کعب بن اشرف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے کعب (ضد ابہام)۔
کعب بن اشرف
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 6  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 624 (23–24 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

کعب بن اشرف مدینہ میں آباد ایک یہودی تھا ۔ یہودیوں میں کعب بن اشرف بہت ہی دولت مند تھا۔ یہودی علما اور یہود کے مذہبی پیشواؤں کو اپنے خزانہ سے تنخواہ دیتا تھا۔ دولت کے ساتھ شاعری میں بھی بہت با کمال تھا جس کی وجہ سے نہ صرف یہودیوں بلکہ تمام قبائل عرب پر اس کا ایک خاص اثر تھا۔ اس کو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ جنگ ِ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل ہو جانے سے اس کو انتہائی رنج و صدمہ ہوا۔ چنانچہ یہ قریش کی تعزیت کے لیے مکہ گیا اور کفارِ قریش کا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ایسا پر درد مرثیہ لکھا کہ جس کو سن کر سامعین کے مجمع میں ماتم برپا ہو جاتا تھا۔ اس مرثیہ کو یہ شخص قریش کو سنا سنا کر خود بھی زار زار روتا تھااور سامعین کو بھی رلاتا تھا۔ مکہ میں ابو سفیان سے ملااور اس کو مسلمانوں سے جنگ ِ بدر کا بدلہ لینے پر ابھارا بلکہ ابو سفیان کو لے کر حرم میں آیااور کفار مکہ کے ساتھ خود بھی کعبہ کا غلاف پکڑ کر عہد کیا کہ مسلمانوں سے بدر کا ضرور انتقام لیں گے پھر مکہ سے مدینہ لوٹ کر آیا تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو لکھ کر شان اقدس میں طرح طرح کی گستاخیاں اور بے ادبیاں کرنے لگے، اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ کو چپکے سے قتل کرا دینے کا قصد کیا۔ کعب بن اشرف کے یہ افعال معاہدہ کی خلاف ورزی تھے جو یہود اور انصار کے درمیان میں ہو چکا تھا کہ مسلمانوں اور کفارِ قریش کی لڑائی میں یہودی غیر جانبدار رہیں گے۔ بہت دنوں تک مسلمان برداشت کرتے رہے مگر جب پیغمبرِ اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو محمد بن مسلمہ نے ابونائلہ و عباد بن بشر و حارث بن اوس وابو عبس کو ساتھ لیا اور رات میں کعب بن اشرف کے مکان پر گئے اور ربیع الاول کو اس کے قلعہ کے پھاٹک پر اس کو قتل کر دیا[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرتِ مصطفیٰ،صفحہ283 عبد المصطفیٰ اعظمی