کلام اقبال کا منظوم چترالی ترجمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کلام اقبال کا منظوم چترالی ترجمہ
مصنف علامہ اقبال
مترجم رحمت عزیز چترالی
موضوع شاعر مشرق کی شاعری
صنف کھوار کتب نگاری
ناشر

اقبال اکادمی، وزارت تعلیم حکومت پاکستان اور کھوار اکیڈمی کراچی

دفتری روئے خط

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی کتابوں بانگ دارا، بال جبریل، ضرب کلیم، زبور عجم اور ارمغان حجاز کا چترال، سوات، شمالی علاقہ جات کے ضلع غذر، افعانستان کے شیعنان، بھارت اور چین کے صوبہ سنکیانگ میں بولی جانے والی زبان کھوار میں منظوم ترجمے کی یہ شہرہء آفاق کتاب اقبال اکادمی، وزارت ثقافت حکومت پاکستان اورکھوار اکیڈمی نے شایع کی ہے۔ کتاب کا دیباچہ مترجم کا تحریر کردہ ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری اور شخصیت و فن کے بارے مترجم یوں رقمطراز ہیں۔ شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہو کلامو یعنی " کلیات اقبالاری نیویری" کھوار زبانہ " گل افشانیات اقبالو" ناموسورا ترجمہ کوری پسہ پروشٹہ پیش کوری متے بوشانی بویان۔ امید کومان کہ پسہ دی ہمو خوشیمی۔ واپسہ دی اقبالو بارہ قلم اسنیمی۔ معزز راکان! ترجمہ کوریک بو مشکل کو روم مگم کوس شعران منظوم ترجمہ کو ریک دنیا سفو ساری مشکل۔ واہمو بچے بو محنتو ضرورت بویان۔ ہش جو شور کہ چھوئی تہ انوس محنت کو ریکو دی وادی کیہ نوکیہ کمی بہچو ران واہے کمیو آچہ گیا ک روئی یعنی نوع نسل پورا کو دویان۔ آوا اقبالو ھیہ کلامو ترجمہ کر ریکا کیہ حداپت کامیاب بیتی اسوم ھمو بارہ تھے پسہ لودومی۔ آوا اقبالو کلامو کھوارا ترجمہ کوری کوس چاکیے کیاغ نیو یشیتم دی نو۔ مہ ضیمر ھیہ اشنار یو گوار نو آریر یہ آوا کوس چاکیے تان کتا بو بارا کوس موڑی پھان کوری یا کوس شوت دیتی کیاغ نیو یشیئم۔ پستے جم معلوم کہ کوس چاکیے کیاغ نیو یشیئکو اوچے کوس تان نیو یشیکو موژی زمینو اوچے آسمانو بہرکی فرق شیر۔ مہ طبعیتاری بوچھتراری اہل قلم اوچے صحافی حضرات خاص کوری شعرا واقف کہ ادا ہمونیہ پت اللہو مہربانیو سورا کیہ شعر کہ مشاعرین رے اسوم یا کیہ مضمون کہ اخبار تین نیویشی اسوم کیادت دی کو سوم نہ تھوشیئے اسوم کہ مہ مضمونان یا مہ شعران بارا تو دی کیاغ نیویشے ہیں مد نیو یشییران سورا تنقید کو رو رتے ہرایولیوتے رے اسوم مہ لودیکو اصل مقصد ھیہ کہ بوروئی تان کتابون اوچے مضمونان بارا خوران چاکیے قسمہ قسمہ کوری کیاغ نیو یشیئنیان مگم ھیہ مہ بچے بو شکل سارئیتائی کہ آوا کوستے درخواست کوری کیاغ نیو یشیئم۔ معزز راکان! پستہ تان کہ ھیہ کہ کتابو تارا کیاغ کہ نیو یشیتامی ہسے صحی بوئی واپسہ نیو یشیرو ہے لفظ بچے سورمو برابرا بونی۔ بہر حال ھینسے اقبالو بارا مشقول بوسی۔ شاعر مشرق پاکستانو مفکر اوچے شاعر یو آسمانوای ڑا بھیاک استاری اوشوئی ھیہ استاری بو مداپت ڑاپھیکا پرائی مگم بد قسمتی ھیہ کہ پاکستان ساؤز بیکار پروشٹی ھیہ استاریو روشنی ختم ھوئی۔ اسپہ سفو دعا شیر کہ خداوند قدوس علامہ اقبالو رو حوتے آرام نصیب کورا روا ھو رو قبرو فراخ اوچے روشناری روشت کورار۔ آمین! ثم آمین علامہ اقبال پھو پھوکا ن بچے کی نظم کہ نیویشی اسو رہے نظمان موژی زیادہ تر انگریز یاری اخذ کر رو نوبتیی شینی۔ ہے نظمان شروعا" ماخوذ" ماخوذا زایمرسن" یا" پھو پھو کان بچے"۔ وغیرہ وغیرہ الفاظ نیو یشونو بیتی مگم بعض نظمان بارا کیہ ذکری نوکورو نو بیتی شیر گیور کہ ہے نظمان مختصر جائزو گانیسی " ای مگاس اوچے شوبیناک" شوبیناک " ھیہ نظم میری ھووٹ نامین شاعرو نظمو آزاد ترجمہ شیر ھیہ شروع شروعا 32 اشعاران سورا مشتمل اوشوئی لیکن بانگ درا صرف 24 اشعار شامل کر رونوبیتی شینی " ای زوم اوچے روشک" ھیہ نظم امریکو مشہور شاعر ایمرسنو نظماری گنونو بیتی شیر" ای لیشو اوچے پائے"29 شعران سورا مشتمل ھیہ نظم جین ٹیلرو مشہور نظماری گنونو بیتی شیر۔ بانگ درا شامل بیکاری پروشٹی ھیہ نظمو اشعار ان تعداد 41 اوشوئی۔ علامہ اقبال اصل نظمو کردار ران بدیل کوری" گوروغو" ژاغا" پایو" لیشو سوم ہمکلام کوری پاشئیے اسور۔ " نیقودعا " ایم بی ایڈ رڈو نظماری گنونو بیتی شیر۔ " ہمدردی" ھیہ نظمو بارا علامہ اقبال ریران کہ ھیہ ولیم کو برو نظماری گنونو بیتی شیر مگم ہمونیہ پت اصل نظمو کا دریافت کو ریکو نوبیتی اسونی۔

کھوار اکیڈمی کے کھوار اور اردو زبان میں شائع ہونے والے اخبارچترال وژن میں علامہ اقبال کے اشعار کا کھوار میں منظوم ترجمہ شائع کیا گیا ہے اس میں اسم مفعول کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے زیل میں اقبال کے شعر اور اس کا کھوار ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے

  • سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
  • لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

کھوار ترجمہ

  • راوے سبقو وا صداقتو، عدالتو، شجاعتو
  • گنونو بوئے تہ ساری کوروم دنیوامامتو

اقبال

کتب حوالہ و ماخذات[ترمیم]

اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ[ترمیم]

تصورات و نظریات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]