مندرجات کا رخ کریں

کاکروچ جنتا پارٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کاکروچ جنتا پارٹی
مخففسی جے پی
صدرابھیجیت دیپکے
ترجمان
  • سورو داس
  • آشوتوش رانکا
  • آفرین نواز
  • دیپک بالیان
  • رتنا سنگھ
  • ویشنوی گوڑ
بانیابھیجیت دیپکے
نعرہسست اور بے روزگاروں کی آواز
تاسیس16 مئی 2026؛ 2 مہینہ قبل (2026-05-16)
ای سی آئی حیثیتغیر رجسٹرڈ
انتخابی نشان
ویب سائٹ
cockroachjantaparty.org

کاکروچ جنتا پارٹی[1] (انگریزی نام: Cockroach Janta Party، مختصراً CJP بمعنی ”لال بیگ عوامی پارٹی“) بھارت کی طنزیہ سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد 16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے ڈالی۔ وہ سیاسی ابلاغی تزویر کار ہیں جو اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ یہ تحریک 15 مئی 2026ء کو بھارت کے موجودہ چیف جسٹس سوریا کانت کے اس بیان کے ردِ عمل میں سامنے آئی جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو ”کاکروچ“ اور ”سماج کے طفیلیے“ قرار دیا تھا۔[2] قیام کے چند ہی دنوں میں اس تحریک نے 350،000 سے زائد اندراجات اور انسٹاگرام پر 20 ملین سے زیادہ متابعین حاصل کر لیے۔[3] اس تحریک نے زمینی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جہاں رضاکار لال بیگ کے بھیس میں احتجاجی مظاہروں اور صفائی مہمات میں شریک ہوئے۔[2]

اگرچہ یہ تحریک بھارتیہ انتخابی کمیشن میں رجسٹر نہیں ہے تاہم یہ بھارتی نوجوانوں کو درپیش وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کے خلاف سرگرم ہے جن میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری کی بلند شرح، ملک گیر امتحانی نظام کی خامیاں، دولت کا ارتکاز اور عدالتی بدعنوانی شامل ہیں۔

تاریخ

[ترمیم]

15 مئی 2026ء کو بھارتی عدالت عظمیٰ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وہاں کے چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ

بعض بے روزگار نوجوان کاکروچ کے مانند ہیں اور معاشرے کے طفیلی ہیں۔

جس کے بعد نوجوانوں میں ناراضی اور مایوسی پھیل گئی اور سوشل ذرائع پر یہ طنز ایک مہم اور تحریک بنتا گیا۔ اگلے روز 26 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے ایکس اور انسٹا گرام جیسے سوشل ذرائع پر کاکروچ جنتا پارٹی نام سے کھاتہ بنایا، نیز اس نام سے پارٹی کے قیام کا اعلان کیا اور اسے تمام کاکروچوں کا پلیٹ فارم قرار دیا۔[4] اسی دن پارٹی کے نام سے باضابطہ ویب گاہ بھی بنائی گئی۔ چند ہی دنوں میں اس تحریک اور پارٹی کے ساتھ کروڑوں افراد کے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور اس کو ایک ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔

نظریات

[ترمیم]

کاکروچ جنتا پارٹی خود کو نوجوانوں کی، نوجوانوں کے ذریعے اور نوجوانوں کے لیے ایک تحریک قرار دیتی ہے۔ اس جماعت کے نمایاں نظریات درج ذیل ہیں۔

  • خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن
  • ذرائع ابلاغ اور صحافت کی آزادی
  • انتخابات میں شفافیت
  • پارٹی تبدیل کرنے والے سیاست دانوں پر پابندی
  • آر ٹی آئی (قانونِ حق معلومات) کے تحت جواب دہی

رکنیت

[ترمیم]

کاکروچ جنتا پارٹی کی رکنیت کے شرائط طنزیہ انداز میں مرتب کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل نکات ہیں:

  • بے روزگار ہونا
  • سست مزاج ہونا
  • روزانہ لمبے وقت تک آن لائن رہنا
  • پیشہ وارانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا

منشور

[ترمیم]

کاکروچ جنتا پارٹی کے منشور کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔

  1. اگر پارٹی اقتدار میں آئے گی تو کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد انعام کے طور پر راجیہ سبھا کی رکنیت نہیں دی جائے گی۔
  2. اگر انتخابی فہرست سے کسی ووٹر کا نام ناجائز حذف کیا گیا تو چیف الیکشن کمشنر کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا جائے گا، چونکہ شہریوں کے حق رائے دہی کو سلب کرنا دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔
  3. بھارتی پارلیمان میں خواتین کو 33 فیصد کی بجائے 50 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا اور اس کے لیے پارلیمنٹ کی مجموعی نشستوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں کابینہ میں بھی 50 فیصد عہدے خواتین کے لیے مخصوص ہوں گے۔
  4. ریلائنس انڈسٹریز اور اڈانی گروپ کے زیر ملکیت تمام میڈیا ہاؤسز کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے، تاکہ حقیقی معنوں میں آزاد صحافت اور انصاف پرور ذرائع ابلاغ کو فروغ دیا جا سکے۔ اسی طرح گودی میڈیا کے منتظمین کے بینک کھاتوں کی بھی جانچ کی جائے گی۔
  5. کوئی بھی ایم ایل اے یا ایم پی اگر ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو اس کو 20 سالوں تک نہ صرف الیکشن لڑنے بلکہ کسی بھی عوامی سرکاری عہدے پر فائز ہونے سے نا اہل قرار دیا جائے گا۔

نمایاں حامی

[ترمیم]

یوں تو اس پارٹی کے سوشل ذرائع پر چند دنوں اور ساعتوں میں کروڑوں حامی ہو گئے ہیں اور مسلسل تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوان بہت شدت کے ساتھ اس کی حمایت کر رہے ہیں اور اس کے حق میں مراسلے اور نعرے بنا رہے ہیں۔ مشہور حامی شخصیات میں سے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان مہوا موئترا اور کیرتی آزاد ہیں۔

رد عمل

[ترمیم]

اس تحریک کو سوشل میڈیا پر "میم پر مبنی" اور "انتہائی مزاحیہ" تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔ وہی دوسری جانب اس کو نوجوانوں کی ناراضی، بے چینی اور مایوسی پر مبنی مزاحیہ احتجاجی تحریک بتایا جا رہا ہے۔[5]

ناقدین اور حکمران جماعت کے حامی اس تحریک کو حزب اختلاف سے وابستہ "ڈیجیٹل سیاسی ڈراما" قرار دیکر مسترد کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس کی ویب گاہ کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ماضی میں عام آدمی پارٹی سے سابقہ سیاسی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو سوچی سمجھی اور منصوبہ بند سیاسی سازش قرار دیا اور عوامی بغاوت قرار دینے سے انکار کیا۔

اواخرمئی 2026ء تک کی صورت حال یہ ہے سماجی میڈیا ایکس پر بھارت سرکار نے اس مبینہ سیاسی جماعت پر پابندی لگا دی۔ اس کے بر عکس انسٹاگرام اور کچھ دیگر سماجی میڈیا کے کھاتوں کو ہیک کر دیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سیاسی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی کے سرکاری کھاتے کی فوری بحالی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جسے مرکزی حکومت کی ہدایات پر بھارت میں بلاک کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ یہ معاملہ قومی سلامتی اور عوامی نظم سے متعلق ہے، اس لیے وہ حکومت کا موقف سنے بغیر کوئی بھی عبوری راحت یا فوری حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (MeitY) اور ایکس کارپوریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا یہ طے ہے کہ اس وقت تک اکاؤنٹ پر لگی پابندی برقرار رہے گی۔[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "'کاکروچ جنتا پارٹی': انڈین چیف جسٹس کے بیان کے بعد شروع ہونے والی یہ تحریک کیا ہے؟"۔ BBC News اردو۔ 20 مئی 2026۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-05-24
  2. 1 2 "Indian politics has acquired an unusual mascot: the cockroach". BBC News (بزبان انگریزی). 21 May 2026. Archived from the original on 2026-05-21. Retrieved 2026-05-21.
  3. "Cockroach Janta Party explodes online after top judge's remark; CJP gains 3.7 million followers in 24 hours". The Tribune (بزبان انگریزی). 20 May 2026. Retrieved 2026-05-21.
  4. "Laugh if you like but cockroaches uniting, joining 'Cockroach Janta Party' in droves"۔ National Herald۔ 18 مئی 2026۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-05-19
  5. "Cockroach Janta Party Explained"۔ Ground Report۔ 18 مئی 2026۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-05-19
  6. "Delhi HC refuses to immediately restore Cockroach Janta Party's X account in India". The Hindu (بزبان انگریزی). 29 May 2026. Retrieved 2026-05-30.