کشف المحجوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

کشف المحجوب حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ثم لاہوری معروف بہ حضرت داتا گنج بخش کی روحانیت و تصوف کے موضوع پر لکھی ہوئی شہرہ آفاق تصنیف ہے جو فارسی میں لکھی گئی اب اس کے کئی تراجم دستیاب ہیں مسلک صوفیہ میں اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔[1]

کشف المحجوب کی قدرو منزلت[ترمیم]

شیخ محمد اکرام مرحوم تاریخ ملی میں ”علی ہجویری لاہوری ” کے تحت عنوان لکھتے ہیں

  • ”فارسی نثر کی سب سے پہلی مذہبی کتاب جو برصغیر پاک و ہند میں پایہ تکمیل کو پہنچی ” کشف المحجوب” ہے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری نے قبتہ الاسلام لاہور میں مکمل کیا”کشف المحجوب اپنے موضوع اور مباحث کے اعتبار سے جس قدر بلند پایہ کتاب ہے وہ تعریف و توصیف سے مستغنی ہے۔
  • کشف المحجوب کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں صحیح اسلامی تصوف نے فروغ پایا اور اس وصف خاص کی بدولت آج بھی کشف المحجوب کی قدر و منزلت اتنی ہے جتنی آج سے نوسو برس پہلے تھی ۔
  • یہ کتاب آپ نے اپنے رفیق ابو سعید ہجویری کی خواہش پر جوآپ کے ساتھ غزنی چھوڑ کر لاہور آئے تھے لکھی اور اس میں تصوف کے طریقے کی تحقیق اہل تصوف کے مقامات کی کیفیت ان کے اقوال اور صوفیانہ فرقوں کا بیان معاصر صوفیوں کے رموز و اشارات اورمتعلقہ مباحث بیان کیے ہیں اہل طریقت میں اس کتاب کو بڑا مرتبہ حاصل ہے۔
  • کشف المحجوب میں جورموز طریقت اورجن حقائق معرقت کو منکشف کیا گیا ہے ان کی بنیاد حضرت داتا صاحب نے اپنے مکاشفات پر نہین رکھی ہے بلکہ ان کا ماخذ قرآن و سنت کو قرار دیا ہے یا دنیائے عرفان کی مستند کتابیں ہیں جن کا ذکر کشف المحجوب میں کیا ہے
  • اس کی قبولیت کا راز ہے کہ آپ کے بعد کے بزرگان طریقت اورارباب تصوف کے لیے وہ ہمیشہ ماخذ کا کام دیتی رہی ہے
  • صاحب کشف المحجوب جس مسئلہ پر رمزطریقت پر قلم اٹھاتے ہیں اولاًقرآن حکیم اور ارشاد نبوی ۖ سے اس کی سند لاتے ہیں پھر اس کا استدلال آثار واخبار سے کرتے ہیں اگر وہ اس استدلال میں کامیاب نہیں ہوتے تو اکابرین ارباب تصوف کے یہاں اس کی سند تلاش کرتے ہیں۔
  • حضرت داتا گنج بخش قدس سرۂ نے کشف المحجوب کو تکلف وتضح سے بری ،نہایت آسان اورروزمرہ کی فارسی میں تحریر کیا ہے انداز بیان ایسا صاف اورواضح ہے کہ مفہوم و معنی کے سمجھنے میں کہیں دقت پیدا نہیں ہوئی۔
  • کشف المحجوب کی بلندپائیگی کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ صوفیائے عظام نے اس کو اپنی تصانیف میں ماخذ قرار دیا تیرھویں صدی کے وسط تک فارسی زبان عوام کی زبان تھی تحریر کی زبان بھی فارسی تھی اس لیے اس وقت تک کشف المحجوب کے اردوترجمے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔
  • تیرھویں صدی کے اواخر اورچودھویں صدی کے اوائل میں جب فارسی زبان کا انحطاط بحد کمال پہنچ گیا اور اُردو عوام کی زبان قرار پائی تو اس وقت سے فارسی زبان کی بہت ہی بلند پایہ کتب کے اُردو میں تراجم ہونے لگے چنانچہ اس ضرورت کے تحت ”کشف المحجوب”جیسی بلند پایہ اور گراں مایہ کتاب کے متعدد اُردو تراجم ہوئے جو اپنے اپنے وقت پرشائع ہوکر اس عہد اوراس وقت کی ضرورت کو پوراکرتے رہے اس وقت تک بیس (20)سے زیادہ اردو تراجم اس عظیم کتاب کے شائع ہوچکے ہیں۔
  • اولین تراجم کا انداز بالکل عامیانہ ہے اورزبان اپنے عہد کی ترجمان ہے پھرکچھ کچھ تبویت و تہذیب کا اہتمام ہونے لگا لیکن سوائح مصنف پرکوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ۔
  • اس سلسلہ میں عظیم مستشرق پروفیسر نکلسن(مصنف تاریخ ادبیات عرب) نے 1901ء میں کشف المحجوب کا انگریزی ترجمہ شائع کیا وہ اردو تراجم سے بہت بلند وقیع اور جامع تھاانھوںنے سوانح نگاری میں تحقیق کا حق ادا کیا اور حضرت داتا گنج بخش کی سوانح حیات کے ہر پہلو پر تحققانہ بحث کی کشف المحجوب کے منابع اورماخذ کا پتہ چلا یا ان کے اساتذہ کرام ان کے معاصرین عظام اور ان سے متعلق تاریخوں کی جستجواورصحت کی تحقیق کی الغرض موضوع اورمباحث پر سیر حاصل تبصرہ کرکے کشف المحجوب کے صحیح مقام سے دنیائے ادب کو متعارف کرایا پروفیسر نکلسن کی تحقیقات نے کشف المحجوب کے اُردو مترجمین کو بہت سے نئے رازوں سے آشنا کیا انھوں نے اس عظیم مستشرق کی تحقیقات سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
  • ایک روسی ادیب پروفیسر زوکو فنکی نے بڑی کاوش اوردقت نظرسے کشف المحجوب کے ایک قدیم نسخہ کی تصحیح کی اور اس کو اپنے ایک تحقیقانہ مقدمہ (بہ زبان روسی) کے ساتھ لینن گراڈ سے شائع کیا
  • کچھ دن بعد ایک ایرانی ادیب نے اس روسی مقدمہ کو فارسی میں منتقل کیا اوراپنا مترجمہ مقدمہ اس مصحح متن کے ساتھ شائع کرکے اس روسی ادیب کی کاوشوں سے ایرانیوں اوردوسرے دل دادگان کشف المحجوب سے روشناس کرایا

اکابرین کی نظر میں[ترمیم]

پیر کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کشف المحجوب(مترجم: فضل الدین گوہر) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تصنیف کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کے مصنف سے لگایا جاتا ہے۔ جس کتاب کا مصنف اللہ تعالٰی کا برگزیدہ نبدہ، عارف کامل، عالم ربانی حضرت ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری الجلابی رحمۃ اللہ علیہ جیسی فقید المثال ہستی ہو، اس کتاب کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ہر زمانہ کے اہل علم اور ارباب طریقت وحقیقت نے اس کتاب کی عظمت اور افادیت کا اعتراف کیا ہے، سلطان المشائخ نظام الحق والدین حضرت محبوب الہی نے اس کتاب کے بارے میں فوائد الفواد میں ارشاد فرمایا: " اگر کسی کا پیر نہ ہو تو ایسا شخص جب اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اس کو پیر کامل، مل جائیگا" مفتی غلام سرور لاہوری خزینہ الاصفیا میں لکھتے ہیں: "حضرت شیخ علی ہجویری کی بہت سی تصانیف ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مشہور و معروف کتاب کشف المحجوب ہے۔ اور کسی کی مجال نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض کر سکے یا تنقید کر سکے۔ علم تصوف میں یہ پہلی تصنیف ہے جو فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔" حضرت مولانا جامی قدس سرہ "نفحات الانس" میں لکھتے ہیں: "یہ کتاب فن تصوف کی معتبر اور مشہور کتب میں سے ہے۔ آپ نے اس کتاب میں بے شمار لطائف و حقائق کو جمع کر دیا ہے۔"

مزید دیکھیے[ترمیم]

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے: نفس کو اس کی خواہش سے دور رکھنا حقیقت کے دروازے کی چابی ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ الاسرار ،شیخ عبد الرحمن چشتی ،صفحہ 113،ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔