ڈیوڈ کائٹلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈیوڈ کائٹلی
معلومات شخصیت
پیدائش 25 اکتوبر 1932  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 فروری 2017 (85 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوکلینڈ، کیلیفورنیا  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے
مقالات ()
مادر علمی کولمبیا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر ہنس بیئیلینسٹین
استاذ برٹن واٹسن
پیشہ مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ کیلیفورنیا، برکلے  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
میک آرتھر فیلو شپ   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈیوڈ نوئیل کائٹلی (25 اکتوبر، 1932ء23 فروری، 2017ء) ایک امریکی نژاد ماہر چینیات، تاریخ اور ماہر محقق تھے۔ وہ کئی سال یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں پروفیسر رہے تھے۔[2][3] کائٹلی کو بہ طور خاص اوریکل بونز اور اوریکل بون اسکرپٹ کے مطالعات کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔

زندگی اور کام[ترمیم]

ڈیوڈ نوئیل کائٹلی کی پیدائش 25 اکتوبر، 1932ء کو لندن، انگلستان میں ہوئی۔ وہ وہاں پر اپنے خاندان کے ساتھ 1947ء تک رہے جب ان کا خاندان ریاستہائے متحدہ امریکا منتقل ہو گیا۔ وہ آرمہرسٹ کالج میں شریک ہوئے۔ وہ وہاں سے 1953ء میں بی اے میں انگریزی ادب سے فارغ التحصیل ہوئے جس میں ذیلی اختیاری مضمون حیاتی کیمیاء تھا۔ انہیں فلبرائٹ اسکالرشپ حاصل ہوئی، جسے بہ روئے کار لاتے ہوئے انہوں نے وسطانوی فرانسیسی زبان کی تعلیم یونیورسٹی آف لل نارد دے فرانس میں حاصل کی۔ انہوں نے ایم اے جدید یورپی تاریخ میں نیو یارک یونیورسٹی سے 1956ء میں مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ کئی سال اشاعتی کمپنیوں کے لیے نیو یارک میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے فری لانس لکھاری کا بھی کام کیا۔ بعد میں چینی زبان اور چینیات کا مطالعہ کرنے لگے۔[4]

کائٹلی نے اپنی ڈگری کے لیے مشرقی ایشیا کی تاریخ کا مطالعہ کولمبیا یونیورسٹی میں 1962ء میں شروع کیا۔ 1965ء میں کائٹلی نے تیپی، تائیوان نقل مقام کیا کیا جہاں اس نے چینی زبان کا دو سال کے لیے اسٹینفورڈ سینٹر میں مطالعہ کیا (جدید چینی زبان کے مطالعے کے لیے بین جامعاتی پروگرام[4] اس کے بعد وہ ریاستہائے متحدہ امریکا لوٹ آئے تاکہ کولمبیا یونیورسٹی میں سویڈن کے ماہر چینیات ہینس بیئیلینسٹین کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی مکمل کر سکیں۔ انہوں نے یہ تحقیقی سند 1969ء میں حاصل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: قدیم چین میں عوامی مفاد کے کام: شینگ اور اولین چاؤ کے جبری مزدوروں کا مطالعہ ("Public Work in Ancient China: A Study of Forced Labor in the Shang and Early Chou")۔

اپنی پی ایچ ڈی کی سند کے حصول کے ہی سال میں کائٹلی کو کیلیفورنیا یونیورسٹی، برکلے میں مشرقی ایشیائی تاریخ کے پروفیسر کے طور پر چنا گیا تھا۔ وہ ووڈبرج بِنگہم کی جگہ پر مقرر ہوئے (1901ء-1986ء1995ء میں امریکی ماہر چینیات ایڈورڈ شافیسے نے کہا کہ کائٹلی کے متعلق کہا کہ انہوں نے "ابتدائی چین کی اورییکل بون تقدس کی گہرائی اور وسعت کے تعارف کے لیے کسی اور ماہر محقق کے کام سے زیادہ تعاون کیا۔"[5] کائٹلی نے برکلے میں تعلیم اور کام 1998ء میں اپنی وظیفہ یابی تک جاری رکھا۔

کائٹلی پرامن انداز میں اپنے گھر پر نیند کی حالت میں 23 فروری 2017ء کو 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔[6]

اعزازات[ترمیم]

کتابیں[ترمیم]

  • Keightley, David N. (1969)۔ "Public Work in Ancient China: A Study of Forced Labor in the Shang and Early Chou"۔ Ph.D. dissertation (Columbia University)۔
  • ——— (1978). Sources of Shang History: The Oracle-Bone Inscriptions of Bronze Age China. Berkeley, Los Angeles: University of California Press.  Google Books۔
  • Keightley، David N.، مدیر۔ (1983). The Origins of Chinese Civilization. Berkeley, Los Angeles: University of California Press.  Google Books
  • ——— (1999). "The Shang: China's First Historical Dynasty". بہ Loewe، Michael؛ Shaughnessy، Edward. The Cambridge History of Ancient China. Cambridge: Cambridge University Press. صفحات 232–291. 
  • ——— (2000). The Ancestral Landscape: Time, Space, and Community in Late Shang China (ca. 1200-1045 B.C.). Berkeley: Institute of East Asian Studies, University of California, Berkeley. 
  • ——— (2014). These Bones Shall Rise Again: Selected Writings on Early China. Albany: SUNY Press. 

مضامین[ترمیم]

  • Keightley، David N. (1978). "The Religious Commitment: Shang Theology and the Genesis of Chinese Political Culture". History of Religions 17 (3/4): 211–225. doi:10.1086/462791. 
  • "Archaeology and History in Chinese Society." In W.W. Howells and Patricia Tuschitani, eds.، Paleoanthropology in the People's Republic of China. Washington, D.C.: National Academy of Sciences, 1977:123-129.
  • "On the Misuse of Ancient Chinese Inscriptions: An Astronomical Fantasy." History of Science 15 (1977):267-272.
  • "Space Travel in Bronze Age China?" 'The Skeptical Inquirer 3.2 (Winter 1978):58-63
  • "The Religious Commitment: Shang Theology and the Genesis of Chinese Political Culture." History of Religions 17 (1978):211-224
  • "The Bamboo Annals and Shang-Chou Chronology." Harvard journal of Asiatic Studies 38 (1978):423-438
  • "The Shang State as Seen in the Oracle-Bone Inscriptions." Early China 5 (1979–80):25-34
  • "The State," "Divination," "Religion," "The Economy," "Bronze Working," in Brian Hook, ed.، The Cambridge Encyclopedia of China. Cambridge: Cambridge University Press, 1982. pp. 163-65.
  • "The Late Shang State: When, Where, and What?" in Keighcley, ed.، The Origins of Chinese Civilization (1983):523-564
  • "Late Shang Divination: The Magico-Religious Legacy." In Henry Rosemont, Jr.، ed.، Explorations in Early Chinese Cosmologygy. Journal of the American Academy of Religion Studies 50.2 (1984): 11-34
  • "Reports from the Shang: A Correction and Some Speculations." Early China 9-10 (1983–1985):20-39, 47-54
  • "Main Trends in American Studies of Chinese History: Neolithic to Imperial Times," The History Teacher 19.4 (اگست 1986):527-543
  • "Archaeology and Mentality: The Making of China." Representations 18 (Spring 1987):91-128.
  • "Prehistory" and "The First Historical Dynasty: The Shang." The New Encyclopædia Britannica: Macropaedia (Chicago 1987) 16:62-67
  • Astrology and Cosmology in the Shang Oracle-Bone Inscriptions." Cosmos 3 (1987):36-40
  • "Shang Dynasty," in Ainslie T. Embree، ed.، Encyclopedia of Asian History (New York, Scribner's: 1988) 3:426-429
  • [Translator] Wang Ningsheng, "Yangshao Burial Customs and Social Organization: A Comment on the Theory of Yangshao Matrilineal Society and Its Methodology," Early China 11-12 (1985–87):Cr-32
  • "Shang Divination and Metaphysics," Philosophy East and Wl>st 38.4 (اکتوبر 1988):367-397
  • [Translator, with Igarashi Yoshikuni] Toyoda Hidashi and lnoo Hideyuki, "Shigaku zasshi: Summary of Japanese Scholarship," Early China 13 (1988): 297-327
  • "The Origins of Writing in China: Scripts and Cultural Contexts," in Wayne M. Senner, ed.، The Origins of Writing (University of Nebraska Press, 1989):171-202
  • "Comment" (in the Early China Forum on Qiu Xigui, "An Examination of Whether the Charges in Shang Oracle-Bone Inscriptions Are Questions")، Early China 14 (1989):138-46
  • '"There Was an Old Man of Changan.۔.': Limericks and the Teaching of Early Chinese History," The History Teacher 22.3 (May 1989):325-28.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. David N. Keightley, 1932-2017
  2. http://ieas.berkeley.edu/faculty/keightley.html
  3. Faculty | Department of History, UC Berkeley
  4. ^ ا ب Johnson (1995), p. vii.
  5. Shaughnessy (1995), p. 223.
  6. "David N. Keightley, 1932–2017". University of California, Berkeley. مؤرشف من الأصل في 7 جنوری 2019. اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2017. 

حوالہ شدہ کام[ترمیم]

  • Johnson، David (1995). "DNK – Some Recollections, In Celebration". Early China 20: vii-x. 
  • Shaughnessy، Edward (1995). "The Origin of an Yijing Line Statement". Early China 20: 223–240.