ڈلماشی حواصل
| ڈالمیشین پلیکان | |
|---|---|
| پوربندر، گجرات، بھارت میں | |
| بقا کی صورت حال | |
| سائنسی درجہ بندی | |
| اقلیم: | حیوانات |
| قوم: | حبلیات |
| جماعت: | Aves |
| فصیلہ: | Pelecaniformes |
| خاندان: | Pelecanidae |
| جنس: | Pelecanus |
| نوع: | P. crispus
|
| دہرا نام | |
| Pelecanus crispus | |
| ڈلماشی حواصل کا پھیلاؤ نسل کَش مقامی غیر نسل کَش مہاجر
| |
ڈلماشی حواصل یا کلپنکھی حواصِل (انگریزی: Dalmatian pelican) بڑا آبی پرندہ ہے جو پلیکان خاندان میں سب سے اہم پرندہ ہے۔ یہ جنوب مشرقی یورپ سے بھارت، پاکستان، چین تک کے علاقوں میں جھیلوں، تالابوں اور دریاؤں کے کنارے رہتا ہے۔ یہ باقی حواصل (پلیکان) کی نسبت چمکدار سفید پر رکھتا ہے جن میں چاندی کی سی چمک ہوتی ہے جبکہ خاکستری ٹانگیں اور پاؤں رکھتا ہے۔ اس کی چونچ کا نچلا حصہ پیلا ہوتا ہے جبکہ چونچ کی جڑ میں یعنی ماتھے پر بکھرے سے پر ہوتے ہیں۔ یہ پندرہ کلو گرام تک وزنی جبکہ پروں کا پھیلاؤ چھ فٹ تک ہوتا ہے۔ اس کا حجم گدھ جتنا ہوتا ہے۔
شناخت
[ترمیم]دور سے بوٹی دار چونچ والے حواصل سے بہت حد تک مماثل۔ مگر ان کے پیر اور چنگل گلابی کی بجائے گہرے خاکی رنگ کے ہوتے ہیں۔ اڑنے کے درمیان جسم کے پچھلے حصے بالکل سفید۔
مسکن
[ترمیم]دکن اور جنوبی ہندوستان کے علاوہ اور جگہوں پر صرف موسم سرما میں پائے جاتے ہیں۔
عادات و اطوار
[ترمیم]بڑے بڑے جھنڈ دریاؤں، بڑی جھیلوں اور سمندر میں بسیرا کرتے ہیں۔
غذا
[ترمیم]عموماً مچھلی۔
افزائش نسل
[ترمیم]زیادہ تر موسم سرما میں۔
گھونسلا
[ترمیم]بوٹی دار چونچ والے حواصل کی طرح۔ مشرقی یورپ، جنوبی اور وسطی ایشیا میں بھی افزائش نسل کرتے ہیں۔
بقا کی صورت حال
[ترمیم]تشویشناک، آبادی بتدریج کم ہو رہی ہے۔[4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ BirdLife International (2018). "Pelecanus crispus". IUCN Red List of Threatened Species (بزبان انگریزی). 2018 e.T22697599A122838534. DOI:10.2305/IUCN.UK.2017-3.RLTS.T22697599A122838534.en. Retrieved 2022-02-14.
{{حوالہ رسالہ}}: نامعلوم پیرامیٹر|amends=رد کیا گیا (help) - ↑ "Appendices | CITES". cites.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-01-14.
- ↑ Carl Friedrich Bruch (1832). "Ornithologische Mittheilungen". Isis von Oken (بزبان انگریزی). 10: 1105–1111.
- ↑ حافظ شائق احمد یحییٰ (فروری 2025)۔ "ہندوستانی پرندے: شناخت، عادات و اطوار"۔ اردو ماہنامہ سائنس۔ نئی دہلی۔ ج 32 شمارہ 2: 23