کرنل فریدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کرنل فریدی اردو جاسوسی ادب کا ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ کردار ہے، اس کردار کے خالق اردو ادب کے مشہور و معروف بین الاقوامی شہرت یافتہ عظیم مصنف ابن صفی صاحب ہیں۔ تقسیم کے پانچ سال بعد، پاکستان ہجرت کرنے سے چند ماہ قبل ابن صفی نے انسپکٹر فریدی و سارجنٹ حمید کے لازوال کردار تخلیق کر کے اپنا پہلا جاسوسی ناول ’’دلیر مجرم‘‘ مارچ 1952ء میں جاسوسی دنیا کے تحت شائع کیا جسے عوام میں بے حد مقبولیت ملی (ابن صفی نے ناول ’’دلیر مجرم‘‘ کی کہانی لکھنے کا سلسلہ جنوری 1952ء سے شروع کیا اور اس کی اشاعت مارچ 1952ء میں ہوئی، دیکھتے ہی دیکھتے ابن صفی کے تخلیق کردہ لازوال کردار انسپکٹر فریدی و سارجنٹ حمید برصغیر پاک و ہند میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے، بعد میں یہ کردار بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوئے اور اب بھی یہ کردار پاکستان و بھارت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مشہور و معروف ہیں۔

انہی کرداروں فریدی و حمید کی تخلیق سے اور بعد میں علی عمران کی تخلیق سے ابن صفی صاحب بانی پاکستانی جاسوسی ادب کہلائے اور اردو جاسوسی ادب میں پہلا طبع زاد ناول لکھنے اور اردو جاسوسی ادب کی تاریخ میں پہلی بار اپنے جاسوسی ناولوں کو ایک ماہنامے کے طور پر لکھنے کی بدولت بانی اردو جاسوسی ادب بھی کہلاتے ہیں۔

فریدی کا اصل نام احمد کمال فریدی ہے جو کرنل احمد کمال فریدی‘‘ نام سے بھی مشہور ہے۔

جاسوسی دنیا کے ناول نمبر 41 ’’موت کی چٹان‘‘ میں انسپکٹر فریدی و سارجنٹ حمید کو ملک و قوم کے لیے بہترین خدمات سر انجام دینے پر اعزازی طور پر کرنل اور کیپٹن کے عہدے قبول کرنے پڑے، حالانکہ فریدی و حمید کے عہدے انسپکٹر و سارجنٹ ہی ہیں مگر یہ اعزازی عہدے انہیں حکومت کی طرف سے قبول کرنے پڑے۔ کرنل فریدی اگر چاہتا تو اس کا عہدہ آئی جی سے بھی کہیں زیادہ ہوتا مگر اس نے اپنی پروموشن پر کبھی توجہ نہیں دی اور پروموشن کو ہمیشہ رد کیا اور ملک و قوم کی خدمت کی خاطر ایک انسپکٹر یا کرنل کے عہدے پر رہتے ہوئے وہ اپنی خدمات بہتر طور پر سر انجام دیتا ہے۔

کرنل فریدی جو نواب عزیز الدین خان کا اکلوتا بیٹا ہے اور ایک بہت بڑی جائداد کا اکیلا وارث ہے، کرنل فریدی بہت مالدار ہے، دار الحکومت میں کرنل فریدی کی ایک بہت شاندار کوٹھی ہے۔ کرنل فریدی کے پاس صدر مملکت سے ایک خصوصی اجازت نامہ بھی حاصل ہے، کرنل فریدی کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ بلاواسطہ صدر مملکت کو جواب دہ ہے۔ کرنل فریدی کے صدر مملکت کے ساتھ خفیہ روابط ہیں۔

ناول 41 ’’موت کی چٹان‘‘ سے اگلے ہی ناول نمبر 42 ’’نیلی لکیر‘‘ میں فریدی کرنل اور حمید کیپٹن بن کر کام کرتے ہیں، اسی ناول میں ایک بین الاقوامی خطرناک ترین مجرم سنگ ہی پہلی بار کرنل فریدی کے مقابلے میں آتا ہے، اسی ناول ’’نیلی لکیر‘‘ سے یہ کردار ’’سنگ ہی‘‘ کافی مقبول ہوا، بعد میں یہی کردار ابن صفی ہی کے ایک اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کردار علی عمران کے مقابلے میں عمران سیریز کے کئی ناولوں میں آیا، علی عمران اور سنگ ہی کے ٹکراؤ والے ناولوں کو عوام کی بڑی تعداد پسند کرتی ہے۔

سنگ ہی جو مارشل آرٹ کا ماہر ہے اور گولیوں سے بچنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے جسے اس نے ’’سنگ آرٹ‘‘ نام دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ آرٹ پوری دنیا میں صرف اسے ہی معلوم ہے۔ ایک کیس میں علی عمران یہ سنگ آرٹ سنگ ہی سے اس طرح سیکھتا ہے کہ سنگ ہی کو پتا ہی نہیں چلتا، سنگ ہی عمران کو سنگ آرٹ کا استعمال کرتا دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہے۔ کرنل فریدی کو اس ’’سنگ آرٹ‘‘ کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کیونکہ کرنل فریدی اپنے ہی انداز سے گولیوں سے بچنے کا پہلے سے ماہر ہے، کرنل فریدی نے خود ہی پریکٹس/مشق کر کے گولیوں سے بچنے کی مہارت حاصل کی، کیپٹن حمید کو کرنل فریدی نے ایک بار کہا کہ مجھ پر فائر کرو، کیپٹن حمید پہلے تو نہیں مانا مگر کرنل فریدی کے اصرار پر کیپٹن حمید نے کرنل فریدی پر فائر کیا اور وہ حیرت انگیز پھرتی سے بچ گیا اسی طرح کیپٹن حمید نے مزید فائر کیے اور کرنل فریدی ان سے ہمیشہ بچ جاتا۔

اگلے ناولوں میں فریدی و حمید کرنل و کیپٹن ہی کے عہدے سے کام کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں سوائے جاسوسی دنیا نمبر 87 ’’زہریلا آدمی‘‘، 88 ’’پرنس وحشی‘‘، 89 ’’بیچارہ بیچاری‘‘ کے۔ ان ناولوں میں کرنل فریدی و کیپٹن حمید کو دوبارہ انسپکٹر اور سارجنٹ دکھایا گیا ہے اور ان سے اگلے ناول 90 ’’اشاروں کے شکار‘‘ میں تقسیم کے فوراً بعد کا ماحول نظر آتا ہے۔

کرنل فریدی کا ایک کوڈورڈ نام ہارڈ اسٹون ہے یہ نام کیپٹن حمید نے رکھا تھا۔ کرنل فریدی کی ایک خفیہ فورس یا تنظیم ہے جس کا نام ’’بلیک فورس‘‘ ہے، یہ فورس بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہے۔ بلیک فورس کے ممبرز اکثر کیسز میں کرنل فریدی کو اس کے کوڈورڈ نام ’’ہارڈ اسٹون‘‘ سے پکارتے ہیں۔

کرنل فریدی و کیپٹن حمید کے مقابل دنیا کے کئی بڑے بڑے انتہائی خطرناک پھرتیلے مجرم اور بین الاقوامی خطرناک تنظیمیں بھی آئیں جن میں فنچ، سنگ ہی، ڈاکٹر ڈریڈ، لیونارڈ، مورگن، ڈاکٹر سلمان، جابر، مسٹر کیو، گارساں، قلندر بیابانی، جیرالڈ شاستری، زیرولینڈ تنظیم کی تین بڑی اور خطرناک ترین ناگنوں میں سے دو بڑی ناگنیں بھی کرنل فریدی و کیپٹن حمید سے ٹکرائی ہیں جو نانوتہ اور ریما کے ناموں سے مشہور ہیں، زیرولینڈ کی پہلی بڑی ناگن تھریسیا بمبل بی آف بوہمیا جو اپنے نام کے آگے تین B ’’بی‘‘ آنے کی وجہ سے ’’ٹی تھری بی‘‘ T3B کے نام سے مشہور ہے اِس کا ذِکر بھی سب سے پہلے جاسوسی دنیا نمبر 56 سے 59 جو شعلے سیریز سے ایک مقبول سلسلہ ہے میں آیا۔ اور مجرم تنظیموں میں طاقت یعنی پاور ’’Power‘‘ کی تنظیم اور زیرولینڈ کی تنظیمیں ہیں۔

ابن صفی کے ناولوں کو پڑھ کر کئی اسباق ملتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ مجرم چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، جرائم جیسے بھی ہوں آخر کار فتح قانون کی ہی ہوتی ہے، برے کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

کرنل فریدی کے کردار میں حضرت علامہ اقبال کے خوابوں اور افکار کے مردِمومن و شاہین کی عملی جھلکیاں ملتی ہیں، جاسوسی دنیا کے دو ناولوں میں کرنل فریدی علامہ اقبال کے اشعار ایک مخصوص جگہ اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ 1973ء میں ابن صفی صاحب نے دھنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرنل فریدی کو مرد مومن کہا۔ اسی طرح کرنل فریدی کے کردار میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کے کردار کی بھی کئی جھلکیاں ملتی ہیں۔ ان سب باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ کرنل فریدی کے کردار میں صرف انہی شخصیات کے کردار کی چند جھلکیاں ملتی ہیں بلکہ کرنل فریدی کے کردار میں ابن صفی صاحب کے کردار کی اپنی بھی چند جھلکیاں ملتی ہیں اسی طرح اور بھی چند اہم شخصیات کی چند جھلکیاں ملتی ہیں، انہی سب خصوصیات اور کرنل فریدی کی اپنی کئی خصوصیات کی بدولت کرنل فریدی کو ایک منفرد کردار بنا کر ابن صفی صاحب نے پیش کیا۔