کرسمس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کرسمس
یوم کرسمس
Nativity tree2011.jpg
پیدائش مسیح کے حوالے سے ایک تخیلاتی منظر، جس میں کرسمس ٹری یا کرسمس درخت بھی دکھایا گیا ہے۔
عرفیت Noël, Nativity، Xmas، Yule
منانے والے مسیحی، بہت سے غیر مسیحی بھی[1][2]
قسم مسیحی، کلچر
اہمیت پیدائش یسوع کے حوالے سے روایتی تقریبات
رسومات Church services, تحائف دینا، خاندانی اور دوسری سماجی تقریبات، علامتی سجاؤٹ
تاریخ
تکرار سالانہ
منسلک Christmastide، Christmas Eve، Advent، Annunciation، Epiphany، Baptism of the Lord، Nativity Fast، Nativity of Christ، Yule


عید ولادت مسیح یا بڑا دِن، جس کو کرسمس بھی کہتے ہیں جو یسوع مسیح کی ولادت کا تہوار ہے۔عیسائی دین میں یہ سال کی دو اہم تر عیدوں میں سے دوسرا ہے۔ سب سے اہم تہوار ایسٹر کہلاتا ہے۔ کرسمس عمومی طور پرسالانہ 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ تاہم علماء نے تصدیق کی ہے کہ یہ ان کا اصلی یومِ ولادت نہیں ہے۔ ایک تہوار روم میں مسیحیت کے پھیلنے سے پہلے بھی اسی تاریخ کو منایا جاتا تھا۔

کرسمس کی تاریخ[ترمیم]

کرسمس، متعداد روایات کے مطابق یسوع مسیح کی پیدائش سے صدیوں پہلے سے منایا جارہا ہے۔ کرسمس کے 12 دن آگ روشن کی جاتی تھی، جلانے کی لکڑی تحفے میں دینے کا رواج عام تھا۔ ترانہ کرسمس بھی گھر گھر گیا جاتا تھا۔ مقدس دن کے میلوں اور چرچ کے جلوسوں کو ابتدائی طور پر میسوپوٹامینز سے جوڑا جاسکتا ہے جو کرسمس مناتے تھے۔ میسوپوٹامینز کئی خداؤں پر یقین رکھتے تھے، ان کا چیف گارڈ یعنی سردار خدا ہوتا تھا جو مدارک کہلاتا تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مدارک بدنظمی کے عفریت سے جنگ کرتا ہے اور اس جدوجہد میں مدارک اور اس کا ساتھ دینے کے لیے میسوپوٹامینز نئے سال کی تقریبات کا انعقاد ہر سال موسم سرما میں منایا کرتے تھے۔ ”زگ موک“ نامی یہ تہوار جو نئے سال کی آمد کی خوشی میں 12 دن پہلے منایا جاتا تھا اب کرسمس کے نام سے منایا جاتا ہے۔[6]

رومن اپنے خدا ”سیٹرن“ کا جشن مناتے تھے۔ ان کا تہوار ”یشوریلیا“ کہلاتا اور یہ دسمبر کے وسط سے شروع ہوکر یکم جنوری تک جاری رہتا۔ مختلف بہروپ بدل کر گلیوں میں گھومنا، دوستوں سے ملاقات اور تحائف کے تبادلے اس تہوار میں شامل تھے۔ رومن اپنے گھروں کو سرسبز درختوں سے سجاتے جن میں موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں۔ آقا و غلام اپنی جگہ تبدیل کرتے تھے جو یشوریلیا رومیوں کے لیے ایک تفریح ہوا کرتی تھی لیکن مسیحی اس تہوار کو تفریح سمجھ کر نہیں مناتے تھے۔ جیسے جیسے مسیحیت پھیلتی گئی ان کی تقریبات میں بھی رومیوں کی طرح رسمیں فروغ پانے لگیں۔ پہلے تو چرچ نے اس قسم کی تقریبات کو منانے سے منع کیا لیکن چرچ کی ہدایت لاحاصل رہی اور بالآخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ تہوار خدا کے بیٹے کے تہوار کی حیثیت سے منائے جائیں گے۔ 25 دسمبر کی تاریخ ناصرف رومیوں کے لیے مقدس تھی بلکہ فارسیوں کے لیے بھی جن کا مذہب اس وقت مسیحیت کا اہم حریف تھا۔ آخرکار چرچ نے رومیوں کے جشن روشنیوں اور تحائف کو تقریبات کرسمس میں شامل کرلیا۔ یسوع جنہیں مسیحی خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں، کی تاریخِ پیدائش صحیح طور پر کسی کو بھی معلوم نہیں۔ روایات سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ یہ یسوع مسیح کی پیدائش کا جشن 98ء سے منایا جاتا ہے۔ 137ء میں روم کے بشپ حکم دیا تھا کہ یسوع مسیح کی سالگرہ کو بطور مذہبی رسم منایا جائے گا۔ 350ء میں ایک بشپ نے 25 دسمبر کو کرسمس کے دن کے لیے منتخب کرلیا۔[6]

پاکستان میں کرسمس[ترمیم]

دنیا کے کئی ممالک میں عید ولادت مسیح دھوم دھام سے منائ جاتی ہے۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں مسیحی اقلیت یہ تہوار عقیدت سے مناتی ہے۔ اس موقع پر حکومت پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر میں تین روز کے لیے کرسمس بازار لگائےجاتے ہیں۔ان بازاروں میں فروخت ہونیوالی اشیاء پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ کرسمس بازار 22 سے 24 دسمبر تک لگائے جاتے ہیں۔صوبہ پنجاب کے سبھی 36 اضلاع کے ڈی سی اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں کرسمس کے تہوار پر مسیحی برادری کے لیے ان بازاروں کے انعقاد کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کرسمس بطور کثیر العقائد تہوار—BBC News. Retrieved 2008-09-30.
  2. "In the U.S.، Christmas Not Just for Christians"۔ Gallup, Inc.۔ 2008-12-24۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-12-16۔ 
  3. Paul Gwynne, World Religions in Practice (John Wiley & Sons 2011 ISBN 978-1-4443-6005-9)۔ John Wiley & Sons۔ 
  4. Ramzy، John۔ "The Glorious Feast of Nativity: 7 جنوری? 29 Kiahk? 25 دسمبر?"۔ Coptic Orthodox Church Network۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-01-17۔ 
  5. Joseph F. Kelly, The Feast of Christmas (Liturgical Press 2010 ISBN 978-0-8146-3932-0)۔ 
  6. ^ 6.0 6.1 کرسمس عیسائیت سے مسلمانوں تک از عبد الوارث ساجد، صفحہ 17-18۔
  7. http://www.sargodhaepaper.com/2014/12/blog-post_963.html