کشمیری دروازہ، دہلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کشمیری دروازہ، دہلی
Kashmere Gate Entrance view.jpg
شاہ جہاں آباد کے 14 دروازوں میں سے ایک
متناسقاتمتناسقات: 28°40′00″N 77°13′44″E / 28.6666296°N 77.2287938°E / 28.6666296; 77.2287938
مقامدہلی
قسمشہر دروازہ


کشمیری گیٹ، دہلی، 1858ء
کشمیری گیٹ، دہلی، 1865ء

کشمیری گیٹ، دہلی (انگریزی: Kashmiri Gate, Delhi) دہلی میں واقع ہے اور یہ تاریخی فصیل بند شہر کا شمالی دروازہ بھی ہے۔ اس کی تعمیر مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہ جہاں نے کروائی تھی۔ اس کا نام کشمیری گیٹ رکھا گیا کیونکہ یہاں سے کشمیر کے لیے سڑک نکلتی تھی۔

اب پرانی دہلی میں واقع اس دروازہ کے آس پاس کا علاقہ بھی کشمیری گیٹ کہلاتا ہے اور یہاں ایک بین الاقوامی بس اڈا بھی ہے۔ اس کے مضافات میں لال قلعہ اور دہلی ریلوے اسٹیشن بھی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

کشمیری گیٹ پرانی دہلی کے شمالی علاقہ میں واقع ہے اور چونکہ دہلی سے کشمیر کی جانب ہے اسی لیے انگریزوں نے کشمیری گیٹ کا نام دیا۔ اس بالمقابل پرانی دہلی کے جنوب میں جو دروازی ہے اسے دہلی گیٹ کہا جاتا ہے۔ 1803ء میں جب برطانوی حکومت دہلی میں منتقل ہوئی تو انہوں نے پایا کہ پرانی دہلی اور شاہ جہاں آباد کی اکثر عمارتیں قابل مرمت ہیں جنہیں ایک عرصہ سے یوں ہی چھوڑدیا گیا ہے۔ مرہٹوں کے حملہ نے دہلی عمارتوں کو بہت نقصان پہونچایا تھا۔ کشمیری گیٹ کا علاقہ مغلوں کی رہائش اور شاہی لوگوں کا مسکن تھا۔[1] 1910ء کی دہائی میں حکومت ہند کے صحافیوں نے کشمیری گیٹ کے آس پاس اپنے گھر آباد کیے جن میں کثیر تعداد میں بنگالی نسل کے لوگ تھے۔ وہ لوگ درگا پوجا بڑے دھوم دھام سے ماتے تھے۔ دہلی درگا پوجا سمیتی کی جانب سے منعقد کردہ یہ تہوار دہلی کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک ہے جو اب بھی مانیا جاتا ہے۔[2]

سینٹ جیمس گرجا گھر[ترمیم]

کشمیری گیٹ کی تفریحی مقامات میں سینٹ جیمس گرجا گھر بہت مشہور ہےجسے کولونیل جیمس اسکینر (1778ء-1841ء) کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا۔[3] یہ ایک مذہبی عبادت گاہ ہے مگر اب دہلی کی وراثت کا حصہ ہے۔ اس کی تعمیر 1826ء تا 1836ء کی گئی تھی۔

آئی ایس بی ٹی[ترمیم]

کشمیری گیٹ میں واقع مہارانا پرتاپ انٹر اسٹیٹ بس ٹرمنس شہر کا قدیم ترین بس اڈا ہے جہاں سے ہریانہ، جموں و کشمیر، پنجاب، بھارت، ہماچل پردیش، راجستھان اور اتراکھنڈ کے لیے بسیں ملتی ہیں۔ اس کا افتتاح 1976ء میں ہوا تھا۔[4] اس کے مضافات میں مجنوں کا ٹیلہ ہے جو تبتی مہاجرین کی جائے پناہ ہے۔ یہاں ایک مجنوں کا ٹیلہ گرودوارہ بھی ہے جسے 1783ء میں بگھیل سنگھ نے بنایا تھا۔ اس کا نام ایک صوفی کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے سکھ گرو گرو نانک نے یہیں جولائی 1505ء میں ملاقات کی تھی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "How community pujas came about". انڈیا ٹوڈے. 25 September 2009. 
  2. No.3. Skinner's Church, Delhi. British Library'.
  3. Dutta، Sweta (14 December 2010). "Next year, a ride out of new-age transport hubs". The Indian Express. اخذ شدہ بتاریخ 03 مئی 2018. 
  4. "A Gurdwara steeped in history". The Times of India. 25 Mar 2012.