کشتی نوح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کشتی نوح (1846)، امریکی لوک مصور ایڈورڈ ہکس کی پینٹنگ

کشتی نوح (Noah's Ark) (عبرانی: תיבת נח; بائبل عبرانی: Tevat Noaḥ) ایک عذاب جو ایک طوفان کی صورت میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا، جس میں حضرت نوح علیہ السلام نے ایک کشتی بنوا کر صالح انسانوں اور جانوروں کو سوار کیا۔ اس طوفان میں زمین مسلسل پانی اگلتی رہی اور آسمان مسلسل بارش برساتا رہا۔ روایات اور سائنسی شواہد کی رو سے یہ طوفان بنیادی طور پر عراق کے علاقے مابین النھرین (میسوپوٹیمیا) میں آیا تھا۔ اس کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن تینوں میں آتا ہے۔

کشتی نوح علیہ السلام   جس میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے سمیت طوفان نوح سے پناہ لی تھی۔ مختلف مذہبی روایات اور قرآن حکیم (29 : 14) کے مطابق جب آپ کی عمر ساڑھے نو سو برس کی ہو گئی ۔ اور آپ کی امت نا فرمانیاں کر کے عذاب کی مستحق ٹھہری تو اللہ نے آپ کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا کہ میں دنیا کو طوفان سے تباہ کرنا چاہتا ہوں اور انھیں یہ حکم دیا کہ اپنے خاندان اور مویشیوں کو بچانے کی خاطر ایک کشتی تعمیر کر لیں۔ اس پر آبادی سے بہت دور آپ تشریف لے گئے۔ تختے اور میخیں فراہم کیں اور کشتی بنانے لگے۔ لوگوں کو پتا چلا تو آپ کا مذاق اڑانے لگے ان کا مذاق یہاں تک بڑھ گیا کہ انھوں نے بنی ہوئی کشتی کو گندگی سے بھر دیا۔ لیکن ہوا یہ کہ انھیں ایک مہلک بیماری نے آن لیا۔ جس کا علاج اسی گندگی کو ٹھہرایا گیا۔ چنانچہ بہت جلد کشتی دهل دھلا کر صاف ہو گئی ۔ آخر ایک روز اللہ کے حکم سے التنور

کے مقام سے پانی ابلنا شروع ہوا اور اور بہت جلد روئے زمین پر پھیل گیا۔ نوح اور ان کے گھر والے اللہ کا نام لے کر کشتی میں بیٹھ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام قوم تباہ ہو گئی۔ سوائے کشتی والوں کے کہ انھوں نے نسل انسانی کا دوبارہ آغاز کرنا تھا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ نور کو حکم ملا۔ ”ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا۔ اور ان کے بارے میں مجھے کچھ نہ کہ جو ظالم ہیں غرق کئے جائیں گے ۔ اور وہ کشتی بنانے لگا) (سورة ہود: 37)

مذہبی اور تاریخی کتب میں ذکر[ترمیم]

بائبل میں اس کشتی کو آرک“ کہا گیا۔ ڈاکٹر ملکی لکھتے ہیں کہ اس کشتی کی تیاری میں ایک سو برس صرف ہوئے تھے۔ کشتی کا طول 300 ہاتھ عرض 50 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ تھی۔ اور اگر ایک ہاتھ کی لمبائی 22 اینچ مانی جائے تو یہ کشتی 547 فٹ بی 91 فٹ چوڑی اور 47 فٹ اونچی تھی۔ البینادی لکھتا ہے کہ اس کی تعمیر پر دو برس صرف ہوئے تھے۔ اس میں تین منزلیں تھیں۔ اس میں نوح ان کی بیوی تین بیٹوں اور بہووں کے علاوہ مختلف اقسام کے پرندے اور حیوانات بھی جمع کئے گئے تھے۔ اس کے بعد طوفان شروع ہوا اور آن واحد میں تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حتی کہ پہاڑیاں بھی پانی میں چھپ گئیں۔ یہ طوفان چالیس دن تک برابر جاری رہا۔ کئی ماہ تک کشتی سمندر میں بہتی رہی اور آخر سات ماہ بعد کوہ ارارات سے جالگی۔ قرآن مجید میں کوہ جودی درج ہے۔ (ہود: 44) مفسرین کے مطابق شام میں جودی نام کا جزیرہ واقع ہے۔ جہاں یہ پہاڑموجود ہیں۔ اکثر علماء نے کوہ جودی ہی کو ارارات کہا ہے

قدیم سمیری داستانوں میں جو ان کی مٹی کی تختیوں پر رقم کی گئی تھیں، جلج موس کا اور اس کے طوفان کا ذکر ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ کشتی کی چھ منزلیں اور سات درجے تھے۔ اور ہر منزل کے نوحصے اور یہ کشتی کوہ نصر پر جالگی۔

کسدی روایات میں ہے کہ ہیسدار جو اکیلا طوفان سے بچ گیا بیان کرتا ہے کہ ہیاد یوتا مجھے دکھائی دیا۔ اس نے مجھے خبر دی ۔ بنی آدم کو اس کے گناہوں کے سبب تباہ برباد کرنے کی۔ سو تو اتنی لمبی کشتی بنا۔ اپنا اناج اسباب دولت اور باندیاں حیوانات بھی اس میں جمع کر لے اس کا دروازہ میں خور بند کر دوں گا۔

قدیم مصریوں کے نزدیک نوح کی کشتی کا نام ”گل“ تھا جو لکڑی کا ایک بہت بڑا تیرتا ہوا مکان تھا۔ آریا اور ہندی روایات میں دیو کلیان اور اس کے خاندان کے سوا تمام لوگ تباہ ہو گئے۔ ایک صندوق اس کی حفاظت کے لئے مہیا کیا گیا تھا اور وہ جس وقت اس میں داخل ہو رہے تھے تو تمام جانور چرند پرند بھاگتے ہوئے آئے اور اس میں داخل ہو گئے اور جب طوفان تھم گیا تو کشتی پار ناسس کی چوٹی سے جالگی۔

قدیم پاک و ہند میں ہنود روایات ملتی ہیں۔ مہا بھارت میں طوفان کے ہیرو رشی منو کا ذکر ہے۔ ایک مچھلی نے اسے طوفان سے آگاہی دی۔ اور کشتی بنانے کو کہا۔ طوفان کے بعد کشتی عمارت کی چوٹی سے جا لگی۔ تب منو کو پتہ چلا کہ مچھلی کے روپ میں برہما اس سے مخاطب تھا۔

ایرانی روایات میں بھی ایک طوفان اور ایک جہاز کا ذکر ہے۔ ہر میس کو زیوس دیوتا نے خوفناک بارش کی اطلاع دی تب زیوس نے اپنے ایک بوڑھے شخص کو شاہ بلوط کی لکڑی سے ایک جہاز تیار کرنے اور اس میں وافر مقدار میں اشیائے خوردنی جمع کرنے کا حکم دیا۔ جب اس مرد ضعیف نے اور اس کی بیوی پیرو نے جہاز میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا تو زیوس نے طوفان برپا کر دیا۔ چالیس رات مینہ برسا۔ آخرکشی پر ناک کی چوٹیوں سے آن گئی۔

امریکی قبائل نہوا میں بھی بابلی، سیری داستانوں سے ملتی جلتی داستانیں موجود ہیں۔ ان کے دیوتا ططلان نے نتا نامی ایک شخص کو صنوبر کا درخت کھوکھلا کر کے ایک کشتی بنانے کو کہا تاکہ نتا اپنی بیوی نینا سمیت آنے والے طوفان سے پچ سکیں۔ انھیں اپنے ساتھ مکئی کا صرف ایک بھٹہ لے جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اوپر بیان شده روایات کی بڑے طوفان کا ذکر کرتی ہیں جس میں کوئی کشتی استعمال کی گئی تھی۔ یہ طوفان طوفان نوح ہی تھا اور یہ کشتی آرک تھی۔ اس کے آکر رکنے کا محل وقوع ارارات زیادہ قرین قیاس ہے۔ کیونکہ سلسلہ کوہ ارارات کے مشرق کی طرف واقع پہاڑوں سے صاف پا چلتا ہے کہ کسی وقت یہ علاقہ پانی کے نیچے ڈوبا ہوا تھا۔ مشہور مورخ ابن خلدون کے خیال کے مطابق یہ طوفان عراق کے علاقوں میں آیا تھا اور اس کا پانی صرف عقب حلوان تک پہنچا تھا۔

آج بھی لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سے کوہ ارارات پر چڑھ کر کشتی نوح کا پتا چلایا جائے۔ 1829ء میں جرمنی کے پروفیسر پٹ نے سب سے پہلے آراراط پر چڑھ کر دیکھا تو چوٹی کو گول چبوترے کی مانند پایا جو ٹھوس داگی برف سے دبا ہوا تھا۔ ایک ہوا باز کا کہنا ہے کہ اسے برف کے نیچے بہت دور ایک سیاہ دھبہ دکھائی دیا ہے اور شاید میں ”آرک ہے (مزید دیکھیں ”ارارات )[1]

  1. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا- ص 41، ج اول ۔از سید قاسم محمود، عطش درانی- مکتبہ شاہکار لاہور