کاٹل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کاٹل سوریا ونشی راجپوت قوم کی ایک شاخ ہے ۔

تعارف[ترمیم]

کاٹل قوم ہندوستان اور پاکستان میں موجود پنجاب کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس قبیلے کے 360 گاؤں آباد ہیں، جن میں سے 100 کے قریب ضلع نارووال اور گرداس پور میں پائے جاتے ہیں۔ اور جموں میں ان کی یاددہانیاں موجود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو سوریا ونشی ظاہر کرتے ہیں . یہ لوگ کھوکھروں سے شادی نہیں کرتے ۔

مذاہب[ترمیم]

مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں کاٹل، راؤ، بلیل، مال، نہالہ ذات کے لوگ اسلام میں منتقل ہو گئے۔ اور تحصیل شکرگڑھ کے کاٹل مسلمان ہیں مگر جموں اور ہندوستان کے کاٹل ہندو ہیں۔

مختلف روایات کاٹلوں کے بارے میں[ترمیم]

1- روایت میں ہے کہ راجا تیڑو، کرن، سومپال، برشپت، اویگیدھیتا، دیدھدتا، مہنہتا، بیس پال، رتن پال، اٹر، راجا ساہسرانو، راجا سنتیل، راجہ کیرٹ، راجا کوڑ، راجا چت، راجا گورا، راجا بھرت، راجا بل، راجا شیکھا اور اس کا بیٹا راجا جیسرتھ۔ انہیں خیری پور سے غزنہ کے محمد نے نکال کر جمو میں منگلہ دیوی کے مقام پر بسایا۔ ان میں سے ایک راجہ کیرٹ کی اولاد ضلع سامبا گاؤں کے قریب جنگل میں ڈکیتی کرنے لگی۔ انہوں نے ضلع سامبا گاؤں کی ایک لڑکی کو اغواء کر لیا۔ اس لڑکی کے بھائیوں نے انہیں تحصیل شکرگڑھ کی بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی زمین دے دی۔ انہوں نے اس جگہ پر بسیرا کیا اور اس جگہ کو کاٹل کا نام دیا ا ن کی نسلوں کو آج کل کاٹل کہا جاتا ہے۔

2- روایت میں ہے کہ مغلوں کے دور میں راجپوتوں کا ایک راجا تھا جسے مغلوں سے شکست ہوئی تو مغلوں نے انہیں ان کے علاقے سے نکال کر جموں کے علاقے میں بسایا۔ اور ان دنوں شکرگڑھ اور جموں کے درمیان ایک جنگل ہوا کرتا تھا۔ اس راجا کو کہا گیا کہ صبح سے لیکر شام تک تم اس جنگل کے جتنے علاقے کو تہ کر لو گے اتنا علاقہ تمہارے حوالے کر دیا جائیگا۔ اس راجا نے ایسا ہی کیا اور جو علاقہ بھی حاصل کیا اس کا نام کاٹل رکھ دیا جو پنجابی زبان کے لفظ کٹلی جس کے معنی بیابان علاقہ کے ہیں رکھ دیا۔ آج کل اس راجا کی نسلوں جو اس علاقے میں بستی ہیں کاٹل کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔