ڈسکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جامع مسجد نور ،کالج روڈ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ

ڈسکہ، صوبہ پنجاب کا ایک چھوٹا صنعتی شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 501،000 ہے۔ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے۔ یہ سیالکوٹ سے 26 اور گوجرانوالہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

نام کی تاریخ[ترمیم]

تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈسکہ [ٹی ایم اے] ک مطابق ڈسکہ شہر مغل بادشاہ شاہجہان نے [1592-1666] کے دور میں شاہجہان آباد قائم کیا گیا تھا۔ ڈسکہ کا پہلا نام شاہجہان آباد تھا ریونیو ریکارڈ کے مطابق علاقے کی زمین داس خاندان کی ملکیت ہے- جو بڑا زمیندار خاندان تھا۔ اور اس طرح یہ 'داس' کا' سے ڈسکہ یعنی انگلش میں کہا جاتا ہے daska ۔

ایک روایت کے مطابق۔ ڈسکہ کا نام “دہ کوہ“ سے بگڑ کر بنا ہے۔ “دہ“ لفظ فارسی زبان کا ہے اور اس کا مطلب حساب کا دس [10] ہے اور “کوہ“ کا مطلب فاصلے کِا پیمانِہ ہے جو مغل دور میں استعمال ہوتا تھا۔ ڈسکہ شہر گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے دس کوہ پر واقٰع ہے۔

مشہور شخصیات[ترمیم]

ڈسکہ میں اشاعت اسلام کے لیے صوفیا اکرام کا کردار بھی بہت اہم تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضرت امام علی الحق کے سیالکوٹ کو فتح کرنے ساتھ ہی بزرگان دین اور صوفیا اکرام کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جن میں سید ولی شاہ، نے ڈسکہ کلاں میں کئی سوسال پہلے اسلامی افکار کو دیگر مذاہب کے اشخاص تک پہنچانے کا پرامن طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈسکہ میں انہوں نے پہلی مسجد بابِ اسلام کی بنیاد رکھی جو متصل مزار شریف ہے۔ آپ کا پرامن طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے یہاں کی مقامی آبادی کے ساہی جٹ اولیاء جٹ اور شیخ برادری نے اسلام قبول کیا، اب آپکا پڑپوتا سجادہ نشین سید تصور شاہ نورانی شاہ ہے ان کے علاوہ بھی دیگر ہستیاں شامل ہیں۔ ان صوفیا اکرام کے نام بابا نوبتاں والی سرکار عوامی روڈ، سید شاہ شریف نہر بی آر بی، بھولا پیر، سید احمد شاہ، کے نام بھی اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔

پیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی

'''پیر صوفی غلام سرور صدیقی نقشبندی''' ڈسکہ کی معروف سماجی و روحانی شخصیت ہیں۔ آپ نے میںن بازار ڈسکہ میں بسطامی مارکیٹ بنائی ہیں ۔ اور خود بھی کپڑے کی تجارت سے وابستہ ہیں۔ آپ عرصہ دراز سے اپنے آستانہ عالیہ میں ہر جمعرات محفل ذکر و نعت سجاتے ہیں جہاں ہر خاص و عام کو دعوت ہے

صوفی صاحب قبلہ آستانہ عالیہ نیریاں شریف سے تعلق رکھتے ہیں اور مشہور عالمی شخصیت شیخ العالم حضرت خواجہ علامہ پیر علاؤ الدین صدیقی صاحب کے منظور نظر و خلیفہ مجاز ہیں۔ صوفی صاحب نے اپنے پیرو مرشد شیخ العالم کے حکم سے 2005 میں کشمیر کے زلزلہ زدگان کی امداد کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب میں سیلاب زدگان کہ مدد کے لیے آپ کے اہل خانہ اور کئی احباب ذی وقار کے مطابق آپ نے اپنا آدھا سے زیادہ مال و اسباب بالخصوص اپنی دکان کا سارا کپڑا زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے گاڑیوں پر بھیج دیا تھا۔ اہل شہر سے اور اپنے دوست و احباب اور بالخصوص پیر بھائیوں سے اپیل کی جنہوں نے روپے کے ساتھ ساتھ کپڑے ، کھانے پکانے کا وافر سامان بستر وغیر دیے۔ جس سے زلزلہ زدگان کی امداد کی گئی۔

جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کی دور دراز علاقوں میں پانی کے کنویں کھدوائے۔ کئی سال مسلسل سینکڑوں جانوروں کی قربانیاں کر کے مستحق افراد میں گوشت تقسیم کرتے آ رہے ہیں۔ سانچہ:مریدین

آستانہ عالیہ نیریاں شریف آزاد جموں و کشمیر جو پہاڑی علاقہ ہے اور پانی کی بہت قلت رہتی تھی خاص طور پر عرس کے موقع پر دور دراز سے انے والے مہمانوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا پیر صوفی غلام سرور صاحب نے وہاں ذاتی اخراجات سے 1200 فٹ( تقریبا) بور کروایا جس کی وجہ سے کافی پانی آتا ہے اور بہت آسانی ہو گئی ہے۔

آپ نے جنوبی پنجاب کے کئی دور دراز کے علاقوں اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں میں پانی کے لیے کنویں کھدوائے ہیں۔ جہاں پہلے پانی نہیں تھا۔ مقامی لوگ 25،26 کلو میٹر دور سے پانی لینے کے لیے جاتے بعض جگہوں پر انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور تھے۔اس کے لیے آپ نے اپنی زوجہ کا اندازہً نو تولہ زیور بھی بیچ دیا تھا۔

آپ کے پانچ صاحبزادے ہیں۔صاحبزادہ محمد ناصر محمود صاحب ۔صاحبزادہ محمد عامر صدیقی السیفی صاحب۔ صاحبزادہ محمد عظیم سرور صاحب۔صاحبزادہ محمد عمر بسطامی القادری صاحب۔صاحبزادہ محمد عثمان صاحب۔


راجندر سنگھ بیدی بھارتی اداکار کبیر بیدی کے والد تقسیم ہند سے پہلے یہاں رہتے تھے۔ اُن کی لکھی ہو بھارتی فلم ایک چادر میلی سی میں دکھایا گیا گاؤں دراصل اُن کا آبائی گاؤں ہے۔