کالا پانی (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

}}

کالا پانییہ ایک قیدی کی خود نوشت سوانح عمری ہے جو جزائر انڈمان کے قید خانے کے حالات پر مشتمل ہے۔

سن 1884ء میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والی اس کتاب کا مکمل نام تواریخِ عجیب المعروف بہ کالا پانی ہے۔ برطانیہ کے خلاف 'غداری' کے الزامات کے تحت بیس سال تک انڈمان جزائر میں قید رہنے کے بعد جنوری، 1866ء میں واپس لوٹنے والے جعفر تھانیسری (1905-1838) نے اسے تحریر کیا تھا۔ حقیقی معنوں میں اسے ایک مکمل خود نوشت سوانح عمری تو نہیں قرار دے سکتے، لیکن یہ ان جزائر پر زندگی گزارنے کے بارے میں پہلا ذاتی تجربہ تھا، جس کی مدد سے 1857ء کی جنگ آزادی کا سیاسی و تاریخی پس منظر معلوم ہوتا ہے۔ یہ اردو زبان کی ابتدائی خود نوشت سوانح عمریوں میں سے ایک ہے اور پڑھنے میں انتہائی دلچسپ۔ یہ مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ کراچی نے شائع کیا لاہور کی سنگ میل پبلیکیشنز نے اسے دوبارہ شائع کیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]