کعب بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کعب بن مالک
معلومات شخصیت
طبی کیفیت اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کعب بن مالک انصاری صحابی رسول اصحاب صفہ میں شامل ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

کعب نام، ابو عبد اللہ کنیت ،بنو سلمہ سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے،کعب بن مالک بن ابی کعب عمرو بن قیس بن سواد بن منعم بن کعب بن مسلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزید بن حشم بن خزرج ،والدہ کا نام لیلی بنت زید بن ثعلبہ تھا اور بنو سلمہ سے تھیں۔جاہلیت میں ابوالبشیر کنیت کرتے تھے، آنحضرتﷺ نے بدل کر ابو عبد اللہ کردی، مالک کے یہی ایک چشم وچراغ تھے۔امام ابن ابی حاتم نے کعب کو اصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے ۔[1]

اسلام[ترمیم]

عقبہ ثانیہ میں 70 آدمیوں کے ساتھ مکہ آکر بیعت کی۔

غزوات[ترمیم]

آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار ومہاجرین میں برادری قائم کی تو طلحہ بن عبید اللہ کو کہ عشرۂ مبشرہ میں تھے ان کا بھائی بنایا۔ غزوہ بدر میں جلدی کی وجہ سے نہ جاسکے، ان کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ رہ گئے تھے،لیکن آنحضرتﷺ نے کسی کو کچھ نہ کہا۔ اس غزوہ سے محروم رہنے کا ان کو کچھ افسوس بھی نہ تھا، خود فرماتے تھے کہ لیلۃ العقبہ کے مقابلہ میں جو اسلام کی آئندہ کامیابیوں کا دیباچہ تھی، میں بدر کو ترجیح نہیں دیتا گو لوگوں میں بدر کا زیادہ چرچا ہے۔[2] غزوۂ احد میں اپنے مہاجر بھائی کی طرح داد شجاعت دی، آنحضرتﷺ کی زرد زرہ پہن کر میدان میں آئے،آنحضرتﷺ ان کی زرہ زیب تن کیے تھے، اس لڑائی میں 111زخم کھائے۔ آنحضرتﷺ کے متعلق خبر اڑ گئی تھی کہ شہید ہو گئے صحابہؓ کو سخت تشویش پیدا ہو گئی،سب سے پہلے انہوں نے پہچانا اور بآواز بلند پکاراٹھے کہ رسول اللہﷺ یہ ہیں، آنحضرتﷺ نے اشارہ فرمایا کہ خاموش رہو۔[3] احد کے بعد جو غزوات پیش آئے، اُن میں انہوں نے نہایت مستعدی سے شرکت کی ،یہ عجیب بات ہے کہ عہد نبوت کے پہلے غزوہ کی طرح پچھلے غزوہ کی شرکت کے شرف سے بھی محروم رہے، غزوۂ تبوک آنحضرتﷺ کا اخیر غزوہ ہے(یہ مفصل واقعہ صحیح بخاری میں مذکور ہے) اور غزوہ عسرت کہلاتا ہے،آنحضرتﷺ کی عادت یہ تھی کہ کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو صاف صاف نہ بتاتے ؛لیکن اس دفعہ خلاف معمول ظاہر کر دیا تھا،تاکہ مسلمان اس طویل اور مشکل سفر کے لیے تیار ہوجائیں، خود کعب نے اس کے لیے دو اونٹ مہیا کیے تھے،ان کا بیان ہے کہ میں کسی غزوہ میں اتنا قوی ،تیار اورخوشحال نہ تھا جتنا اس دفعہ تھا۔ نہ جانے کی وجہ سے پچاس دن تک مختلف پابندیوں کا سامنا کیا

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے شعرا کرام[ترمیم]

امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ تین انصاری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت میں اشعار پڑھا کرتے تھے وہ حسان بن ثابت، عبد اللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک ہیں [4]

اخلاق[ترمیم]

صدق وراستی ان کا خاص وصف تھا اور اس کو انہوں نے جس طرح بنایا اس سے زیادہ ہونا ناممکن ہے دعا قبول ہونے کے بعد کبھی جھوٹ نہ بولے، خود فرماتے ہیں: واللہ ما تعمدت کذبۃ منذ قلت ذالک لرسول ﷺ الی یومی ھذا وانی لا رجوان یحفظنی اللہ فیما بقیٰ[5] غزوہ تبوک سے پیشتر کی زندگی نہایت پاک اورصاف گذری تھی،چنانچہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو بنو سلمہ نے برجستہ کہا: واللہ ما علمناک کنت اذنبت ذبنا قیل ھذا![6] یعنی خدا کی قسم تم نے اس سے پہلے تو کوئی گناہ نہ کیا تھا۔

وفات[ترمیم]

کعب کی تاریخِ وفات میں اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں 51ھ؁ یا50ھ؁ یا40ھ؁ سے پہلے وفات ہوئی ہے جب کہ علامہ ابن حبان کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن 67سال کی عمر میں یہ اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں ۔ [7]

اولاد[ترمیم]

عبد اللہ، عبیداللہ ،عبدالرحمن ،معبد،محمد، قصر۔ کعب کے ارکان خمسہ تھے ان میں سے اول الذکر کو یہ شرف خاصؒ تھا کہ جب ان کے والد نابینا ہو گئے تو یہ ان کے قائد اور راہ نما بنتے تھے۔ [8]

فضل وکمال[ترمیم]

حدیث کی کتابوں میں 80 روایتیں ہیں اور خود آنحضرتﷺ اوراسید بن ؓ حضیر سے روایت کی ہے ،راویوں میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت جابرؓ ،حضرت ابوامامہ باہلیؓ، امام باقر ؓ ،عمرو بن حکم بن ثوبان،علی بن ابی طلحہ، عمر بن کثیر بن افلح ،عمر بن حکم بن رافع جیسے اکابر شامل ہیں۔ مشہور شاعر تھے،طبیعت اچھی پائی تھی اور اشعار میں جدت تھی،جاہلیت میں شاعری کے انتساب سے مشہور تھے، ایک مرتبہ آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ شعر کہنا کیسا ہے، فرمایا کچھ مضائقہ نہیں ،مسلمان اس کی وجہ سے تلوار اورزبان دونوں سے جہاد کرتا ہے ،جب یہ شعر کہا: زعمت سخینۃ ان ستغلب ربھا فلیغلبن مغالب الغلاب سخینہ کا گمان ہے کہ اس کا معبود اس کو غالب کریگا بہتر ہے وہ تمام غالب ہو نے والوں کے غالب (خدا) پر غلبہ حاصل کریں تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اس سے تم نے خدا کو مشکور بنایا۔ ان کی شاعری کا موضوع کفار کو لڑائی سے ڈرانا اورمسلمانوں کا ان کے قلوب میں سکہ جمانا تھا ،درباررسالت میں تین شاعر تھے اورتینوں کے موضوع جداگانہ تھے، انہی میں سے ایک حضرت کعبؓ بھی تھے، کلام کے اثر کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ صرف دو بیعت کہے اور تمام قبیلۂ دوس مسلمان ہو گیا، وہ شعر یہ تھے: قضینا تھا مۃ کل وتر وخیر ثمہ اغمد نا ایسونا تہامہ اور خیبر سے ہم نے کینہ کو دور کرکے تلواریں نیام میں کر لیں یخرھا ولو نطقت لقالت قواطعھن دوسااوثقیفا اب ہم پھر ان کو اٹھاتے ہیں اوراگر بول سکیں توکہیں کہ اب دوس یا ثقیف کا نمبر ہے دوسیوں نے سنا تو کہا کہ مسلمان ہوجانا بہتر ہے،ورنہ ثقیف کی طرح ہمارا بھی حشر ہوگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب الجرح والتعدیل : 3/160
  2. بخاری:2/634
  3. طبقات ابن سعد حصہ مغازی:22
  4. الا ستیعاب 3/449
  5. مسلم:2/454
  6. بخاری:2/635
  7. الثقات لابن حبان ص: 22
  8. (بخاری:3/634)