کارپ
کارپ یا سیم ماہی (انگریزی: Carp) میٹھے پانی کی مچھلیوں کے سپرینیڈی (Cyprinidae) خاندان کے لیے بولا جانے والا عمومی نام ہے۔ یہ خاندان مچھلیوں کے عالمِ حیوانیہ (Fish fauna) میں غالب حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ ماہرین اس خاندان کو Carp family کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔
ان مچھلیوں میں اندرونی کان اور پیراکی پھکنے (Swim-bladder) کے درمیان چھوٹی چھوٹی چار ہڈیوں کی ایک ایک لڑی دونوں طرف ہوتی ہے۔ ان ہڈیوں کو ایک ماہر سمکیات پروفیسر ویبر (Weber) کے نام پر ویبرین اوسی کلز (Weberian ossicles) کا نام دیا گیا ہے۔ ایک لڑی کی ہڈیاں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں اور پیراکی پھکنے سے آواز کی لہریں اور پانی کے دباؤ میں اتار چڑھاؤ کے احساس کو اندرونی کان تک پہنچاتی ہیں۔ ماہرین میں اتفاق رائے ہے کہ کارپ مچھلیوں کی میٹھے پانیوں میں حکمرانی بڑی حد تک ویبرین اوسی کلز اور اس سے منسلکہ اعضا کی مرہون منت ہے۔
کارپ خاندان کی مچھلیوں میں تنوع (Diversity) کی وجہ سے اس خاندان کو کئی ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے کارپ نما مچھلیوں کی دنیا میں بے شمار انواع ملتی ہے۔ پاکستان میں یہ مچھلیاں بڑی اہم ہیں کیونکہ فش فارمنگ بڑی حد تک انہی پر منحصر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کارپ مچھلیوں کی 75 سے زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔ ان میں روہو، موری، تھیلا، فرنی، مہاشیر، برفانی کارپ مچھلیاں وغیرہ فشریز کے نقطۂ نگاہ سے بڑی اہم ہیں۔ ان کے علاوہ بعض کا رپ مچھلیاں دوسرے ملکوں سے درآمد شدہ ہیں مثلاً گلفام، چینی کارپ مچھلیاں وغیرہ۔ علاوہ ازیں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں زیبائش کے لیے پالی جاتی ہیں۔
کارپ پہلے صرف یورپ اور ایشیا میں پائی جاتی تھی۔ 1832ء میں اسے امریکا لے جایا گیا اور 1896ء تک یہ امریکا میں خوب پھیل گئی۔ اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ آلودہ پانی میں بھی بڑی آسانی سے رہ لیتی ہے۔ اب ان مچھلیوں کو ایک لحاظ سے مصیبت بھی سمجھا جانے لگا ہے کیونکہ یہ پانی میں اُگنے والے پودوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر دریاؤں اور ندیوں کا پانی گدلا کر دیتی ہیں۔ ایشیا، یورپ اور امریکا کے کچھ حصوں میں اسے غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔