ڈیوڈ ہیئر (مخیر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈیوڈ ہیئر (مخیر)
Statue of David Hare.jpg
ہیئر اسکول میں رکھا ڈیوڈ ہیئر کا مجسمہ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1775[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکاٹ لینڈ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 جون 1842 (66–67 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ہیضہ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گھڑی ساز  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈیوڈ ہیئر (1775ء – 1842ء) اسکاٹ لینڈ کے ایک گھڑی ساز اور بنگالی مخیر تھے۔ انہوں نے کلکتہ میں متعدد تعلیمی ادارے قائم کیے جن میں ہندو کالج اور ہیئر اسکول شہرہ آفاق ہیں نیز پریزیڈنسی کالج کے قیام میں بھی بھرپور تعاون کیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ڈیوڈ ہیئر اسکاٹ لینڈ میں سنہ 1775ء میں پیدا ہوئے۔ گھڑی سازی کے میدان میں اپنی قسمت چمکانے کے لیے سنہ 1800ء میں ہندوستان آئے۔ یہاں ڈیوڈ کا کاروبار تو چل نکلا لیکن ان کا ذہن مقامی باشندوں کی بدحالی کی وجہ سے منتشر رہنے لگا۔ چنانچہ انہوں نے دوسروں کے برعکس یہیں رہنے اور ہندوستان کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ کوئی مبلغ نہیں تھے کہ لوگوں کو اپنی مذہب کی دعوت دیں۔ انہوں نے باشندگان ہند کے مذہبی تشخص کو علاحدہ رکھا اور محض ان کی دنیاوی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

ڈیوڈ کا احساس تھا کہ اس ملک کو انگریزی تعلیم کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس موضوع پر وہ اپنے گاہکوں سے گفتگو کیا کرتے۔ سنہ 1814ء میں راجا رام موہن رائے کلکتہ پہنچے اور جلد ہی دونوں دوست بن گئے۔ سنہ 1816ء میں ڈیوڈ از خود رام موہن رائے کی آتمی سبھا پہنچے۔ وہاں دونوں نے کلکتہ میں انگریزی اسکول کے قیام پر خوب غور و خوض کیا۔ بابو بدی ناتھ مکھرجی جو آتمی سبھا کے رکن تھے، انہوں نے بعد میں اس معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سر ہائیڈ ایسٹ سے گفتگو کی۔ ان مباحثوں اور ملاقاتوں کا نتیجہ ہندو کالج کے قیام (20 جنوری 1817ء) کی صورت میں ظاہر ہوا اور یہی کالج بعد میں پریزیڈنسی کالج کہلایا۔[2]

مزید برآں 6 مئی 1817ء کو قائم ہونے والی "اسکول بک سوسائٹی" کے قیام میں ڈیوڈ کا کلیدی کردار رہا۔ اس سوسائٹی نے بنگالی اور انگریزی دونوں زبانوں میں درسی کتابوں کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا۔ بنگالی نشاۃ ثانیہ میں اس سوسائٹی کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/76560 — بنام: David Hare — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Sivanath Sastri (1903). Ramtanu Lahiri O Tatkalin Bangasamaj. Calcutta. 

بیرونی روابط[ترمیم]