کتاب الآثار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام الائمہ، سراج الامت نعمان بن ثابت امام ابوحنیفہ کی طرف حدیث کی کئی کتابیں منسوب ہیں؛

  • (1)کتاب الآثار
  • (2)مسندامام ابی حنیفہ
  • (3)اربعینات امام ابی حنیفہ
  • (4)وحدانیات امام ابی حنیفہ،

ان میں سے "کتاب الآثار" آپ کی تصنیف کردہ ہے؛ مگربہت سے حضرات نے اس کتاب کو ان لوگوں کی تصنیف قرار دے دیا ہے جواس کتاب کے رواۃ میں سے ہیں جوصحیح نہیں ہے؛ البتہ اس کے علاوہ باقی تینوں کتابیں آپکی تصنیف کردہ نہیں ہیں؛ بلکہ بعد کے لوگوں نے ان میں امام ابو حنیفہ کی روایت حدیث کوموضوع کے لحاظ سے جمع کیا ہے۔[1]

جامعین کتاب الآثار[ترمیم]

کتاب الآثار کوامام ابو حنیفہ سے مختلف تلامذہ نے مختلف دور میں روایت کیا ہے، جونسخے دنیا میں رائج ہیں وہ حسب ذیل ہیں

ترتیب وتبویب[ترمیم]

اس کتاب "کتاب الآثار" کی ترتیب کتاب وار، وباب وار ہے؛ البتہ یہ ضرور ہے کہ امام ابو حنیفہ نے صرف ابواب کے عناوین تجویز فرمائے، کتب کے عناوین تجویز نہیں فرمائے؛ مگران کے سامنے کتب کی رعایت بھی تھی؛ کیونکہ ایک اصل سے متعلق ابواب آپ نے ترتیب وار ذکر کیے ہیں؛ البتہ "کتاب المناسک" کا عنوان خود آپ نے قائم فرمایا ہے، اس کے بعد پھرابواب کا ذکر کیا ہے۔ امام محمدکے نسخے میں کل 305/ابواب ہیں، اس کی ترتیب درحقیقت فن فقہ میں لکھی جانے والی کتاب کی ترتیب کے مطابق ہے؛ کیونکہ فن فقہ میں سب سے پہلے طہارت کا بیان کرتے ہیں؛ پھراس کے بعد کتاب الصلوٰۃ؛ جیسا کہ امام ابوداؤد اور امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب کوفقہی طرز پر مرتب کیا ہے، برخلاف بخاری ومسلم وغیرہ کے انہوں نے اس کا لحاظ نہیں کیا، بس من وعن اسی فقہی انداز پر امام ابو حنیفہ کی کتاب "کتاب الآثار" مرتب کی گئی ہے۔

امتیازات[ترمیم]

  • یہ ایک ایسی کتاب ہے، جس کے مصنف کوتابعیت کا شرف حاصل ہے، آج دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں پائی جاتی ہے، جس کویہ ناقابل فراموش فضیلت حاصل ہو۔
  • اسلام میں فقہ کے نہج پر جوکتاب لکھی گئی، اس میں اوّلین کاوش امام صاحبؒ ہی کی ہے،
  • یہ کتاب اسلام کی اولین مؤلفات میں سے ہے، اس لیے کہ امام صاحب علیہ الرحمہ کا زمانہ سنہ 150ھ تک کا ہے؛
  • اس سلسلہ میں عموماً اولیت امام مالک اور ان کی کتاب "موطا" کی بتائی جاتی ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس انداز پر اولین تالیف امام صاحبؒ کی "کتاب الآثار" ہے، امام مالکؒ ودیگر حضرات جواس انداز سے کام کرنے والے ہیں، وہ ثانوی درجہ میں اس مذاق ومزاج کواپنانے والے ہیں[3]
  • "کتاب الآثار" کوامام اعظم ابوحنیفہ نے چالیس ہزار احادیث کے مجموعہ سے منتخب فرمایا ہے اور ان میں سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب میں انیس ہزار احادیث کوجمع فرمایا ہے؛
  • آپ سے امام محمدؒ نے روایت کرکے کتابی شکل میں مرتب فرمایا ہے۔

امام ابو حنیفہ کی جلالتِ قدر کے لیے اس سے زیادہ اور کیا درکار ہے کہ وہ امت میں امام اعظم کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان کے اجتہادی مسائل پر اسلامی دنیا کی دوتہائی آبادی تقریباً چودہ سوبرس سے برابر عمل کرتی آ رہی ہے اور تمام اکابر ائمہ آپ کے فضل وکمال کے معترف ہیں، اس کتاب میں علم شریعت کوباقاعدہ ابواب پر مرتب کیا گیا ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد کتاب الآثار کی احادیث وروایات پر مبنی ہے۔[3]

اصول و شرائط[ترمیم]

امام ابو حنیفہ نے اپنے مقرر کردہ اصول وشروط کے پیش نظر اپنی صوابدید سے چالیس ہزار احادیث کے ذخیرہ سے اس مجموعہ کا انتخاب کرکے اپنے تلامذہ کواس کا املا کرایا ہے اور انتخاب کے بعد اس میں جومرویات لی ہیں وہ مرفوع بھی ہیں اور موقوف ومقطوع بھی، زیادہ ترحصہ غیر مرفوع کا ہے، مرویات کی مجموعی تعداد نسخوں کے اختلاف کی وجہ سے مختلف بھی ذکر کی گئی ہے، امام ابویوسفؒ کے نسخے میں ایک ہزار ستر کے قریب ہے اور امام محمدؒ کے نسخے میں صرف مرفوعات ایک سو بائیس ہیں۔[4]

مشہور نسخے[ترمیم]

سب سے مشہور نسخے دو ہیں، ایک امام محمدؒ کا اور دوسرا امام ابویوسفؒ کا اور یہی دونوں نسخے شائع بھی ہوئے ہیں اور ان میں بھی امام محمدؒ کا نسخہ زیادہ معروف متداول ہے اور علما نے بھی اس پر زیادہ کام کیا ہے، مثلاً امام طحاویؒ، شیخ جمال الدین قونویؒ، ابوالفضل علی بن مراد موصلیؒ اور ماضی قریب میں مفتی مہدی حسن صاحبؒ شاہجہاں پوری "سابق صدر مفتی دار العلوم دیوبند" نے "قلائدالازھار" کے نام سے اس کی نہایت ضخیم شرح لکھی ہے،[5] مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ اور مولانا ابوالوفاء افغانیؒ کا کتاب الآثار پر حاشیہ بھی ہے؛ نیز شیخ عبد العزیز بن عبد الرشید اور شیخ محمدصغیرالدین نے اس کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے اور شیخ عبد العزیز نے ترجمہ کے ساتھ کچھ اضافہ بھی کیا ہے اور اردو ترجمہ کے ساتھ مولانا عبد الرشید نعمانی کا کتاب الآثار کے تعارف سے متعلق ایک مبسوط مقدمہ بھی ہے، امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے دونوں نسخوں کے ساتھ علامہ ابوالوفا افغانی کے عربی میں مقدمے بھی ہیں، ان کے علاوہ دیگر شراح ومحشین نے بھی مقدمے لکھے ہیں، امام ابویوسف کے نسخے پر مولانا ابوالوفاء کی تعلیقات بھی ہیں اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور ان کے شاگردِ رشید قاسم بن قطلوبغا حنفی، دونوں حضرات نے کتاب الآثار لمحمد کے رجال پر "الایثار بمعرفۃ رجال کتاب الآثار" کے نام سے کتابیں لکھی ہیں، کتاب الآثار کے متعدد نسخے یا ان کے کافی اجزاء "مسانید امام اعظم" کے مجموعے "جامع المسانید" میں بھی شامل ہیں، مثلاً امام ابویوسف کے نسخے کی مرفوع روایات اور امام زفر وحفص بن غیاث کے علاوہ دیگر حضرات کے نسخے بھی اس میں شامل کر دیے گئے ہیں۔[6][7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قلائد الازھار:2
  2. مسانید الامام:76۔ قلائد الازھار:3
  3. ^ ا ب مقدمہ حالات امام اعظمؒ:16
  4. ابوحنیفہ واصحابہ المحدثون:15
  5. علوم الحدیث:386
  6. علوم الحدیث:387
  7. %7B%7Bcite web | accessdate=جنوری 27, 2016}}