب العربی
حقوق الوالدین
ویب سائٹ http http://darulhuda.com/vc.php

ڈاکٹر بہاء الدین محمد جمال الندوی ایک عظیم مفکر اور داعی اسلام ہیں۔ ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے ایک مایہ ناز ہمہ جہت شخصیت 22 اپریل، 1951ء میں ضلع ملاپورم قصبہ کوریاڈ میں پید اہوئے۔ دار الہدى اسلامك یونیورسٹی کے وائس جانسلر [1] اور بھارت کے ایک مشہور عالم۔

نام ونسب[ترمیم]

بہاء الدین محمد ندوی کا پورا نام یوں ہے ڈاکٹر بہاء الدین بن محمد جمال الدین بن کویا کوٹی بن کویا عمر بن کنجی احمد ملیباری کوریاڈی ثم چماڈی ۔

پیدائش وپرورش[ترمیم]

بہاء الدین محمد ندوی صوبہ کیرالا کے ضلع ملاپورم کے مردم خیز قصبہ کوریاڈ میں سن 1951ء مطابق 1371ھ میں پید ا ہوئے۔ آپ علمی ودینی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں۔ آپ کے والد علامہ جمال الدین مسلیار بڑے ہی صوفی صفت بزرگ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ حجما صوم وصلاۃ کی پابند اور خدا ترس خاتون تھیں۔ آپ کے جد اعلی حضرت شیخ زین الدین بن احمد جنہیں لوگ تینو مسلیار کہا کرتے تھے۔ وہ یگانہ روزگا ر اور اپنے زمانے کے مرجع خلائق تھے۔ اسی پر امن ودینی ماحول میں آپ کی پرورش وپرداخت ہوئی ۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

آ پ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے جد اعلی تینو مسلیار سے حاصل کی۔ پھر اپنے علاقہ کے مدرسہ میں داخلہ لیا۔ پھر مختلف مساجد ومدارس اور سرکاری اسکولوں میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ سن 1972ء میں اعلی تعلیم کے غرض سے جامعہ نوریہ عربیہ سے جڑ گئے۔ سن 1974ء آپ نے مولوی فاضل فیضی کی ڈگری حاصل کی۔ سن 1979ء میں آپ نے کالی کٹ یونیورسٹی سے عربی ادب میں افضل العلماء کا امتحان پاس کیا۔ سن 1971ء میں آپ نے عربک ٹیچنگ ڈپلوما بھی حاصل کیا۔ اس تعلیمی مدت میں آپ مختلف مدارس وجامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ کو عربی ادب سے خاص شغف تھا۔ عربی ادب میں درک تام حاصل کرنے کے لیے آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنوء کا رخ کیا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 30 سال تھی۔ سن 1981ء کے عالمیت کے امتحان میں آپ نے امتیازی کامیابی حاصل کی۔ وہیں سے آپ نے عربی میں تخصص بھی کیا۔ سن 1983ء میں آپ ندوہ سے فارغ ہوئے۔ ندوہ سے فراغت کے بعد آپ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی ادب میں ایم۔ اے بھی کیا۔ علی گڑھ کے تعلیمی مدت ختم ہونے کے بعد آپ نے اپنے وطن کا رخ کیا۔ اس مدت میں آپ نے مختلف دینی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیے۔ سن 1993ء میں آپ نے کالیکٹ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ سن 1998ء میں آپ جامعہ ازہر سے تدریب الائمہ والدعاۃ کی ڈگری حاصل کی۔ بہاء الدین محمد ندوی کے شیوخ واساتذہ کرام کی فہرست بہت طویل ہے جن میں قابل ذکر یہ ہیں علامہ ڈاکٹر سید محمد طنطاوی سابق شیخ الأزہر مصر،علامہ ڈاکٹر علی جمعہ سابق مفتی مصر، شمس العلماء ای۔ کے ابوبکر مسلیار، صوفی باصفا علامہ سی۔ ایچ عیدوروس مسلیار، فقیہ النفس حضرت علامہ ابوبکر مسلیار کوٹوملا، مشہور ادیب ومورخ ابو الحسن علی ندوی، شیخ محمد رابع حسنی ندوی، سعید الرحمن اعظمی ندوی اس کے علاوہ آپ نے اپنے زمانے کے جید علما کرام سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ آپ نے علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی آگہی حاصل کی۔ آپ کا شمار بھارت کے بڑے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ملیالم ادب میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ۔

دینی ودعوی خدمات وسرگرمیاں[ترمیم]

دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کے بانیوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ دارالہدی اسلامک یونیورسٹی جنوبی بھارت کی وہ عظیم دانشگاہ ہے جہاں ہزاروں تشنگان علوم نبویہ اپنی تشنگی بجھا رہے ہیں۔ اس کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیل چکی ہے۔ الحمد للہ جامعہ کے فارغین ہندوبیرون ہندمیں دینی خدمات میں سرگرم عمل ہیں۔ آج بھی موصوف دارالہدی اسلامک یونیور سٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں اور دینی وملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کی ترقی آپ ہی کی مرہون منت ہے۔ دینی ومادی علوم کی آمیزش آپ کی ممتاز سوچ سمجھی جاتی ہے۔ آپ نے اس سوچ کو دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کے ذریعہ عملی جامہ پہنایا۔ اس کے علاوہ آپ مختلف دینی تنظیم، تحریک، مدارس، جامعات کے فعال ومحرک رکن مجلس شوری ہیں۔ آپ کی دینی خدمات کو عالمی پیمانے پر سراہا گیااوردو مرتبہ پانچ سو مؤثر ترین شخصیتوں میں آپ کو بھی شامل کیا گیا۔ سن 2012ء میں آپ کو عالمی علما کونسل نے بھارت سے چنا۔ آپ کی مساعی جمیلہ کو مختلف دینی اداروں اور تحریکوں نے سراہا اور اعزاز واکرام سے بھی نواز ا ۔[2]

مناصب ومراتب[ترمیم]

  • وائس چانسلر،دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،چماڈ،کالی کٹ، کیرلا، انڈیا
  • رکن، عالمی علما کونسل
  • دارالہدی اسلامک یونیورسٹی سے عالمی سطح پر شائع کیا جانے والا رسالہ، اسلامک آوٹ لک، کے چیف ایڈٹر، ۔
  • ماہنامہ ’ ’ تلیچم،،کے چیف ایڈٹر، جوملیالم میں شائع کیاجانے والارسالہ۔
  • ماہنامہ کوڈببم ( ’’ پریوار،، )چیف ایڈٹر، ملیالم زبان میں شائع ہونے والا ماہنامہ
  • ایگزیکٹو ممبر، اسلامک ایجوکیشن کونسل، کیرالا
  • رکن، اسوسیشن آف سوشیل مسلمس اسکالرز، نئی دہلی
  • رکن، تعلیمی بورڈ برائے جامعہ بخاریہ عربیہ، ونڈالور، مدراس
  • ایگزیکٹو ممبر، منہج الہدی اسلامک کالج، پنگنور، آندھراپردیش
  • رکن، آف کیمپس کمیٹی، بیربھوم، کلکتہ، انڈیا

تصانیف[ترمیم]

آپ نے ملیالم، عربی اور انگریزی زبان میں سوسے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے ہیں جن میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. فتح الرحمن فی تفسیر القرآن، ملیالم زبان کی مایہ ناز تفسیر وترجمہ ہے جو محمد مسلیار کوٹیاڈی کی مشارکت سے عمل میں آیا۔ (جو پانچ جلد اور 3000 صفحات پر مشتمل ہے)
  2. امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شہر آفاق کتاب ’ ’ الأدب المفرد ،، کا ملیالم زبان میں ترجمہ کیا ۔
  3. امام غزالی کی کتاب ’’ ایھا الولد ،، کا تعلیقی وتحقیقی کارنامہ انجام دیا۔
  4. الاسلام والمسیحیۃ نامی کتاب ملباری زبان میں لکھا ۔
  5. فقہ الاطفال ،، عربی زبان میں شائع کیا ۔
  6. شیخ عبد القادر عیسی الحلبی کی ’’حقائق عن تصوف،، نامی کتاب کا ملیالم زبان میں ترجمہ کیا ۔
  7. اسہامات الامام السیوطی للأدب العربی، مفوضہ برائے ڈاکٹریٹ پیش کیا۔
  8. اور کئی روزنامے، ہفتہ وار اور ماہناموں میں آپ کے تحقیقی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔

کانفرنس وسمینارز[ترمیم]

آپ نے ہند وبیرون ہند میں علمی دینی وثقافی وسماجی لکچرس دئے۔ آپ عالمی اور ریاستی کانفرنسوں اور سیمناروں میں بھارت کی نمائندگی کی۔ خصوصی طور پر عرب ممالک اور یوروپی ممالک میں اسلام کا صحیح تعارف پیش کیا۔ آپ نے جن عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی ان میں قابل ذکر یہ ہیں۔

  • انیسواں عالمی کانفرنس جو مجلس اعلی برائے شؤون اسلامی وزاریت اوقاف مصر نے منقعد کیا
  • سن 1427ھ میں آپ نے دبئی نوبل پرائز برائے تعلیم قر آن میں اعجاز قرآن پر اپنے خصوصی لکچرز دیے ۔
  • 2011ء آپ عالمی علما کونسل کے سالانہ اجلاس میں جو سنیگل میں منعقد ہوا تھا۔ خصوصی شرکت کی اور لکچر دیا۔
  • سن 2009 ء میں آپ حاکم دبئی شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان کے شاہی مہمان رہے۔ اور پردیسی ملیباریوں کو اپنے پر مغز خطاب سے نوازا۔
  • سال 2011ء میں آپ نے نویں عالمی تفاہم ادیان کانفرنس جو قطر میں منعقد ہوئی تھی۔ آپ امت مسلمہ کے نمائندہ رہے ۔
  • آپ وزارت خارجیہ امریکی کی خصوصی دعوت پر امریکا کا دورہ کیا۔

اعزاز واکرام[ترمیم]

  • سن 2008ء میں آپ کی تعلیمی ودینی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے بھارتی کویت مسلم جماعت نے محبہ ایوارڈ پیش کیا۔
  • ابناء جامعہ نوریہ فیض آباد کی تنظیم نے آپ کی کتاب عصر حاضرمیں اسلامی دعوت کی *مقبولیت کی وجہ سے مخدوم ایوارڈ سے آپ کو نوازا۔
  • سن2009ء میں تبلیغی خدمات کے صلے میں جیحون ایوارڈ کے مستحق رہے۔
  • سن 2012 ء میں مرکزا لشبان السنیین امارات کی جانب سے آپ کی دینی تعلیمی رفاہی کارناموں کو سراہتے ہوئے ہدی ایوارڈ دیا گیا۔
  • سن 2012ء میں جامعہ نوریہ کے گولڈن جوبیلی کے موقع پر آپ کی تعلیمی مساعی کے پیش نظر نابغہء روزگار ایوارڈ پیش کیا گیا۔
  • سن 21012اور 13 میں عالمی سطح پر پانچ پر موثرترین شخصیات میں آپ کو شمار کیا گیا۔
  • 2012ء میں عالمی علما کونسل نے مؤثر بھارتی عالم کے حیثیت سے آپ کا انتخاب کیا۔
  • جمعیت علما کیرالہ کی ذیلی تحریک امارات نے سن 2013 ء میں آپ کی دعوتی تعلیمی اور تربیتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ پیش کیا ۔
  • سن 2014 ء میں جمعیت الشبان السنیین کی ذیلی تحریک سعودی نے ہند وبیرون ہندمیں آپ کی آفاقی دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعزاز واکرام کے ساتھ ایوارڈ بھی پیش کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]