کربلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
كربلا
کربلائے معلٰی
كربلا is located in Iraq
كربلا
كربلا
عراق میں مقام
متناسقات: 32°37′N 44°02′E / 32.617°N 44.033°E / 32.617; 44.033
ملک عراق
حکومت محافظہ کربلا
آبادی (2011)
 • کل 1,066,600[1]
امام حسین کا مزار

کربلا (عربی میں كربلاء ) عراق کا ایک مشہور شہر ہے جو بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں صوبہ کربلا میں واقع ہے۔ یہ واقعۂ کربلا اور حسین ابن علی کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے پرانے ناموں میں نینوا اور الغادریہ شامل ہیں۔ اس کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے جو محرم اور صفر کے مہینوں میں زائرین کی وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے۔

اشتقاقیات

کربل، کربلا اور کربلت

فصل غلہ خاص کر فصل گندم کاٹ کر پچھوڑنے یعنی بھوسہ اڑا کر صاف کرنے کو کربل کہتے ہیں۔ کیچڑ میں بدقت اور آہستہ چل کر آنے کے لیے بھی مکربلا کہا جاتا ہے۔ جیسے جاء یمشی مکربلاً [2] یعنی وہ مٹی ملے ہوئے پانی (کیچڑ) میں بدقت چل کر آیا۔ لفظ کربلا کی اصل سے متعلق کئی مختلف نظریات و تحقیقات پیش کی جاتی ہیں۔ عربی زبان کے یہ دونوں لفظ کربل اور كربلة تلفظ کے اعتبار سے یکساں ہیں، کربلاء (اردو میں ہمزہ کے بغیر) اسی سے مشتق بتایا جاتا ہے۔

کربلاء بالمد فاما اشتقاہ فالکربلة [3]، کربلاء جو مد کے ساتھ ہے اس کا اشتقاق كربلة (کربلا) سے ہے۔
  • المنجد میں غربل اور غربلة اسی معنی میں مستعمل ہے، جیسے غربل الحنطلة [4]
    (الحنطلة عربی میں گیہوں صاف کرنے کو کہتے ہیں[5] اور الکربال، گیہوں صاف کرنے کی چھلنی کو)

اسی مؤلف نے بطور مثال کربلت و غربلت کے الفاظ پر مشتمل یہ شعر پیش کیا ہے۔

کملن حمراء رسویا الثقل قد غربلت وکربلت من الفصل

الطف

بعض نے کہا ہے کہ اس کا نام طف ہے، یعنی سرسبز و شاداب جگہ۔ یاقوت حموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے، اور کربل نام ہے الحماض کی طرح کے پودوں کا چونکہ یہ قسم یہاں بکثرت اگتی تھی اس لیے بھی اس کا (کربلا کا) یہ نام پڑ گیا تھا۔ اس کی ایک مثال

لیکن عون و محمد الاصغر اپنے چچیرے بھائی حسین کے ساتھ یوم الطف یعنی طف کی لڑائی میں قتل ہوئے۔[6]

ابو دہیل الجمی نے ایک شعر (یہ شعر تھوڑے فرق سے سلیمان بن قتیبہ سے بھی منسوب کیا جاتا ہے) میں کربلا کی جگہ طف کا نام استعمال کیا ہے۔

الا ان قتلی الطف من آلِ ھاشم اذلت رقاب المسلمین فذلت

کرب و بلا

اردو و فارسی زبان والے عام طور پر اسے دو الگ الگ عربی الفاظ کرب اور بلا سے مرکب بتاتے ہیں، [7][8] عربی میں کرب مصیبت اور دکھ کو کہتے ہیں، بلا عربی میں امتحان، آزمائش، دکھ، مصیبت، اور نعمت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

کربلا شہر

یہ عراق کا ایک امیر شہر ہے، جہاں پر مذہبی زائرین اور زرعی پیداوار سے کثیر دولت حاصل ہوتی ہے، خاص کر کھجور سے۔ یہ دو اضلاع پر مشتمل ہے، پرانا کربلا مذہبی مرکز اور نیا کربلا رہائشی علاقہ، جہاں اسلامی مدارس اور حکومتی عمارات ہیں۔
پرانے شہر کے وسط میں مزار حسینی واقع ہے، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے، فاطمۃ الزھراء و علی بن ابی طالب کے بیٹے حضرت امام حسین دفن ہیں۔ اس مزار پر مسلمان کثرت سے زیارت کے لئے آتے ہیں، خاص طور پر محرم کے مہینے میں کیوں کے اسی مہینے میں یوم عاشورہ کو انہیں کربلا میں شہید کیا گيا تھا۔ اور اربعین یعنی چہلم (کسی شخص کے وصال کا چالیس واں دن) پر زائریں کی تعداد 20 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔ جو کہ لوگوں کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔حوالہ درکار؟

دریائے فرات، کا ایک منظر

ان میں ایک بڑی تعداد نجف سے 80 کلو میٹر کا فاصلہ کربلا کی طرف پیدل چل کر طے کرتی ہے۔ یہ لوگ چہلم سے ایک ہفتہ پہلے ہی نکل پڑتے ہیں، راستے میں سونے اور کھانے پینے کے مقامات بنائے گئے ہیں۔ نجف سے کربلا تک کا راستہ لوگوں کے اس ہجوم کے سبب بند ہوتا ہے۔ کئی لوگ ہر سال اپنا سب کچھ ختم کر کے وفاداری کا عزم کرتے ہیں، اور کچھ بوڑھے یہاں پر ہی اپنی موت کی تمنا کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ مزار جنت کا ایک دروازہ ہے۔
کربلا میں دوسری بڑی زیارت گاہ جناب غازی عباس علمدار کا مزار ہے۔ تیسری بڑی زیارت گاہ المخیم یعنی خیام گاہ ہے، اس مقام کے بارے ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سانحہ کربلا کے وقت حضرت امام حسین اور ان کے اہل بیت کے |خیمے تھے۔

تاریخ

سانحہ کربلا

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: سانحہ کربلا
تاریخِ اسلام کا خون چکاں واقعہ جو 'سانحۂ کربلا' سے جانا جاتا ہے، یہیں پیش آیا۔ یہ واقعہ 31 مئی 680ء بمطابق 10 محرم 61 ھ کو ہوا ہے۔

دور جدید

مسجد کربلا (1932)

کربلا میں جو کچھ ترقی ہوئی ہے اس میں زیادہ تر فارسی قوم کا ہاتھ رہا ہے۔ مارچ 1991ء کو حملوں کے نتیجے میں شہر بری طرح برباد ہوا اور مزارِ حسین سمیت کئی مذہبی عمارات کو نقصان پہنچے۔ 1994ء کو پھر مزارِ حسین کی تعمیرِنو ہوئی۔[9]

آب و ہوا

کربلا کی فضا ریگستانی علاقہ ہونے کے سبب شدید گرم ہے۔ گرمیاں خشک اور سردی شدید ہوتی ہے۔ اگر بارشں ہو تو عام طور پر نومبر اور اپریل کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ لیکن کوئی مہینا بھی برسات کا نہيں ہوتا۔

آب ہوا معلومات برائے کربلا
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 15.7
(60.3)
18.8
(65.8)
23.6
(74.5)
30.6
(87.1)
36.9
(98.4)
41.5
(106.7)
43.9
(111)
43.6
(110.5)
40.2
(104.4)
33.3
(91.9)
23.7
(74.7)
17.6
(63.7)
30.78
(87.42)
اوسط کم °س (°ف) 5.4
(41.7)
7
(45)
11.2
(52.2)
17.1
(62.8)
22.5
(72.5)
26.3
(79.3)
28.8
(83.8)
28.2
(82.8)
24.3
(75.7)
19
(66)
11.6
(52.9)
6.9
(44.4)
17.36
(63.26)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 17.6
(0.693)
14.3
(0.563)
15.7
(0.618)
11.5
(0.453)
3.5
(0.138)
0.1
(0.004)
0
(0)
0
(0)
0.3
(0.012)
4.1
(0.161)
10.5
(0.413)
15.3
(0.602)
92.9
(3.657)
اوسط عمل ترسیب ایام 7 5 6 5 3 0 0 0 0 4 5 7 42
ماخذ: عالمی موسمیاتی تنظیم (UN) [10]

شیعہ عقیدہ

اہل تشیع عقیدہ رکھتے ہیں کہ، کربلا روئے زمین پر مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں ذیل کی روایات پیش کی جاتی ہیں:

کربلا جہاں ہے، وہاں آپ کے نواسے اور ان کے خاندان کو شہید کیا جائے گا۔ یہ زمین کے مقدس اور مبارک تر مقامات میں سے ایک ہے۔[11]
اللہ نے کربلا کا بطور بابرکت و پُر امن مقام انتخاب کیا، اور اسے کعبہ کے حرم بنانے سے 24 ہزار سال پہلے حرم بنایا۔ بے شک یہ (کربلا) جنت کے باغات سے (زیادہ) چمک جائے گا جیسے ایک روشن ستارہ زمین کے لوگوں کے لیے چمکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے، میرے جد امام حسین کی قبر کی مٹی سے ہر کسی کے لیے ہر خوف اور بیماری کی دوا بنائی ہے۔[13]

تصاویر

مزید دیکھیے

حوالہ جات|2

  1. ^ http://www.citypopulation.de/Iraq.html
  2. ^ ص720 المنجد طبع بیروت
  3. ^ یاقوت حموی، معجم البلدان، جلد 8، صفحہ 229
  4. ^ المنجد، صفحہ 820، طبع بیروت
  5. ^ المنجد، اردو ترجمہ، خزینہ علم و ادب، لاہور۔صفحہ 734
  6. ^ عمدہ الطالب فی انساب آلِ ابی طالب، صفحہ 20
  7. ^ حسن اللغات (فارسی-اردو)، اورینٹل بک سوسائٹی، لاہور۔ صفحہ689
  8. ^ فیروزاللغات، اردو جدید، فیروز سنز، لاہور۔ صفحہ 534
  9. ^ http://www.hrw.org/legacy/reports/1992/Iraq926.htm
  10. ^ "World Weather Information Service – Karbala". United Nations. Retrieved 1 January 2011. 
  11. ^ 11.0 11.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام kamil01 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  12. ^ al-Qummi، Ja'far ibn Qūlawayh (2008). Kāmil al-Ziyārāt. trans. Sayyid Mohsen al-Husaini al-Mīlāni. Shiabooks.ca Press. p.534. 
  13. ^ Amali by شیخ طوسی، جلد 1 صفحہ 326