کبڑا عاشق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کبڑا عاشق
Notre-Dame de Paris 1st edition.jpg
پہلے نسخے کا سرورق
مصنف وکٹر ہیوگو
اصل عنوان Notre-Dame de Paris
مترجم فریڈرک شوبرل (انگریزی)
ملک جولائی بادشاہت
زبان فرانسیسی
صنف رومانیت، گوتھک دیومالا
محل وقوع پیرس، 1482
ناشر گوسیلن
تاریخ اشاعت
16 مارچ 1831ء
تاریخ اشاعت انگریری
1833ء
ذرائع ابلاغ ہارڈ کور
صفحات 940 (3 جلدوں میں)
843.7

کبڑا عاشق (انگریزی: The Hunchback of Notre-Dame) وکٹر ہیوگو کا مشہور ترین ناول Notre Dame De Paris کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار نوٹرے ڈیم چرچ کا کبڑا خدمت گزار قاسمیڈو ہے، جو چرچ کے بڑے پادری کلاڈ فرولو کا وفادار خدمت گزار ہے۔ یہ ناول 1482ء جنوری کے ایک جشن سے شروع ہوتا ہے، جس میں لوگ مل کر ”پیرس کے احمق ترین آدمی“ کے سر پر ”احمقوں کے پوپ“ کا تاج رکھتے ہیں۔ اس سال وہ یہ تاج نوٹرے ڈیم کے معصوم و بد صورت گھڑیال بجانے والے قاسمیڈو کے سر پر رکھتے ہیں۔ اس ہجوم میں ایک خانہ بدوش خوبصورت لڑکی ایسمرالڈا بھی ہے جس پر چرچ کا پادری فرولو عاشق ہو جاتا ہے۔ پادری اپنے وفادار خادم کو یہ لڑکی اغوا کرنے کے لیے کہتا ہے۔ قاسمیڈو اسے اغوا کر کے چرچ میں لے آتا ہے اور خود بھی معصومیت میں اس کو دل دے بیٹھتا ہے۔ پادری کو جب پتا چلتا ہے تو اسے کوڑوں کی سزا دیتا ہے اور دھوپ میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اسے پیاس کی شدت ستاتی ہے تو ایسمرالڈا خود جا کر پانی پلاتی ہے۔ ایسمرالڈا پر ایک شخص فوبیس کے قتل کا الزام لگتا ہے۔ خانہ بدوشوں کا ایک گروہ نوٹرے ڈیم سے ایسمرالڈا کو رہائی دلانے کے لیے چرچ پر حملہ کرتا ہے۔ فوج انہیں روکتی ہے، پادری رقابت اور محبت میں نا کام ہو کر ایسمرالڈا کو فوج کے حوالے کرتا ہے اور اسے پھانسی دے دی جاتی ہے۔ قاسمیڈو پادری کو چرچ کی بلندی سے گرا کر مار دیتا ہے اور خود پھانسی گھاٹ پر چلا جاتا ہے، جہاں لاشیں پڑی ہوتی ہیں اور جاکر ایسمرالڈا کی لاش کے پاس لیٹ جاتا ہے اور ایک عرصہ بغیر کچھ کھائے پیئے گزار دیتا ہے۔ ایک سال کے بعد لوگوں نے دیکھا کر ہڈیوں کے دو ڈھانچے ایک دوسرے سے بغل گیر پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سارا ناول چرچ کی فضا میں لکھا گیا ہے۔ اس لیے نوٹرے ڈیم کا چرچ بھی ناول کا ایک کردار بن گیا ہے۔ اس ناول میں وکٹر ہیوگو نے نوٹرے ڈیم چرچ کی خوبصورت اور قابل دید تعمیر کے بارے میں بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔اس ناول کے چھپنے کے بعد یہ چرچ دنیا کی نظروں کا مرکز بن گیا اور لوگ دور دور سے اسے دیکھنے کے لیے آنے لگے۔

اردو ترجمہ[ترمیم]

ناول کا اردو ترجمہ فکشن ہاوس لاہور نے "کبڑا عاشق" کے نام سے شائع کیا۔

اقتباس[ترمیم]

"بد صورت لوگوں کے دل میں بھی محبت جیسے جذبے کی چاہت ہوتی ہے اور ان کا دل یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ اپنی بدصورتی کی وجہ سے اس سے محروم کر دیے جائیں"

حوالہ جات[ترمیم]