کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کرائسٹ چرچ مساجد حملے
Canterbury Mosque 12 June 2006.jpg
النور مسجد (جون 2006ء)
مسجد النور (بائیں) اور لن ووڈ اسلامک سینٹر (دائیں)
مقام کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ
متناسقات 43°31′58″S 172°36′42″E / 43.5329°S 172.6118°E / -43.5329; 172.6118متناسقات: 43°31′58″S 172°36′42″E / 43.5329°S 172.6118°E / -43.5329; 172.6118
تاریخ 15 مارچ 2019ء
13:40 (وقت مطابق نیوزی لینڈ)
حملے کی قسم دہشت گردی، بڑے پیمانے پر قتل
ہلاکتیں

50

  • مسجد النور میں 42
  • لن ووڈ اسلامک سینٹر میں 7
  • بعد ازاں کرائسٹ چرچ ہسپتال میں ایک نے دم توڑا
زخمی 50
مرتکب برینٹن ٹیرنٹ
مقصد اسلاموفوبیا
سفید فامی برتری
انتہائی بائیں بازو شدت پسندی

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملہ کی واردات 15 مارچ 2019ء کو پیش آئی۔نیوزی لینڈ کے دار الحکومت کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد پر دہشت گردانہ حملے کیے گئے جن میں 49 سے زائد افراد جاں بحق اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ملک کی وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کے مطابق: یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔[1] برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئے نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ: کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردانہ حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔[1] وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ: کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گردانہ حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں‘۔ ہماری ہمدردی اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے کے بعد ملک بھر میں نیوزی لینڈ کا قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے 49 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔[2]

پس منظر[ترمیم]

یہ دہشت گردانہ حملہ 15 مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے دار الحکومت کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النور میں پیش آیا۔[3] نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے بیان کے مطابق کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے ’دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں‘ اور ان حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کمشنر مائیک بُش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار افراد، جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، کو اب تک حراست میں لیا ہے۔[4][5] نیوزی لینڈ کے اخبار نیوزی لینڈ ہیرالڈ کے بیان کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت ممکن ہوئی ہے جو آسٹریلیا کا شہری ہے۔ نیوزی لینڈ پولیس کے سربراہ مائیک بش کا کہنا تھا کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک شخص پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، جس کی عمر 28 سال ہے، اس نوجوان کو 24 گھنٹوں میں کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔[6]

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔ ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔ حملہ آور نے یقینی بنایا کہ کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران میں وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔[1][7][8][9][10]

مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا ’اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی، جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریباً پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔

دوسرا حملہ[ترمیم]

مسجد النور کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کا دوسرا حملہ لِن وُوڈ کی مسجد جو لِن وُوڈ اسلامک سینٹر کہلاتا ہے، پر کیا گیا۔[11][12] اسلامک سینٹر پر موجود ایک شخص نے جو عبادت کر رہا تھا، نے پستول سے فائرنگ کی آواز سن کر اور آتشزدگی کو دیکھتے ہوئے باہر نکل کر مقابلہ کیا مگر وہاں سے حملہ آور بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔[13]

بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم کا دورۂ نیوزی لینڈ[ترمیم]

اِس دوران میں بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم کرائسٹ چرچ میں ایک کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے موجود تھی۔ نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ جب حملہ ہوا تو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی النور مسجد کے قریب تھے۔ بنگلہ دیش میں ویب سائٹ کرک انفو کے نامہ نگار محمد اسام نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ہمراہ تھے۔ اسام کہتے ہیں: ’میں نے انھیں پارکنگ سے باہر نکلتے دیکھا، پانچ منٹ کے اندر ایک کھلاڑی (اقبال) نے مجھے مدد کے لیے بلایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بچاؤ، ہم بہت مصیبت میں ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔ پہلے میں نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن پھر ان کی آواز کپکپا رہی تھی تو میں بس دوڑ پڑا۔ میں جائے وقوعہ تک دوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر مجھے کسی سے لفٹ مِل گئی اور میں اس جگہ تک پہنچ گیا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ اُنہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ محفوظ ہیں، لیکن صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق حملے کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان ہیگلی اوول میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بھی اب نہیں ہوگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "کرائسٹ چرچ: مساجد پر 'دہشت گرد' حملے، 49 ہلاک"۔
  2. "کرائسٹ چرچ کی مسجد میں 'دہشت گردی' تصاویر میں"۔
  3. Jon Sharman۔ "Armed police deployed after shots fired at New Zealand mosque" (انگریزی زبان میں)۔ The Independent۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  4. "LIVE: Gunman named, four arrested, as Christchurch mosque attacks leave 'significant' number of fatalities"۔ TVNZ (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  5. "Watch: Christchurch mosque shooting - Four in custody"۔ Radio New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  6. ویب ڈیسک۔ "نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق"۔ Dawn News Television۔
  7. "Mosque shooting: Christchurch gunman livestreamed shooting"۔ The New Zealand Herald (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 1170-0777۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  8. Kelly Weill؛ Will Sommer۔ "Mosque Attack Video Linked to 'White Genocide' Rant"۔ www.thedailybeast.com۔ Daily Beast۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  9. Michael Koziol۔ "Christchurch shooter's manifesto reveals an obsession with white supremacy over Muslims"۔ www.smh.com.au۔ Sydney Morning Herald۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  10. "Reports of multiple casualties in Christchurch mosque shooting" (انگریزی زبان میں)۔ ABC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  11. "Christchurch gets its second mosque"۔ Indian Weekender (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  12. Breanna Barraclough۔ "Christchurch mosque shooting: Footage emerges of alleged gunman" (انگریزی زبان میں)۔ Newshub۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔
  13. Vita Molyneux۔ "Live updates: Six people have reportedly been killed in Christchurch shootings near mosque"۔ Newshub۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2019۔