ڈوپامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈوپامین
اسم نظامی

4-(2-aminoethyl)benzene-1,2-diol

دیگر نام 2-(3,4-dihydroxyphenyl)ethylamine;
3,4-dihydroxyphenethylamine;
3-hydroxytyramine; DA; Intropin
Revivan; Oxytyramine
شناختساز
کاس عدد

[51-61-6]

پبکیم 681
اسمائلس
خـواص
سالماتی_صیغہ

C8H11NO2

مولرکمیت

153.178

نقطۂ_پگھلاؤ

128 °C (401 K)

حل پذیری

پانی میں

60.0 g/100 ml (? °C), solid

خـطرات
R/S statement R: 36/37/38
S: 26-36
ماسواۓ کسی خصوصی بیان کے، تمام مادی معطیات
معیاری درجہ حرات و دباؤ یعنی 25°C, 100 kPa
پر دیۓ گۓ ہیں۔
لاتعلقیتِ معلوماتی خانہ و حوالہ جات

پارکنسن کی بیماری اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ دماغ میں ایک کیمیائی رطوبت ڈوپامین کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ڈوپامین جسمانی حرکات کی ترتیب اور نظم و ضبط میں اہم کردار کرتی ہے۔[1]

ڈوپامین کیا ہے؟[ترمیم]

ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے ولا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی اور انعام حاصل کرنے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ ڈوپامین کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ سماجی تعلقات کے حوالے سے بھی کردار ادا کرتا ہے۔[2]

جدید تحقیقات[ترمیم]

برکلے یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق تجربے میں شریک ایسے طلبہ جو اپنے مخالف کی سوچ کو سمجھنے میں بہتر تھے اور مخالف کے ردعمل کا بہتر اندازا لگاتے ہوئے اس کا جواب دینے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان کے جینز میں تین ایسے تغیرات موجود تھے جو دماغ کے ایک مخصوص حصے میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں دماغ کے اس خاص حصے کو ’پری فرنٹل کارٹیکس‘ (prefrontal cortex) کا نام دیا جاتا ہے۔ایسے طلبہ جنہوں نے ’ٹرائل اینڈ ایرر‘ یا غلطیاں کر کے سیکھنے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان میں دو مختلف جینز نے دماغ کے ایک اور حصے ’اسٹریاٹل ریجن‘ (striatal region) میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کیا۔[2]

ڈوپامین اور تناؤ[ترمیم]

تناؤ کے وقت ہری سبزیوں میں فولیٹ موجود ہوتا ہے جو ڈوپامین نامی کیمیکل بناتا ہے جس سے انسان کے دماغ کو راحت اور خوشی ملتی ہے ۔ ڈوپامین لوگوں کو پرسکون بھی رکھتا ہے۔ 2013ء میں یونیورسٹی آف اوٹاگو کے ایک مطالعے کے مطابق جن دنوں میں کالج کے طالب علموں نے پھل یا سبزیاں کھائیں وہ ان دنوں کے مقابلے میں زیادہ خوش اور پرجوش تھے جن دنوں میں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔[3]

مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دماغ میں موجود ڈوپامین اور سیروکین کیمیکلز کو فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد زیادہ مچھلی کھاتے تھے ان میں ڈپریشن کے 17 فیصد کم امکانات تھے۔[4]

ڈوپامین اور فحش فلمیں[ترمیم]

ماہرین کا کہنا ہے کہ متواتر فحش فلمیں دیکھنے سے دماغ میں ڈوپامین زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے باربار اور متواتر پیدا ہونے سے دماغ پر بے حسی طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے جس سے متاثرہ افراد کی عام جنسی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔[5]

منشیات کی عادت[ترمیم]

جسم میں ڈوپامین، سیراٹونن اور اینڈورفین وغیرہ کی طرح کے کئی اقسام کے قدرتی مسکن پیدا کئے ہیں۔ اورمنشیات کے ذریعے جب ان موادوں کو خارجی ذرائع سے استعمال کیا جاتا ہے تو دماغ میں ان موادوں کا قدرتی اخراج رک جاتا ہے۔ ان نیوروٹرانسمیٹرز کی تعداد کم ہوجاتی ہے ، اگر کوئی عادی مرد یا خاتون اپنی ضرورت کے مطابق ان موادوں کو استعمال نہ کرے تو جسمانی اور نفسیاتی عدم توازن پیدا ہوجاتا ہےجس کے باعث چھڑائے جانے والے اثرات پیداہوتے ہیں، اور اگر بیماری میں مبتلا فرد کسی مرض کے علاج کے لئے طبی مشورہ نہ کرے تو اس سے بعض اوقات موت کا بھی ڈر ہے۔[6]

ڈوپامین اور تمباکونوشی کی عادت[ترمیم]

تمباکو میں پائی جانے والی نکوٹین ڈوپامین کی مقدار بڑھا دیتی ہے جس سے سائیکوسس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔[7]

کوکا کولا کی لت[ترمیم]

کوکا کولا پینے کے 45 منٹ بعد جسم ’’ڈوپامین‘‘ ہارمون کی پیداوار بڑھا دیتا ہے جو دماغ میں خوشی کی تحریک پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔’’ہیروئن‘‘ بھی انسانی جسم میں بالکل یہی کام سرانجام دیتی ہے۔ 60 منٹ بعدبوتل کی کیفین کی پیشاب آور خصوصیت اپنا کام دکھانا شروع کر دیتی ہے اور پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے اور پیشاب کرنے سے آپ کے جسم میں شوگر کی کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور اس بعد کے ایک اور بوتل پینے کی طلب ہوتی ہے۔ یہ دورانیہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور انسان نشے کی حد تک کوکا کولا یا دیگر ایسے ہی انرجی ڈرنکس کا عادی ہو جاتا ہے اور بالآخر اپنی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔[8]

موڈافنل[ترمیم]

موڈافنل کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ یہ دماغ کے عصبی خلیوں میں پائے جانے والے خلاء کے درمیان ڈوپامین کی سطح کو بڑھاتی ہے، جس سے نہ صرف یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اب تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چوہوں پر تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس سے عصبی سرگرمی، یادداشت اور ایک کام سے دوسرے کام میں منتقل ہونے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]