مندرجات کا رخ کریں

کال مکھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

کال مکھ (ہندی: कालमुख، نقل حرفی: کال مُکھ) قرون وسطیٰ میں دکن کا ایک شیوائی فرقہ تھا، جن کا شمار ہندوستان کے اولین پیشہ ور راہبوں میں ہوتا ہے۔ ان کی قدیم ترین خانقاہیں میسور میں تعمیر کی گئی تھیں۔[1]

آغاز اور وجہ تسمیہ

[ترمیم]

کال مکھ فرقے کے بارے میں معلومات مندروں کے عطیات سے متعلق کتبوں اور عموماً ان کے مخالفین کے تحریر کردہ متون کی صورت میں ملتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاشوپت فرقے ہی کی ایک شاخ تھے جن کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب ہیں۔[2] ان کا نام "کال مکھ" سے ماخوذ ہے جس کے کئی معانی ہیں، یعنی "وقت کا سامنا کرنے والا"، "موت کا سامنا کرنے والا" یا "سیاہ چہرہ"۔ چونکہ "ینتروں" کا استعمال کرتے ہوئے ان کی رسومات زیادہ تر وقت (زمان) پر مبنی تھیں، اس لیے ہم وثوق سے یہ فرض کر سکتے ہیں کہ اس نام کا مطلب آخر الذکر کی بجائے اول الذکر دو معانی میں سے کوئی ایک رہا ہوگا۔[3] "پران" اور اس نوع کے دیگر قدیم متون سے ملنے والے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ کال مکھ دوسرے ناموں سے بھی پہچانے جاتے تھے، مثلاً "لگُڈ"، "لکول" اور "نکول"۔ نیز انھیں سیاہ چہرے کے ہم معنی دیگر الفاظ مثلاً "کال آنن" سے بھی یاد کیا گیا ہے۔[4]

کال مکھوں کے رسوخ کا دور شیو مت کے آگم متون کی مقبولیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور ترومندرم میں انھیں ان چھ فکری مکاتب میں شمار کیا گیا ہے جو آگموں سے ابھرے تھے۔[ا] تاہم ان کا مکتبِ فکر خالصتاً آگموں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ شروتی سے بھی ان کا تعلق تھا اور ویشیشک و نیائے کے دبستانوں میں بھی وہ مہارت رکھتے تھے۔[3] کال مکھ خود بھی کم از کم دو گروہوں میں منقسم تھے، جنھیں "شکتی پریشد" اور "سمہا پریشد" کہا جاتا تھا۔ ان میں سے اول الذکر وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے تھے جبکہ ثانی الذکر زیادہ تر دھارواڑ اور شموگا کے اضلاع کے ارد گرد تک محدود تھے۔[5]

تاریخ

[ترمیم]

رامیندر ناتھ نندی کے مطابق کال مکھ فرقے کا پہلا معلوم ریکارڈ 807ء میں راشٹر کوٹ خاندان کی جانب سے جاری کردہ ایک عطیہ ہے، اگرچہ وہ آٹھویں صدی عیسوی میں میسور میں ایک کال مکھ خانقاہ کے وجود کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔[6] دوسرے حوالوں میں 870ء میں سری نواس پور میں ایک کال مکھ مندر، 947ء میں چتردرگ میں ایک کالج کے ساتھ دوسرا مندر اور 977ء تک ناجانگڑھ میں ایک خانقاہ اور مندر کا اندراج ملتا ہے۔ ان کا بڑا مرکز بلی گاوی میں تھا اور دوسرے مندروں کے علاوہ وجئے واڑہ میں بھی ایک مندر کے شواہد ملتے ہيں۔[7] ان ریکارڈ شدہ آثار میں تقریباً دو صدیوں کا وقفہ ہے جس کے بعد وہ وجے نگر کے عہد تک اچھی طرح دستاویزی صورت میں موجود ہیں۔[8]

ویشنوائی آچاریہ رامانج نے اپنی تصنیف سری بھاشیہ میں غالباً کال مکھوں کو کاپالکوں کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا ہے۔ اپنی تصنیف میں انھوں نے ذکر کیا ہے کہ وہ انسانی کھوپڑی میں کھانا کھاتے اور شراب رکھتے تھے۔ اس طرح کی رسومات کاپالکوں کے ہاں عام تھیں لیکن کال مکھوں کے معمولات کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ شاید رامانج کی تحریروں پر ان کے ذاتی تجربات کا رنگ غالب ہوگا کیونکہ وہ دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور کال مکھوں اور دیگر شیو نوازوں کی وجہ سے انھیں اپنے آبائی وطن تمل ناڈو سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ یا شاید اس کے پس پردہ کال مکھوں کی اس وقت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پیدا ہونے والے خوف یا حسد کے نتیجے میں انھیں بدنام کرنے کی خواہش رہی ہو۔[9][10] نندی لکھتے ہیں کہ

کال مکھ سماجی اور مذہبی اصلاح پسندوں کا ایک شیو نواز فرقہ تھا جس کی مضبوط سماجی بنیاد تھی، جبکہ کاپالک محض اپنی ذات کے اسیروں کا ایک گروہ تھا جو انسانی بستیوں سے دور شمشان گھاٹ میں عجیب و غریب اور بھیانک رسومات میں مگن رہتا۔[11]

بہرحال کئی برسوں تک آر جی بھنڈارکر وغیرہ محققین اس اعتراف کے باوجود کہ رامانج کے تحریری بیانات مبہم ہیں، کال مکھوں کو کاپالکوں سے زیادہ انتہا پسند فرقہ سمجھتے رہے۔ ڈیوڈ لورینزن کا کہنا ہے کہ یہ غلطی رامانج کے جانبدارانہ بیانات کو ان کتباتی شواہد پر فوقیت دینے کی وجہ سے ہوئی جو بھنڈارکر اور دیگر محققین کے تجزیے کے وقت تک جمع کیے جا چکے تھے۔[12]

حوالہ جات

[ترمیم]

حواشی

  1. ترومندرم کی تاریخ متنازع ہے کیونکہ ترومولر، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اسے تحریر کیا، کی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

حوالہ جات

  1. Nandi 1973, p. 85
  2. Lorenzen 1972, pp. xi-xii
  3. ^ ا ب Nandi 1973, pp. 83-85
  4. Lorenzen 1972, p. 10
  5. Lorenzen 1972, p. 97
  6. Nandi 1973, pp. 76, 85
  7. Nandi 1973, pp. 4-9
  8. Nandi 1973, pp. 85, 87
  9. Nandi 1973, pp. 85-87
  10. Lorenzen 1972, pp. 5-6
  11. Nandi 1973, p. 86
  12. Lorenzen 1972, p. xii

کتابیات

  • David N. Lorenzen (1972ء)، Kapalikas and Kalamukhas: Two Lost Saivite Sects، University of California Press، ISBN:978-0-52001-842-6
  • Ramendra Nath Nandi (1973ء)، Religious Institutions and Cults in the Deccan, c. A.D. 600-A.D. 1000، Motilal Banarsidass، ISBN:978-0-84260-564-9