کالا پانی تواریخ عجیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

۔اردو کی اولین خود نوشت سوانح عمری ہے جسے مولانا محمد جعفر تھانیسری نے اسیری کے دنوں میں لکھا اور اسے  محمد حامد سراج نے موجوادہ اشاعت کے لیے مرتب کیا اور  بک کارنر نے فروری 2018 میں شائع کیا۔کالا پانی کا پہلا حصہ اپریل 1879 اور دوسرا 1885 میں لکھا گیا تھا۔

پہلا حصہ: تاریخ عجیب

دوسرا حصہ: تواریخ عجیب

کالا پانی کے نام سے ایک ہی جلد میں یکجا کی گئی۔

یہ کتاب  مولانا محمد جعفر تھانیسری  کی جلا وطنی کی داستان ہے ۔جس میں انھوں نے اپنی گرفتاری ، پھانسی کی سزا ، پھانسی کی قید سے تبدیلی  ، پابند سلاسل شب و روز اور جلا وطنی کی داستانیں رقم کی ہیں۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی ایک شخص کی خود نوشت نہیں بلکہ یہ کتاب ایمانیات کے درج میں ترتیب پانے کے لائق ہے۔ ان کا رب کریم پر ایمان اتنا پختہ اور ؑیر متززل تھا کہ اس سفر میں کہیں پاؤں نہیں ڈگمائے۔وہ جس ابت میں مبتلا ہوےئ رب کیم نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انجھیں اس مشکل سے نکا ل لیا۔

مولا نا نے اپنی خود نوشت میں رب کریم کے انعام اور  شان کریمی کا ذکر تسلسل سے کیا ہے ۔یہ خود نوشت قاری کے دل میں موجود ایمان   پربرگ وبار لاتی ہے۔اور قلب پر اس کے روحانی ثمرات واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ عالم با عمل کی تحریر بھی اس کی صحبت کی مثل ہوتی ہے۔ جس کی خوشبو بھی دل و روح میں سرایت کرتی ہے۔

مولانا محمد جعفر کی زندگی[ترمیم]

مولانا محمد جعفر ضلع انبالہ کے قصبے تھانیسر میں 1838 میں پیدا ہوئے ۔دس سال تک والد کی وفات کی وجہ سے کوئی تعلیم  حاصل نہیں کرسکے لیکن جیسے ہی شعور آیا تعلیم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ قرآن کریم کے تین پارے حفظ کرنے اور سینکڑوں احادیث مبارکہ قلب میں محفوظ  کرلینے والے مولانا صاحب نے عرائض نویسی میں شروع کی اور اس میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ ماہر وکلا بھی ان سے رجوع کرنے لگے ۔

11 دسمبر 1863 کو گرفتار ہوئے، اسی دن فرار ہوئے اور اگلے دن پھر قید ہو کر جیل پہنچا دیے گئے۔

مولانا جعفر کو 2 مئی 1864 کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جسے بدل کر قید اور جلا وطنی کی سزا سنائی گئی ۔

جزائر انڈمان میں جلاوطنی کا تمام عرصہ گزارا اور وہاں کے حالات مفصل اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں۔

30 دسمبر 1881 کو رہائی کا فرمان آیا اور 22 جنوری 1883 میں حقیقی رہائی عمل میں آئی۔

آزادی کا سفر[ترمیم]

مولانا کا آزادی کے سفر میں برداشت کی جانے والی صعوبتوں کا ذکر اس کتاب میں بہت عمدگی سے کیا گیا ہے۔

کالے پانی کی سزا اور جزائر انڈمان  کی گھاٹیوں میں گزرے اٹھارہ سال کے شب و روز  چشم فلک  میں اتر تے محسوس ہوتے ہیں ۔اٹھارہ سالہ جلا وطنی کی داستان اور تاریخ کی سیر کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔

کتاب کا اصل نسخہ اور اشاعت کے مسائل[ترمیم]

کتاب کے اصل نسخے کے متعلق معلومات بک کارنر کے سال 2018 کے ایڈیشن سے پہلے مبہم اور غیر یقینی رہی ہیں۔

بک کارنر کا سال 2018 کا ایڈیشن   صحیح ترین نسخہ ہے۔ اس کے لیے جو تحقیق ہوئی اس کے مطابق پہلا ایڈیشن مفتی انتظام اللہ شہابی کے ذخیرہ علمی سے لیا گیا جو آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کراچی کی لائبریری میں موجود ہے اور دوسرا ایڈیشن پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی کراچی کے کتب خانے سے لیا گیا۔ ڈاکٹر محمد ایوب کی تحقیق اور اصل متن کے بعد ادارہ یادگار غالب [1] نے یہ کتاب 2015 میں شائع کی جس کی بنیاد پر تازہ ایڈیشن جہلم بک کارنر نے چھاپا۔ اسے اردو کی پہلی خود نوشت سوانح عمری اور سیاسی خود نوشت بھی قرار دیا جاتا ہے

اہل حدیث ٹرسٹ والوںنے جو نسخہ چھاپا وہ اصل نسخہ نہیں تھا اور اس میں ایسے اضافے تھے جو قرین عقل ہی نہیں، علامہ اقبال کے شعر شامل ہیں نسخے میں جبکہ اقبال کی عمر اس وقت بمشکل آٹھ نو سال تھی۔ اسی طرح مولانا محمد علی جوہر کا شعر بھی موجود ہے جو تاریخی اعتبار سے غلط ہے [2]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   سلسلہ مطبوعات ادارہ یادگار غالب (تواریخ عجیب المعروف بہ کالا پانی )، مرتب ڈاکٹر محمد ایوب قادری ، 2015
  2. راشد اشرف کی تحقیق اردو ویب محفل پر