کرار نوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کرار نوری
معلومات شخصیت
پیدائش 30 جون 1916  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 اگست 1990 (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن عزیزآباد (کراچی)  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مترجم، صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نظم، غزل، نعت  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

کرار نوری (پیدائش: 30 جون، 1916ء - وفات: 8 اگست، 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، مترجم اور صحافی تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

کرار نوری 30 جون، 1916ء میں دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے۔[1][2] ان کا اصل نام سید کرار میرزا تھا۔ وہ اسد اللہ خان غالب کے شاگرد آگاہ دہلوی کے پر پوتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پہلے راولپنڈی اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی جہاں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ کرار نوری کا شعری مجموعہ میری غزل کے نام سے شائع ہوچکا ہے اس کے علاوہ ان کی نعتوں کا مجموعہ میزان حق کے نام سے ان کی وفات کے بعد اشاعت پزیر ہوا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • میری غزل
  • میزان حق

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوایہ حرف بے وجود مگر داستاں ہوا
جو کچھ میں کہہ چکا ہوں ذرا اس پہ غور کر جو کچھ بیاں ہوا ہے بہ مشکل بیاں ہوا
اب تم کو جس خلوص کی ہم سے امید ہےمدت ہوئی وہ نذر دل دوستاں ہوا
طوفان زندگی میں ضرورت تھی جب تریمجھ کو ہر ایک موج پہ تیرا گماں ہوا
آداب قید و بند نے بدلا عجیب رنگکنج قفس کا نام بھی اب آشیاں ہوا
آنسو نکل پڑے ہیں خوشی میں ترے حضورکس تمکنت کے ساتھ یہ دریا رواں ہوا[3]

غزل

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے شاید سحر سے پہلے ہی بیدار ہو گئے
یہ کون سا مقام رہ و رسم ہے کہ وہ اتنے ہوئے قریب کہ بیزار ہو گئے
منزل کی سمت تجھ کو نہ لے جائیں گے کبھیوہ راستے جو آپ ہی ہموار ہو گئے
ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیااتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے
نوریؔ ہمیں جہاں میں مسرت کی تھی تلاشآخر ہر ایک شخص کے غم خوار ہو گئے[4]

شعر

اعتراف اپنی خطائوں کا میں کرتا ہی چلوںجانے کس کس کو ملے میری سزا، میرے بعد

وفات[ترمیم]

کرار نوری 8 اگست، 1990ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]