کامرہ کلاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ین الاقوامی شہرت یافتہ گاؤں کامرہ ضلع اٹک کے صدر مقام اٹک شہر سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس اسی کے نام سے منسوب ہے۔ جو پاک فضائیہ کی دفاعی پیداوارکا ایک اہم اور بڑا کارخانہ ہے۔ جہاں پرانے طیاروں کی مرمت کے علاوہ نئے طیارے بھی بنائے جاتے ہیں۔۔

کامرہ کلاں ایک زرعی گاؤں ہے۔ اس کے شمال، مغرب اور جنوب مغرب کی زمینوں کو رھٹ والے کنوؤں کے ذریعے سیراب کیا جاتا تھا۔ شمال کی جانب کے اکثر رھٹ والے کنوئیں تو جنگ عظیم دوم کے دوران برطانوی حکومت نے ائرپورٹ میں شامل کر لئے۔

یہ ائرپورٹ جنگ عظیم دوم کے دوران بڑا مصروف اڈہ تھا۔ بعد میں اس کی کچھ اراضی مالکان کو واگزار کر دی گئی تاھم ائرپورٹ قائم رھا۔ سن ستّر کی دہائی میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس اسی پرانے ائرپورٹ کی اہمیت کو مدّنظر رکھ کر قائم کیا گیا۔ اور اب یہ ائرپورٹ پاک فضائیہ کا ایک اہم مستقر ہے۔گاؤں کے لوگ اس ائرپورٹ کو گراؤنڈ کہتے ہیں۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کچھ کنوئیں اس سابق ائرپورٹ (گراؤنڈ)کے اندر چلے گئے،کچھ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے ختم ھو گئے اور باقی ایروناٹیکل کمپلکس میں چلے گئے۔ اب گاؤں کی جنوب میں بارانی اراضی پر مونگ پھلی اور گندم کی کاشت ھوتی ہے۔

پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلکس نے انگریزی کے حرف 'سی' کی صورت میں تین اطراف سے اس گاؤں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ اُس کی صورت کچھ یوں ہے کہ شمال میں تو مذکورہ بالا ائرپورٹ ہے، مشرق میں جہاز سازی کے کارخانے ہیں جب کہ جنوب میں غازی کے مقام پر دریائے سندھ سے نکلنے والی نہر بروٹھہ میں قائم ھائیڈرو الیکٹرک پاور اسٹیشن کی جانب بڑی شان سے رواں دواں ہے۔ نہر کے بائیں کنارے پر ایک پہاڑی ہے جسے مقامی لوگ 'پڑی' کہتے ہیں۔ 'پڑی' یا 'پڑ' سے بتھر مراد لیا جاتا ہے۔ اس پہاڑی کے پیچھے پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس کا اسپتال،سول آبادی اور سکول وغیرہ تعمیر کئے گئے ہیں۔

کامرہ کلاں کے مغرب میں ٹھیکریاں نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ کامرہ کلاں سے مغرب کی جانب جانے والی سڑک اسی ٹھیکریاں گاؤں سے گذر کر مدروھٹہ اور گوندل کو جاتی ہے۔ گوندل جی ٹی روڈ پر پاکستان میں مویشیوں کی مشہوراور بڑی منڈی ہے۔

مشرق میں کامرہ کلاں سے تقریبا متصل دو چھوٹے چھوٹے گاؤں 'پنڈا' اور ' چھوٹا کامرہ' یا 'کامرہ خورد' واقع ہیں، محکمہ مال کے کاغذات میں ان دونوں کا مشترکہ نام " پنڈسلیمان مکھن" ہے۔ قریب تر ھونے کے باعث کامرہ کلاں،کامرہ خورد اور "پنڈا" ایک ہی آبادی سمجھے جاتے ہیں، تاھم زبان یا بولی میں تھوڑا سا فرق ہے پنڈا اور کامرہ خورد والے "میرا" ،"میری" بولتے ہیں جبکہ کامرہ کلاں والے "میڈا" ، "میڈی" بولتے ہیں۔

کامرہ کلاں میں مختلف قومیں بستی ہیں۔سیّد،گوجر،اعوان،ملیار،جٹ،بیلی،کمہار،بافندے،نائی،موچی اور لوہار،ترکھان جبکہ ایک آدھ گھرانہ شرال،کیمپر، کھٹر، جھمٹ اور تریڑ وغیرہ کا بھی ہے۔ البتہ سیّد اور گوجر اس گاؤں کےقدیم اور بڑے قبیلے ہیں۔ گاؤں کی ابتداء اونچے ٹیلے سے ھوئی اس لئے سادات کی قدیم مسجد سب سے بلند مقام پر واقع ہے۔ ۔ گاؤں کی قدیم مساجد مین مسجد سادات، مسجد ملیاراں (میر پور حسین)،مسجد کسران کوانہہ والی مسجد،مسجد لوہاراں اور ڈھوک والی مسجد ہیں۔ اب آبادی کے پھیلنے کے ساتھ مساجد میں اضافہ ھورھا ہے۔

کامرہ کلاں ایک پرانا اور تاریخی گاؤں ہے۔ یہ مغرب کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کی گذرگاہ رھا ہے۔ اس کی قدامت اور تاریخی اہمیت کا پتہ اس کے ایک درجن سے زیادہ قبرستانوں سے چلتا ہے۔ ان میں دو تین بڑے قبرستان تو ایسے ہیں جن کی قبریں زمین کے ساتھ ھموار اور سپاٹ ھو چکی ہیں۔تاھم بڑی بڑی الواح مزار اب بھی باقی ہیں۔ان مقابر سے نکلنے والی انسانی ہڈیاں بھی اس کی قدامت کی گواہ ہیں۔ "پنڈا" گاؤں میں مکانوں وغیرہ کے لئے کھدائی کے دوران پرانے زمانے کے برتن اور پتھر وغیرہ بھی ملے ہیں۔ ان پتھروں میں سے ایک کالے رنگ کا پتھر جو قریبی پہاڑی "پڑی" کا ہے۔ اس پر کوئی قدیم زبان کندہ تھی۔ جسے اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ٹیکسلا کے عجائب گھر کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا اور وہ عجائب گھر میں اس علاقہ کی تاریخی یادگار کے طور پر بڑے اھتمام سے رکھا ھوا ہے۔ سیّاحوں اور تاریخی نوادرات کے محّۡقین کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔

کامرہ کلاں کی عام آبادی کا پیشہ زراعت تھا ےا وہ محنت مزدوری کر کے کماتے تھے۔ سادات میں سے بعض لوگ بھارت کے مشہور فولاد کے کارخانے میں کام کرنے کے لئے ٹاٹا نگر جمشید پور میں کام کرتے رھے۔جمشید پور کو شاید کالی مٹی بھی کہتے ہیں اس لیئے گاؤں کے ان سادات کی پہچان" کالی مٹی والے " پڑ گئی ہے۔ گاؤں کے کئی پیشہ ور مثلا موچی وغیرہ گاؤں سے بہتر روزگار کی تلاش میں دوسرے مقامات پر منتقل ھوچکے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں نے تعلیم حاصل کر کے اور دوسرے ھنر سیکھ کر نئے پیشوں کو اپنا لیا ہے۔

گاؤں میں شروع میں لڑکوں کی تعلیم کے لئے ایک پرائمری سکول تھا۔ جبکہ لڑکیون کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا۔ طلبہ قریبی گاؤں کےورنیکلرمڈل سکول شمس آباد جاتے تھے۔ ۱۹۵۱ میں جب گاؤں کے پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ دیا گیاتو شمس آباد کے علاوہ عباسیہ، کالو خورد، گوندل، مدروھٹہ، حاجی شاہ اور ٹھیکریاں کے طالب علم کامرہ آ کر علم کی پیاس بجھانے لگے۔اس وقت سکول کی عمارت صرف دو کمروں اور ایک دفتر پر مشتمل تھی بعد میں اس میں اضافہ کیا گیا۔ اب لڑکوں کا یہ سکول دوسری جگہ منتقل ھو چکا ہے اور اس کی جگہ لڑکیوں کا ھائی سکول کام کر رھا ہے۔اس وقت گاؤں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے الگ الگ سرکاری پرائمری اور ھائی سکولوں کے علاوہ پرائیویٹ سکول بھی فروغ تعلیم میں مصروف ہیں۔

تعلیم کے حصول اور فروغ سے گاؤں کے لوگ مختلف شعبہ ھائے زندگی میں نمایاں مقام پر فائز ھو چکے ہیں۔ ان میں فوجی آفیسر، ڈاکٹر، انجنئیر، پرفیسر، پرنسپل، ھیڈماسٹر،وکلاء اور ڈینٹل سرجن وغیرہ شامل ہیں۔