ڈیسی قوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تعارف:[ترمیم]

ڈیسی لفظ دیسی کا مادہ ہے جو اختصار ہے ’’دیسوال‘‘ کا۔ جس کے معنی ’’مقامی‘‘ (Local) یا دیس والے ، اپنےوطن والے ، اپنی زمین میں رہنے والے۔ یہ ذاتوں کے ’’جٹ‘‘  قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ زبان اور لہجے کی بنیاد پر اس قوم  کی پہچان کے لیے مختلف الفاظ جیسا کہ دیسی ، دیشی ، ڈیسی، ڈھیسی   زیرِاستعمال ہیں۔جبکہ انگریزی میں  الفاظ     Dese, Desy, Dhesi, Desi, Dessi, Deshi   استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس قوم کے افراد کی بنیادی زبانیں سرائیکی اور پنجابی ہیں جبکہ سندھ میں آباد  خاندان سندھی بولتے ہیں۔

تاریخی پسِ منظر:[ترمیم]

1932رسالہ پیغام ترقی
”تواریخ ضلع ملتان“ 1884ء

جولائی 1932 ء   میں شائع ہونے والے رسالے پیغامات ترقی مظفرگڑھ میں اس قوم کے بارے میں جو تفصیل ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ڈیسی قوم لسپین (ہسپانیہ) کےجزیرہ میں رہتی تھی ،  طارق بن زیاد ؒکے سپین پر حملے اور فتح کے بعدیہ لوگ مسلمان ہونے پر مسلم فوج کا حصہ بنے اور  جب محمد بن قاسمؒ نے سندھ پر حملہ کیا تو یہ قوم اس کی سپاہ میں شامل تھی اور بعد میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئی۔ اور کھیتی باڑی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔  علاوہ ازیں تقسیم برصغیر سے پہلے مظفرگڑھ میں دو مشہور قومیں آباد تھیں ایک ڈاہا اور دوسری ڈیسی، محققین کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم کے دو نام ہیں جبکہ موجودہ دور میں یہ دونوں قومیں الگ الگ شمار کی جاتی ہیں ۔

ملتان کی تاریخ پر لکھی گئی سب سے پہلی کتاب ”تواریخ ضلع ملتان“ مطبوعہ 1884ء  تحریر منشی حکم چند (ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بندوبست ملتان) میں درج کی گئی اقوامِ ملتان میں بھی اس قوم کا واضح ذکر ملتا ہےان  کی برصغیر میں آمد کے بارے میں تو  مصنف خاموش ہے مگر  اس کتاب میں اس برادری کی شناخت لفظ ’’دیسی‘‘  سے کی گئی  ہے۔ اس کے مطابق اس قوم کو برصغیر کے خطہ میں آباد کرنے والے  اللہ داد خان  ڈیسیاور منوں خان ڈیسی تھے جنہوں نے1884ء سے بھی تقریبا‘‘  2سو سال پہلے  لوھراں میں موجود موضع ڈیسی کی بنیاد    دو بستیوں سے رکھی جو ٹبہ نوشہرہ میں موجود تھیں۔

1881ء کی مردم شماری پر 1883 ء  میں لکھی گئی  “Punjab Castes” (پنجاب کی ذاتیں) نامی ایک کتاب جو جناب ڈینزل ابٹسن Denzil_Ibbetson نے لکھی- اس کتاب میں ان کا تعلق’’جٹ‘‘ قبیلے سے بتایا گیا اور انہیں جٹ دیہہ (یعنی کھیتی باڑی کرنے والے) کہا گیا ہے۔ یہ لوگ جنوب شرقی علاقوں میں آباد تھے اور مغربی علاقوں سے آئے تھے۔ جٹ دیہہ میں تینوں مذاہب مسلمان، ہندو، سکھ کے لوگ موجود تھے۔ جو کھیتی باڑی کرتے تھے ان کو ڈیسی جٹ  (Dese Jat )   کا نام دیا گیا جو اس وقت وادی ستلج میں آباد تھے اور کھیتی باڑی کرتے تھے۔ ساتھ ہی مسلمان طبقہ کے لیے مسلم ڈیسی جٹ     Muslim Dese Jat  کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ مگر یہاں ان کی پہلی آباد کاری کے بارے میں کچھ درج نہیں ۔ 1881 ء  کی اس رپورٹ کے مطابق برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں ڈیسی قوم 15379   افراد پر مشتمل تھی جن میں سے موجودہ  جنوبی پنجاب میں تقریبا‘‘ 9000 افراد رہائش پزیر تھے۔

جبکہ اسی کتاب میں روہتک میں آباد ایک قبیلے’’دلال ‘‘ کا ذکربھی ملتا  ہے جو راجپوت ہونے کے دعوےدار تھے ان کے بقول ان کا  مآخذ  یہ ہے کہ  30 پشتیں قبل  ایک راٹھور راجے نے ایک گوجر عورت سے شادی کی جس کے بطن سے چار بیٹے پیدا ہوئے جو دلال، دیسوال، مان، سیواک (سیوال؟) تھے ان میں سے الگ الگ شاخیں بنی جو راجپوت  ہونے کے داعویدار ہیں ۔ مگر دیسوال اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے اپنا مآخذ ’’جٹ ‘‘ قبیل سے بتاتے ہیں  مزید ازاں اس کتاب میں  دیسوال کو Men of the Country   کہا گیا، اوریہ بھی لکھا گیا ہے  ان میں سے کافی لوگ مقامی مسلمان تھے اور اس وقت   روہتک ، کرنال ،  حصار اور اجمیر میں آباد تھے۔  

دور  ِحاضر میں بھارت میں ایک ریلوے سٹیشن ’’دیسوال ‘‘ کے نام سے ہے  اور بھارت کے سیکیورٹی  فورس   کے موجودہ سربراہ ’’ ایس ایس دیسوال ‘‘ ہیں جو اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔  

قرینِ  قیاس یہی ہے کہ ڈیسی قوم   کا تعلق ذاتوں کے  ’’جٹ قبیلہ‘‘ سے ہے جو ’’  غیر راجپوت‘‘ ہیں  اور یہ زیادہ تر کاشتکار ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں آبادکاری:[ترمیم]

تاریخی حوالہ جات کے مطابق جب  محمد بن قاسم نے ملتان کی طرف  پیشقدمی کی تو اس کا لشکر موجودہ ضلع  لودھراں سے بھی گزرا ،  اس علاقہ میں پڑاؤ کے دوران  کچھ لوگوں وہیں پر سکونت اختیار کر کے چند بستیاں آباد کیں جن میں سے   نوشہرہ بستی ملوک میں ہی اس قوم کی پہلی آبادکاری ہوئی۔ حوالاجات کے مطابق  نوشہرہ ڈیسی کو آباد کرنے والا خان اللہ داد خان ڈیسی ہے اور دوسری بستی منوں خان نصیر آباد کی ہے۔

ڈیسی برادری میں سے کچھ خاندانوں نے آج کی موجودہ بستیوں ، موضع ڈیسی میں سکونت اختیار کر لی تھی  مگر کچھ خاندان جنگوں میں مصروف رہے اور برصغیر کے مختلف علاقوں میں مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ وہ خاندان جو تقسیم میں پاک و ہند سے پہلے جنگوں میں شرکت کرتے ہوئے برصغیر کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تھے جب پاکستان بنا تو مسلمان ہونے کی بنا ء  پر ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان میں آئے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کر لی۔ جبکہ غیر مسلم لوگ پاکستان کے علاوقوں سے بھارت کی طرف چلے گئے جیسا کہ  فیصل آباد میں ایک علاقہ چک نمبر 53، 54 ن, گ, ب  ہے جو ڈیسی والا مشہور ہے اس علاقے میں تقسیم سے پہلے سکھ رہا کرتے تھے جو تقسیم کے بعد انڈیا کی طرف چلے گئے۔ یہ متفقہ ہے کہ لودھراں میں موجود موضع ڈیسی اور مظفرگڑھ کی ڈیسی آبادیاں  تقسیمِ برصغیر سے پہلے ہی سے آباد ہیں۔

اب تک یہ قوم پورے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہے ۔ اس قوم کے زیادہ تر خاندان جنوبی پنجاب میں رہائش پزیر ہیں۔ جن میں سے موضع ڈیسی لودھراں ،ضلع بہاول پور، شاہجمال ، مرادآباد اور علی پور ضلع مظفرگڑھ اور ملتان میں بستی ملوک ، بوسن روڈ، بستی اڑوکا نواب پور کے علاقے قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ خانیوال،  فیصل آباد ، سرگودھا ، میانوالی اور خوشاب میں اس قوم کی کافی تعداد موجود ہے۔ مزید ازاں پنجاب میں یہ قوم  ضلع  ساہیوال، وہاڑی، بہاولنگر، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، ڈیرہ غازی خان،  مخدوم رشید، راجن پور میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہے  جبکہ سندھ میں ،گھوٹکی، کشمور، خیرپور میرس اور خیبر پختون خاں  و اٹک میں بھی یہ خاندان رہائش پزیر ہیں۔

القابات:[ترمیم]

علاقہ ، زبان اور لہجے کی بنیاد پر اس قوم کے لیے مختلف الفاظ و القابات زیرِاستعمال ہیں۔ جیسا کہ دیسی ، دیشی ، ڈیسی، ڈھیسی اور بدیسی ۔ اور اس قوم کے افراد عمومی طور پر اپنے نام کے ساتھ سابقہ/لاحقہ کے طور پر’’ ملک ‘‘ اور ’’خان ‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں جبکہ ساہیوال، فیصل آباد ، بہاولنگر و گردونواح میں بسنے والے اس برادری کے لوگ اپنے نام کے ساتھ ’’ چوہدری ‘‘ لگاتے ہیں اور میانوالی ، خوشاب میں آباد برادری ’’ میاں‘‘ کا سابقہ استعمال کرتے ہیں۔