کبیر ستوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کبیر ستوری
کبیر ستوری
کبیر ستوری
کبیر ستوری

معلومات شخصیت
پیدائش 6 اپریل 1942  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
صوبہ کنڑ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 اپریل 2006 (64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قومیت افغانستانی
نسل پشتون لوگ
جماعت پشتون سوشل ڈیموکریٹک پارٹی
اولاد 7
عملی زندگی
پیشہ شاعر،مؤلف،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

کبیر ستوری (6 اپریل 1942 – 4 اپریل 2006) (پشتو: کبیر ستوری‎) افغانستان کے پشتون قوم پرست لیڈر، شاعر اور ادیب ہیں آپ کا تعلق افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ہے، آپ پشتون سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیرمین تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

کبیر ستوری 6 اپریل 1942ء کو افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع خاص کنڑ میں پیدا ہوئے، آپ کا تعلق افغانستان کے مشہور قبائل میردادخیل یوسفزئی سے ہے۔[1][2] انہوں نے پرائمری تک تعلیم گورنمنٹ ایلیمنٹریاسکول خاص کنڑ سے حاصل کی اس کے بعد انہوں نے مذید تعللیم رحمان بابا مڈلاسکول کابل سے حاصل کی، بعد ازاں افغان حکومت نے انہیں جرمنی میں اعلٰی تعلیم کے لیے سکالرشپ دیا گیا، جرمنی میں انہوں نے جامعہ گوئٹے فرینکفرٹ، جامعہ کولوگنی اور جامعہ ماربرگ سے پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی اور قدرتی سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔[3][4]

سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

1996ء میں کبیر ستوری نے فرینکفرٹ میں افغان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور اس طلبہ تنظیم کے بانی صدر رہے، 1972ء میں ان کو افغان طلبہ کی جرنل یونین کا چیرمیین منتخب کیا گیا اور 1976ء میں انہیں پشتون اور بلوچی نیشنل لبریشن یونین کا چیرمین بنایا گیا، انہوں نے 1973ء میں ڈوئچے ویلے وائس آف جرمنی میں پشتو سروس میں بطور اناونسر اور ایڈیٹر خدمات انجام دی ہیں، 1981ء میں جرمنی انہوں نے پشتون سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس تنظیم کے پہلے چیرمین منتخب ہوئے۔[5]

کبیر ستوری اپنے اصولی موقف کی بنا پر محمد نجیب اللہ اور حامد کرزئی کی حکومت کا حصہ بنے سے انکار کردیا جسے افغان عوام نے بھی سراہا، انہوں نے 1972ء اور 1976ء کئی میگزین جن میں افغان طلبہ تنظیم کے زیر انتظام ماہنامہ سپرغئی، اولس غاگ میں بطور ایڈیٹر کام کیا۔

ادارت[ترمیم]

  • ماہنامہ سپرغئی (1972)
  • ماہنامہ اولس غاک (1976)
  • ماہنامہ پیر روخان (1978)
  • ماہنامہ لمبہ (1985)
  • ماہنامہ دی خیبر واگمہ (1986)
  • ماہنامہ پشتونخوا (1978)
  • ماہنامہ دی پختانو کلتوری ٹولانہ 1985
  • ماہنامہ پختون کور (1993)
  • سالنامہ پختونخوا پوہانیے ڈیرہ (1998)

گرفتاری[ترمیم]

عبدالکبیر ستوری کو 16 جنوری 1983ء میں جب وہ افغانستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا تو اسے ضیاالحق کے حکم پر گرفتار کیا گیا، جب اس کو گرفتارکیا گیا تو اس وقت پاکستان میں جرنل ضیاالحق کی حکومت تھی اس وجہ سے کبیرستوری کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف خطرہ سمجھ کر گرفتار کیا گیا۔[6][7][8] عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس کی گرفتاری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا، ڈھائ سال تک کبیر ستوری قید میں رہے اس کے بعد جرمنی کے ممتاز سیاسی و سفارتی رہنماوں خصوصا ڈوئچے ویلے کی کوششوں کی وجہ سے ان کو رہا کردیا گیا ۔[9][10][11]

تخلیقات[ترمیم]

  • سکروٹہ، شعری مجموعہ
  • جواندی خیالونہ
  • دی قلم تورہ
  • سندریز پیغام
  • خواگی مصرئ
  • کلیات

تحقیق[ترمیم]

  • ویرا
  • دی وائر تالہ
  • دی ھوخیارتیہ تالہ
  • زپسہ پوہانہ

وفات[ترمیم]

کبیر ستوری سے منسوباسکول، خاص کنڑ میں۔

اپنی قوم، وطن اور اپنی مادری زبان کے لیے بے شمار خدمات انجام دینے کے بعد 4 اپریل 2006ء کبیر ستوری دل کا دورہ پڑنے سے ویسیلنگ جرمنی میں انتقال کرگئے اور ان کی لاش کو جرمنی سے افغانستان لاکر ان کے آبائی قبرستان خاص کنڑ میں سپرد خاک کیا گیا، سوگوراں میں ایک بیوی، پانچ بیٹے اور تین بیٹیان شامل ہیں۔

کبیر ستوری کے انتقال کے بعد افغان حکومت کی طرف سے ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں ان کے گاوں کا نام خاص کنڑ لائیسی سے تبدیل کرکے ڈاکٹر کبیر ستوری لائیسی رکھا گیا۔[12]


حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]