ڈرم میموری
| کمپیوٹر میموری کی اقسام |
|---|
| عام |
| کافور صفت |
| رینڈم ایکسس میموری |
| تاریخی |
|
| غیر کافور صفت |
| رَوم |
| NVRAM |
| ابتدائی مرحلہ NVRAM |
| مقناطیسی |
| بصری |
| ترقی میں |
| تاریخی |
|



ڈرم میموری (Drum memory) ڈیٹا ذخیرہ کرنے والا ایک مقناطیسی آلہ (ڈیٹا اسٹوریج ڈیوائس) تھا جسے 1932ء میں آسٹریا میں گستاف تاؤشیک نے ایجاد کیا تھا۔[1] 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں کے دوران کمپیوٹر میموری کے طور پر ڈرم میموری کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ یہ دکھنے میں ایک دھاتی سلنڈر یا "ڈھول" (Drum) کی طرح ہوتا تھا جس پر مقناطیسی مواد کی تہ چڑھی ہوتی تھی۔
اس کے کام کرنے کا طریقہ کافی دلچسپ تھا۔ جب یہ سلنڈر بہت تیز رفتاری سے گھومتا تھا، تو اس کے ارد گرد لگے ہوئے چھوٹے چھوٹے "ریڈ-رائٹ ہیڈز" اس پر ڈیٹا لکھتے یا وہاں سے ڈیٹا پڑھتے تھے۔ چونکہ ڈرم مسلسل گھومتا رہتا تھا، اس لیے ہیڈز کو ڈیٹا تلاش کرنے کے لیے سلنڈر کے صحیح حصے کے سامنے آنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
جدید ہارڈ ڈرائیو اور ڈرم میموری میں بڑا فرق یہ ہے کہ ڈرم میموری میں ہیڈز اپنی جگہ پر فکس ہوتے تھے، جبکہ ہارڈ ڈرائیو میں ہیڈز حرکت کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ڈرم میموری ہارڈ ڈرائیو کے مقابلے میں بہت کم ڈیٹا محفوظ کر سکتی تھی، لیکن اس دور کے لحاظ سے یہ ایک بڑی ایجاد تھی جس نے کمپیوٹرز کو ڈیٹا اسٹور کرنے کی سہولت فراہم کی۔
آج کل کے کمپیوٹرز میں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے ہارڈ ڈرائیو اور پروگرام چلانے کے لیے ریم (RAM) ہوتی ہے۔ لیکن پرانے دور کے کئی کمپیوٹرز میں "ڈرم میموری" ہی ریم کا کام بھی کرتی تھی۔ یعنی کمپیوٹر کی تمام کیلکولیشنز اور چلنے والے پروگرام اسی گھومتے ہوئے ڈرم پر عارضی طور پر رکھے جاتے تھے۔
رفتار اور کارکردگی
[ترمیم]ڈرم کی رفتار اس بات پر منحصر ہوتی تھی کہ وہ کتنی تیزی سے گھوم رہا ہے۔ ایک عام ڈرم میموری ایک منٹ میں ہزاروں چکر لگاتی تھی۔ پروگرامرز کو کوڈ لکھتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا تھا کہ ڈیٹا ڈرم کے کس حصے پر رکھا گیا ہے، تاکہ جب ڈرم گھوم کر آئے تو "ریڈ ہیڈ" بالکل اسی وقت ڈیٹا پڑھ لے اور وقت ضائع نہ ہو۔ اسے "Optimal Programming" کہا جاتا تھا۔
سائز اور گنجائش
[ترمیم]اگرچہ یہ سائز میں کافی بڑے ہوتے تھے (کبھی کبھی ایک فٹ سے بھی زیادہ لمبے)، لیکن ان میں ڈیٹا اسٹور کرنے کی صلاحیت آج کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی۔ مثال کے طور پر، ایک بڑے ڈرم میں صرف 10 سے 64 کلو بائٹ (KB) تک ڈیٹا آ سکتا تھا۔ آج کے دور کی ایک عام تصویر بھی اس سے ہزار گنا بڑی ہوتی ہے۔
ڈرم میموری کا خاتمہ
[ترمیم]1970ء کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے، میگنیٹک کور میموری اور پھر جدید ڈسک ڈرائیوز نے اس کی جگہ لے لی۔ ڈسک ڈرائیوز (ہارڈ ڈسک) بہتر ثابت ہوئیں کیونکہ ان میں ایک کے اوپر ایک کئی ڈسکیں لگائی جا سکتی تھیں، جس سے کم جگہ میں زیادہ ڈیٹا محفوظ کرنا ممکن ہو گیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Universität Klagenfurt (مدیر)۔ "Magnetic drum"۔ Virtual Exhibitions in Informatics۔ 2006-06-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-02-02