کاغذ کے سپاہی (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کاغذ کے سپاہی پاکستان کے صحافی شاہنواز فاروقی کی پہلی تصنیف ہے، اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے یہ کتاب پہلی مرتبہ جنوری 2003 میں شائع کی۔ کتاب کے اب تک دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب کے ابتدائی صفحہ پر سلیم احمد کا یہ شعر تحریر ہے۔

غنیمِ وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے

میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

شاہنواز فاروقی چونکہ ایک شاعر اور ادیب بھی ہیں لہٰذا کتاب میں اکثر مقامات پر ان کے اپنے شعر بھی نظر آتے ہیں۔

کتاب پر شاہد ہاشمی کا تبصرہ[ترمیم]

شاہد ہاشمی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ “کاغذ کے سپاہی شاہنواز فاروقی کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو ان کی طالب علمی سے متصل بعد کے برسوں میں روزنامہ جسارت کراچی کی زینت بنے۔ کہنے کو تو یہ کالم تھے لکین پاکستان کی نظریاتی جہد سے سنجیدہ تعلق رکھنے والے قارئین کے فکر و نظر کو جلا بخشنے اور زاویہ نگاہ کو درست رکھنے کا ذریعہ بنے، ان کالموں میں اپنے وقت کے متعدد سیاسی و سماجی اور نظریاتی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ اس وقت کے گزرجانے کے بعد شاید کوئی بات (پس منظر سے ناواقف) قارئین کے لیے سمجھنی مشکل ہو، لیکن صاحب تصنیف نے حتی الامکان اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ صرف دیرپا مباحث پر مشتمل کالموں کو ہی کتاب کا حصہ بنایا جائے“۔

شاہنواز کی تحریروں میں یہ خوبی ہے کہ مسئلہ چاہے عارضی، وقتی اور سطحی ہو یا بحث سیاستِ دوراں پر ہو رہی ہو، معاملے کے نظریاتی رخوں سے پردہ ضرور ہٹاتے ہیں اور اسے سماجی، ثقافتی، تہذیبی، فکری اور (اگر گنجائش ہوتو) ایمانی حوالوں سے بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ اس لیے ان کے کالم عموما دیرپا زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔ اس ناچیز کی رائے یہ بھی ہے کہ شاہنواز جہاں خالص فکری و نظریاتی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں، وہاں وہ زیادہ بلند اور وقیع سطح پر کلام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاہنواز ابھی جوانِ رعنا اور گلِ تازہ ہیں۔ لیکن ان کے رنگ ڈھنگ بتا رہے ہیں کہ اگر یہ پروازِ فکر اور قلم کی جولانیاں جاری رہیں تو ان شاء اللہ ہمارے ہاں فکرِ اسلامی کی دنیا قحطِ عظیم کے الزام سے بچ جائے گی۔ زیر نظر کتاب تو شجرِ نو خیز کے پہلے موسم کا پھل ہے۔ اب تک اس پر کئی رتیں گزر چکی ہیں۔ مصنف کی اگلی کتابیں زیادہ پختگی و بلندی لیے جلوہ نما ہوں گی تو میرے اس تاثر اور امید کی سچائی کا ثبوت ہوں گی۔

میری دعائیں مصنف، قارئیں اور فکر اسلامی ۔۔۔۔۔ تینوں کے ساتھ ہیں۔

سید شاہد ہاشمی

نمونہ تحریر[ترمیم]

کتاب کی ابتدا ہی میں مصنف کے طرز تحریر اور علمی مرتبے کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں

کہتے ہیں صحافت جو پہلے مشن تھی، اب ایک کاروبار بن گئی ہے لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ انسان کاروبار میں بھی مشن تلاش کر سکتا ہے اور وہ چاہے تو مشن کو بھی کاروبار میں تبدیل کر سکتا ہے اور کر سکتا کیا ہے بہت سے لوگ دھڑلے سے ایسا کر رہے ہیں۔ چنانچہ صحافت کے مشن یا کاروبار ہونے کی بحث بھی اضافی ہے۔ اصل سوال انسان اور اس کے مقصد حیات ہی کا ہے۔ انسان اور اس کے مقصد حیات درست نہ ہوں تو پھر کچھ بھی درست نہیں ہو سکتا۔ صحافت کیا مذہب تک نہیں۔

کوئی بھی بزم ہو اٹھ کر سوال کرتے رہو[ترمیم]

کوئی بھی بزم ہو اٹھ کر سوال کرتے رہو نامی مضمون میں لکھتے ہیں:

زندگی ایک تغیر پزیر عمل ہے تو اس کا تعلق جواب سے زیادہ سوال کے ساتھ ہے۔ چونکہ جواب کا مطلب کسی بات کو محدود کرنا ہے اور سوال کا مطلب اسے لامحدود بنانا ہے۔ جواب اطمینان کا نام ہے اور سوال اضطراب کا۔ دنیا کے تمام بڑے لوگوں نے اضطراب کو علم کے حصول کے سلسلے میں بنیادی محرک اور ذریعہ کی حیثیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے آدمی کی فکر کا آغاز ایک سوال سے ہوتا ہے۔

سوال کی اہمیت کے پس منظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کے صرف وہی معاشرے طویل عمر اور استحکام حاصل کرتے ہیں جن میں سوال سے رغبت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے معاشرے روحِ کائنات کے ساتھ زیادہ دنوں تک ہم آہنگ رہتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں کائنات کے ہر عنصر کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے لیے کوئی شے بھی بے جواز نہیں ہوتی۔ شاید اس لیے کہ وہ معاشرے یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ سوال در سوال کے عمل میں ہر چیز کبھی نہ کبھی کارآمد بن جاتی ہے۔

جن معاشروں میں سوال کرنے کا عمل ترک کر دیا جاتا ہے ان معاشروں میں زندگی تبدیلی کے ک بجائے مسخ ہونے کے عمل کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایسے معاشرے مسخ ہونے کے عمل کو تبدیلی کا عمل سمجھ کر برسوں اور بسا اوقات صدیوں تک اپنے فطری ارتقا سے محروم رہتے ہیں۔