کرانہ بار
| کرانہ-I | |
|---|---|
ربوہ کے نزدیک کرانہ سلسلہ کوہ کا ایک سیاہ مائل پہاڑ | |
| معلومات | |
| ملک | پاکستان |
| مقام تجربہ | کرانہ جوہری تجرباتی لیبارٹری |
| وقفہ | 1983-1990 |
| تعداد تجربات | 24 |
| قسم تجربہ | زیر زمین نیم نازک تجربہ (کے<1) |
| قسم آلہ | غیر نویاتی انشقاق |
| زیادہ سے زیادہ قوت | نامعلوم; درجہ بند معلومات |
| دیگر | |
| پچھلا تجربہ | کوئی نہیں |
| اگلا تجربہ | چاغی-I |
کرانہ یا کرانہ بار پنجاب، پاکستان کا ایک جغرافیائی زون اور کم بلند پہاڑی پٹی ہے جو برصغیر کے قدیم ترین پہاڑی سلسلے کا مضافاتی حصہ ہے۔[1] یہ خطہ بنیادی طور پر چج دوآب (دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیانی علاقے) کا مرکزی بلند حصہ ہے، جس کا نام یہاں واقع کوہِ کرانہ کی نسبت سے پڑا۔[2] یہ علاقہ سابقہ ضلع شاہ پور (موجودہ ضلع سرگودھا) کے جنوب سے شروع ہو کر ضلع جھنگ کے نشیبی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ مقامی روحانی روایات اور قبائلی ثقافت کے مرکز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔[2]
جغرافیائی وقوع
[ترمیم]کرانہ کا یہ پہاڑی اور بلند زمینی خطہ لاہور کے نصف النہار کے مغرب میں واقع مغربی میدانوں کا حصہ ہے، جہاں بارشیں انتہائی قلیل ہوتی ہیں۔[3] مغربی پنجاب کا یہ وسیع میدانی خطہ عام طور پر بالکل ہموار اور چورس ہے، جس کے درمیان سے پنجاب کے پانچ بڑے دریا، یعنی ستلج، راوی، چناب، جہلم اور سندھ گزرتے ہیں۔ اس خشک اور نیم صحرائی خطے میں بارشیں اس قدر کم ہوتی ہیں کہ آبپاشی کے بغیر یہاں باقاعدہ کاشتکاری تقریباً ناممکن سمجھی جاتی ہے۔[3]
ارضیاتی ساخت: اراولی سلسلے کا مضافاتی حصہ
[ترمیم]پنجاب کے یہ مغربی میدان اگرچہ ہر قسم کے نمایاں پہاڑوں سے پاک ہیں، تاہم یہاں کی ہموار سطحِ زمین پر چنیوٹ اور کرانہ کی شکل میں چند معمولی اور کم بلند پہاڑیاں نمودار ہوتی ہیں۔[4] زمین کے نیچے دبا ہوا یہ سنگلاخ پچ دراصل ہندوستان کے قدیم ترین اراولی پہاڑی سلسلے کا مابعد حصہ ہے، جو ضلع گڑگاؤں اور دہلی کے جنوب سے گزرنے کے بعد یہاں جھنگ کے مقام پر دوبارہ سطحِ زمین پر ابھرتا ہے۔[4]
بار کے طبعی خد و خال
[ترمیم]کرانہ کے ارد گرد کے بلند بنجر علاقوں کو تاریخی طور پر "بار" کے نام سے پکارا جاتا ہے، جو دریاؤں کے درمیان واقع مٹی کے مرتفع علاقے ہیں۔[5] دریاؤں کی قریبی سیلابی پٹیوں کے برعکس، یہ بیرونی بلند زون سخت چکنی مٹی کا بنا ہوا ہے جو آبپاشی کے باقاعدہ ذرائع سے محروم ہے۔ یہاں بارش کے قلیل پانی کو جمع کرنے کے لیے مقامی گڑھے اور نشیبی علاقے استعمال کیے جاتے ہیں، جہاں پانی جمع کر کے عارضی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔[6]
نباتات اور حیوانات
[ترمیم]طبعی خصوصیات کے اعتبار سے اس بار کا بڑا حصہ کم اونچی جھاڑیوں اور نمکین بوٹیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اچھے موسموں اور بارش کے دنوں میں یہاں کچھ عرصے کے لیے سبز گھاس بھی اگ آتی ہے جو چراگاہ کا کام دیتی ہے۔ تاہم بارشوں کے نہ ہونے سے چارے اور چراگاہوں کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے مقامی چرواہے سنگین مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
روحانی اور لوک روایات
[ترمیم]کوہِ کرانہ تاریخی طور پر روحانی پیشواؤں اور بزرگوں کا مسکن رہا ہے، جنھیں مقامی طور پر "کرانہ کے پیر" کہا جاتا تھا۔[7] ایک قدیم روایت کے مطابق تخت ہزارہ (ضلع شاہ پور) کے ایک سابھر برہمن، جس کا نام کلیانہ تھا، سیالکوٹ سے ہوتا ہوا کوہِ کرانہ پہنچا تاکہ وہ اپنی روحانی طاقتوں کا مقابلہ وہاں کے پیروں سے کر سکے۔[7] کوہِ کرانہ پر اس کی کرامات تسلیم کر لی گئیں، تاہم وہاں کے پیروں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ یہاں سے آگے مسن کی طرف چلا جائے۔[7]
مقامی آبادی اور طرزِ زندگی
[ترمیم]کرانہ بار کے خشک اور تپتے ہوئے ماحول میں ایک خانہ بدوش چرواہا آبادی بستی ہے جن کا بنیادی ذریعہ معاش مویشی پالنا ہے اور زراعت کی نسبت گلہ بانی ان کا بڑا ذریعہ معاش رہا ہے۔[8][5] یہ قبائل یہاں اونٹوں، گائے، بھیڑوں اور بکریوں کے بڑے بڑے ریوڑ چراتے ہیں جو یہاں کی نمکین جھاڑیاں کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب مقامی گڑھوں کا پانی خشک ہو جاتا ہے اور گھاس ختم ہو جاتی ہے، تو یہ خانہ بدوش آبادی پانی اور نئی چراگاہوں کی تلاش میں دریاؤں کے کناروں کی طرف ہجرت کر جاتی ہے۔
جانگلی اصطلاح سے تعلق
[ترمیم]کرانہ بار کے قدیم اور مقامی باشندوں کے لیے بھی "جانگلی" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اصطلاح ان خانہ بدوش قبائل کے لیے مخصوص ہے جو نہری آبادیوں کے قیام سے قبل ان بنجر علاقوں میں قیام پزیر رہے ہیں اور جن کا طرزِ زندگی دریا کے کنارے رہنے والوں، یعنی "ہتھاری"، سے مختلف رہا ہے۔[9]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ڈینزل ابٹسن (1883)۔ Panjab Castes۔ لاہور: سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ج 1۔ ص 5
- 1 2 ڈینزل ابٹسن (1916)۔ Panjab Castes۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ص 114
- 1 2 ڈینزل ابٹسن (1883)۔ Panjab Castes۔ لاہور: سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ج 1۔ ص 9
- 1 2 ایچ اے روز (1911)۔ A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پنجاب۔ ج 1۔ ص 9
- 1 2 ایچ اے روز (1911)۔ A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پنجاب۔ ج 1۔ ص 17
- ↑ ڈینزل ابٹسن (1883)۔ Panjab Castes۔ لاہور: سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ج 1۔ ص 10
- 1 2 3 ایچ اے روز (1911)۔ A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province۔ لاہور: گورنمنٹ پرنٹنگ پنجاب۔ ج 1۔ ص 432
- ↑ ڈینزل ابٹسن (1883)۔ Panjab Castes۔ لاہور: سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ پرنٹنگ۔ ج 1۔ ص 11
- ↑ ای ڈی میکلیگن اور ایچ اے روز (2014)۔ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا۔ لاہور: بک ہوم۔ ج 1۔ ص 135
مزید دیکھیے
[ترمیم]- پاکستان میں نویاتی طرزیات
- پنجاب کے علاقے
- چج دوآب
- ضلع سرگودھا
- ضلع جھنگ
- پنجاب کی پہاڑیاں
- پاکستان کی پہاڑیاں
- پاکستان کی نویاتی تاریخ
- پاکستان کے سلاسل کوہ
- پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے تجربات
- پاکستانی مقامات نویاتی اختبار
- پنجاب (پاکستان) کے سلاسل کوہ
- جغرافیہ پنجاب، پاکستان
- جوہری تجربات مقامات
- منصوبہ-706
- پنجاب، پاکستان کے تغیرات ارض
- جغرافیہ پنجاب (پاکستان) کے نامکمل مضامین