کالا تیتر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کالا تیتر

Black francolin

Black Francolin.jpg
حیثیت تحفظ
صنف بندی
مملکت: جانور
ہم نسل: حبلیات
جماعت: پرندہ
درجہ: Galliformes
خاندان: Phasianidae
ذیلی خاندان: تیتر
جنس: Francolinus
نوع: F. francolinus
سائنسی نام
Francolinus francolinus
(Linnaeus، 1766)

کالا تیتر جنگلی تیتر بھی کہلاتا ہے۔ کالا تیتر ایک چھوٹا پرندہ ہے جو 28 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔ اس کی چونچ موٹی ہوتی ہے۔ آسمانی رنگ کی ٹانگیں اور پتلی گہری کتھئ ہوتی ہے یہ جنس کی واحد نوع ہے۔ کالا تیتر جنسی طور پر الگ پہچانا جاتا ہے۔ نر کے چمکدار کالے پر ہوتے ہیں اور کالی چونچ ہوتی ہے۔ مادہ سرخی مائل بھوری ہوتی ہے۔ اس کا حلق کا منہ سفیدی مائل ہوتا ہے اور پیٹ اور چونچ گہرے مینک کے رنگ کے ہوتے ہیں۔ مادہ نار سے چوٹی ہوتی ہے۔ کالا تیترملائیشیا کے جزیرہ نما نشیبی بارانی جنگلوں، بورنیو اور سماٹرا جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے (ارشد صدیقی ٢٠١٥). پہلے یہ سنگاپور میں ہوتا تھا، اب وہاں اس کی نسل معدوم ہوچکی ہے۔ کیونکہ اس کے رہنے کی جگہ تباہ ہو رہی ہے، اس کی تھوڑی آبادی اور زیادہ شکار کی وجہ سے کچھ علاقوں میں کالے تیتر کو باعث ہدف مانا گیا ہے۔.پاکستان میں کالے تیتر کو پالا جاتا ہے اور ان کے بولنے کا مقابلہ کرایا جاتا ہے جسے چکری کہتے ہیں۔

(Black partridge) ۔(Black francolin) (Francolinus francolinus)

ترجمہ و تحریر ۔۔ زاہد آرائیں zp411566@gmail.com انسان بھی عجیب مخلوق ہے جس سے نفرت کرتا ہے اسے تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے، مگر کبھی کبھی جس سے محبت ہو اسے بھی برباد کر دیتا ہے۔ کالے تیتر کو بھی ہمارے یہاں کے لوگوں کی طرف سے ملنے والی شدید محبت اتنی مہنگی پڑی ہے کہ اب پرندوں کی یہ نسل زیادہ تر صرف انسانی قید خانوں یعنی پنجروں میں ہی پائی جاتی ہے اور ابھی تک تو کالے تیتر سے اس قدر شدید محبت کے کم ہونے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں نظر آ رہے۔

1874ع میں ایک انگریز فوجی، جاسوس، بلکہ ہر فن مولا رچرڈ فرانسس برٹن نے پورا صوبہ سندھ کراچی سے شکارپور تک اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھا تھا، وہ لکھتا ہے کہ سندھ کے ہر علاقے میں کالے تیتر کی بے تحاشہ آبادی تھی صبح شام ہر طرف سے تیتر کے بولنے کی آوازیں ماحول کو سحر انگیز بنائے رکھتی تھیں۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ سندھ دھرتی ہزاروں سالوں سے بیرونی حملہ آوروں کے نشانے پر رہتی آئی ہے، ماضی میں ہر سو سال میں تین سے چار بیرونی حملے بھی تاریخ میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ حملہ آور لشکر لوگوں کا سارا مال و اسباب لوٹ لے جاتے تھے اور جو نہیں لے جا سکتے تھے یعنی کھڑی فصلیں اور اناج کے گودام وغیرہ کو ان آگ لگا کر ختم کر دیتے تھے۔ ان حالات میں جو زندہ بچ جاتے تھے ان کے لیے اپنی زندگیاں دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے صرف جنگلی حیات ہی واحد سہارا ہوتا تھا۔ مگر اب گزشتہ صدی سے سندھ کی جنگلی حیات کو تاراج کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے یہاں کے قدرتی ماحول کو یہاں تک خطرناک حالات میں دھکیل دیا ہے کہ اب اگر خدا نہ کرے ماضی کی طرح یہاں کوئی تباہی آئی تو بچانے کے لیے ماضی کا واحد سہارا جنگلی حیات بھی تو اب موجود نہیں ہیں۔

کالا تیتر اپنی انتہائی منفرد آواز کے لیے مشہور تو ہے ہی مگر اس کا گوشت بھی مقامی اور بیرونی شکاریوں کے لیے فخر کی علامت بھی ہے کہ دوستوں کو فخر سے سر اونچا کر کے بتانا جو ہوتا کہ ہم نے کالے تیتر کا گوشت کھایا اور تعریف میں زمین و آسمان کے قلابوں کو ملانا، اس لیے کالے تیتر کی آواز کہیں بھی سنتے ہی بندوق لے کر شکاری حضرات نکل پڑتے ہیں اور تب تک ان کے اندر کا ظالم انسان چین سے نہیں بیٹھتا جب تک شکار کر کے تصویریں نہیں بنا لیتے۔۔۔ . بنیادی طور پر یہ جنگلی پرندہ سرسبز علاقوں سے لیکر پہاڑی اور ریتیلے علاقوں میں بھی آسانی سے رہ لیتا ہے۔ جنگلی تیتر کی خوراک میں زیادہ تر کیڑے مکڑے گھاس اور پودوں کے بیج وغیرہ شامل ہیں۔ یہ معصوم پرندہ انسانوں اور ان کی فصلوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔

سردیوں کا خاتمہ قریب آتے ہی ان میں افزائش نسل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور نر تیتر جوڑا بنانے کے لیے مادہ کو متاثر کرنے کے لیے اپنی تیز آواز میں بولنا شروع کرتے ہیں جو زیادہ تر صبح اور شام کے وقت ہوتا ہے۔ یہ زیادہ دور تک نہیں اڑ پاتے اور نہ ہی دور دراز ہجرت کرتے ہیں اسی لیے آسانی سے شکاریوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

تیتر اپنا گھونسلا زمین پر ہی گھنی گھاس، جھاڑیوں اور فصلوں میں بناتے ہیں۔ مادہ 10 سے 15 انڈے دیتی ہے جن میں سے 18 سے 20 دنوں میں بچے نکل آتے ہیں جو ماں کہ ساتھ ساتھ ہی رہتے اور خوراک تلاش کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ ربیع کی فصل کا موسم ہوتا ہے اس لیے جو کچھ تھوڑے بہت تیتر فصلوں میں گھونسلا بناتے ہیں وہ کسانوں کے کام آجاتے ہیں۔ تیتر کے بچے خطرہ محسوس کر کے کسی پتھر یا جھاڑی وغیرہ کی اوٹ میں چھپ کر بنا ہلے جلے چپ چاپ بیٹھ کر خطرہ ٹلنے کا انتظار کرتے ہیں مگر انسان انہیں ڈھونڈ کر پکڑ لیتے ہیں اور شوق یا پیسے کمانے کے لیے پالتے ہیں۔ اور ویسے بھی آج کل فصلوں میں دیے گئے تیتر کے انڈے زرعی مشینوں کی وجہ سے کم ہی بچ پاتے ہیں۔ کاش انسانوں میں یہ اجتماعی شعور بیدار ہو جائے کہ یہ زمین خدا کی ہے اور یہاں سب جانداروں کو آزادی سے رہنے کا حق خدا کی طرف سے عطا کیا گیا ہے جسے چھیننا اشرف المخلوقات کے لیے کوئی عزت و ثواب کا کام نہیں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بین الاقوامی انجمن برائے پرندہ۔ "Francolinus francolinus"۔ لال فہرست برائے خطرہ زدہ جاندار نسخہ 2013.2۔ بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2013۔