کالی کرشن متر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کالی کرشن متر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1822  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 2 اگست 1891 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ انسان دوست،  معلم،  مصنف،  اکیڈمک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

کالی کرشن متر (1822ء – 2 اگست 1891ء) بنگال کے ایک مخیر، معلم اور مصنف تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں سب سے پہلا غیر سرکاری نسواں اسکول قائم کیا تھا۔[1]

ذاتی زندگی[ترمیم]

کالی کرشن متر کی پیدائش برطانوی ہند میں کلکتہ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام شیوناراین متر تھا۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم ہیئر اسکول میں حاصل کی اور بعد ازاں پریزیڈنسی کالج میں داخلہ لیا لیکن معاشی مجبوریوں کی بنا پر انہیں اپنا تعلیمی سلسلہ موقوف کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ باراسات میں واقع اپنی نانیہال میں قیام پزیر رہے۔ ان کے بڑے بھائی نوین کرشن متر ایک معروف معالج تھے۔[1][2]

سماجی زندگی[ترمیم]

کالی کرشن متر بنگال کے اصلاح سماج اقدامات اور ترقی پسند تعلیمی تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ سنہ 1847ء میں انہوں نے اپنے بھائی نوین کرشن اور ماہر تعلیم پیارے چرن سرکار کے ساتھ مل کر باراسات میں ایک نجی نسواں اسکول قائم کیا۔[3] ہندو اشرافیہ کے خاندانوں کی بچیوں کے لیے یہ پہلا اسکول تھا جسے ایک ہندوستانی نے قائم کیا تھا۔[4] ابتدا میں اسکول میں صرف دو بچیاں تھیں جن میں سے ایک نوین کرشن کی بیٹی کنتی بالا تھی۔ اس وقت کے ہندو زمین داروں اور قدامت پرست سماج اس طرح کی کوششوں کے سخت مخالف تھے تاہم ایشور چندر ودیا ساگر اور جان ایلیٹ ڈرنک واٹر بیتھون نے کالی کرشن کی اس عظیم کوشش کو خون سراہا اور ان کی مدد کی۔[5] بعد مں اس اسکول کا نام کالی کرشن گرلز ہائی اسکول کر دیا گیا۔ حتی کہ سنہ 1849ء میں جب بیتھون کاؤنسل آف ایجوکیشن کے صدر کی حیثیت سے وہاں گئے تو وہ بھی خاصے متاثر ہوئے اور انہیں تحریک ملی۔[6] کالی کرشن نے باراسات میں سائنسی زراعت، شجرکاری اور تحقیق کے لیے 150 بیگھہ زمین کا انتظام کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے انگلستان سے جدید آلات منگوائے۔[1][7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Anjali Basu Vol II۔ Sansad Bangali Charitabhidhan۔ Kolkata: Sahitya Sansad۔ صفحہ 78۔ آئی ایس بی این 81-86806-99-7۔
  2. Subal Chandra Mitra Chapter 15۔ "Isvar Chandra Vidyasagar, a story of his life and work"۔ en.wikisource.org۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 21, 2018۔
  3. "Barasat Government College"۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 21, 2018۔
  4. Chiranjit Roy۔ "Madanmohan Tarkalankar and Women Education in the First Half of 19th Century Bengal" (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 21, 2018۔
  5. Ishvarchandra Vidyasagar۔ "Hindu Widow Marriage"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 21, 2018۔
  6. Bagal, Jogesh C., History of The Bethune School and College in the Bethune School and College Centenary Volume, 1849–1949.
  7. Projit Bihari Mukharji۔ "Nationalizing the Body: The Medical Market, Print and Daktari Medicine"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 21, 2018۔