کادمبنی گانگولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کادمبنی گانگولی
(بنگالی میں: কাদম্বিনী গঙ্গোপাধ্যায় خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
کادمبنی گانگولی

معلومات شخصیت
پیدائش 18 جولائی 1862ء
بھاگلپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 اکتوبر 1923ء (عمر: 63)
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
شوہر دوارکاناتھ گانگولی
عملی زندگی
مادر علمی بیتھون کالج
کلکتہ یونیورسٹی
پیشہ ڈاکٹرنی، خواتین کی آزادی پسند

کادمبنی گانگولی یا کادمبنی بوس (بنگالی: কাদম্বিনী গাঙ্গুলি) ‏(18 جولائی 1861ء – 3 اکتوبر 1923ء) اور چندرمکھی باسو ہندوستان اور پوری برطانوی سلطنت سے پہلی خواتین گریجویٹ تھیں۔ نیز کادمبنی پہلی جنوب ایشیائی خاتون معالج بھی تھیں جنہوں نے مغربی طب کی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ آنند گوپال جوشی دوسرے ہندوستانی معالج تھے جنہوں نے اسی سال یعنی 1886ء میں ریاستہائے متحدہ میں گریجویشن مکمل کیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

کادمبنی بوس کی پیدائش 18 جولائی 1861ء کو برطانوی ہند کے صوبہ بہار کے شہر بھاگ پور میں ہوئی۔ ان کے والد برہمو مصلح برج کشور باسو تھے۔ ان کا آبائی وطن باریسال ضلع تھا جو اب بنگلہ دیش میں ہے۔ ان کے والد بھاگلپور اسکول کے صدر مدرس تھے۔ انہوں نے ابھے چرن ملک کے ساتھ مل کر بھاگلپور میں ترقی نسواں کی تحریک شروع کی تھی اور اسی سلسلہ میں سنہ 1863ء میں ایک زنانی تنظیم بھاگلپور مہیلا سمیتی قائم کی جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی تنظیم تھی۔

کادمبنی کی ابتدائی تعلیم بنگا مہیلا ودیالیہ میں ہوئی۔ سنہ 1878ء میں جب وہ بیتھون اسکول میں تھیں، انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی کا داخلہ امتحان پاس کیا، کادمبنی اس امتحان میں کامیاب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ وہ اور چندرمکھی باسو بیتھون اسکول کی پہلی خواتین گریجویٹ بنیں اور اسی طرح ملک اور سلطنت برطانیہ کی بھی اولین خواتین گریجویٹ کہلائیں۔[1]

ذاتی زندگی[ترمیم]

چونکہ کادمبنی آٹھ بچوں کی ماں تھیں اس لیے انہیں امور خانہ داری کے لیے خاصا وقت فارغ کرنا پڑتا تھا۔ وہ زردوزی میں مشاق تھیں۔

سماجی سرگرمیاں[ترمیم]

سنہ 1883ء میں انہوں نے آزادی نسواں کے علم بردار اور برہمو مصلح دوارکاناتھ گانگولی سے بیاہ کیا۔ بعد ازاں دونوں نے مل کر ہندوستانی اور خصوصاً مشرقی ہندوستانی خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لیے خوب کام کیے۔ کادمبنی سنہ 1889ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے پانچویں اجلاس میں شریک چھ خواتین میں سے ایک تھیں۔ تقسیم بنگال کے بعد سنہ 1906ء میں کلکتہ میں انہون نے خواتین کی کانفرنس بھی کروائی۔

سنہ 1908ء میں ستیہ گرہ سے اظہار یکجہتی کے لیے انہون نے کلکتہ میں ایک اجلاس طلب کیا اور اس کی صدارت کی۔ ستیہ گرہ تحریک نے ٹرانسوال، جنوبی افریقا میں مزدوروں کو متاثر کر رکھا تھا۔ کادمبنی نے ان مزدوروں کی مالی مدد کے لیے مخیرین کے ساتھ مل کر ایک اسوسی ایشن بھی قائم کیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Female students were admitted into Oxford University in 1879, one year after the admission of female students for undergraduate studies at the University of Calcutta "Archived copy"۔ مورخہ 18 اکتوبر 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 نومبر 2006۔. The tripos was opened to women at Cambridge only in 1881 [1].