مندرجات کا رخ کریں

کلوپاترا اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کلوپاترا اول
(قدیم یونانی میں: Κλεοπάτρα Σύρα)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 204 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 176 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات بطلیموس پنجم   ویکی ڈیٹا پر  (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد بطلیموس ششم ،  کلوپاترا دوم ،  بطلیموس ہشتم   ویکی ڈیٹا پر  (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد آنتیوخوس سوم   ویکی ڈیٹا پر  (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان بطلیموسی خاندان   ویکی ڈیٹا پر  (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ ملکہ   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کلوپاترا اول سلوقی سلطنت کے بادشاہ آنتیوخوس سوم اور ملکہ لاودیس سوم کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی بطلیموسی مصر کے بادشاہ بطلیموس پنجم ایپیفانِس سے ہوئی اور اس شاہی شادی کی تقریب 195 ق م میں مصری شہر رفح میں منعقد ہوئی۔ [1]

شادی اور سیاسی اتحاد

[ترمیم]

سلوقی اور بطلیموسی سلطنتوں کے درمیان کشیدگی کے بعد، انٹیوخوس سوم نے صلح کے لیے اپنی بیٹی کی شادی بطلیموس پنجم سے طے کی۔ اس کی منگنی 195 ق م میں ہوئی جبکہ شادی تقریباً 193 ق م میں انجام پائی۔ اس وقت بطلیموس پنجم تقریباً 16 سال اور کلیوپیٹرا اول تقریباً 10 سال کی تھی۔ مصری دربار میں اسے بعض اوقات “شامی (Syrian) ملکہ” بھی کہا جاتا تھا۔ بطلیموسی مذہبی روایت کے مطابق اسے اپنے شوہر کے ساتھ “دیوتا ایپیفانیز” کے لقب میں شامل کیا گیا اور اسے بطلیموس کی “بہن” (ἀδελφή) بھی کہا جاتا تھا، جو شاہی ازدواجی روایت کا حصہ تھا۔

بطلیموس پنجم ایپیفانِس کی وفات (180 ق م) کے بعد وہ اپنے کم عمر بیٹے بطلیموس ششم فیلومیٹر کی سرپرست اور وصی بن گئی۔ 180 ق م سے 176 ق م تک اس نے بطلیموسی مصر کی عملی حکمرانی سنبھالی اور اسے پہلی بطلیموسی ملکہ سمجھا جاتا ہے جس نے اپنے شوہر کے بغیر براہِ راست حکومت کی۔ [2] [3]

مذہبی اعزازات

[ترمیم]

منف کے پجاریوں نے 185 ق م میں اسے وہی اعزازات دیے جو پہلے بطلیموس پنجم کو دیے گئے تھے۔ اس کا ذکر مشہور روزیٹا اسٹون کی روایات میں بھی بطور شاہی اور مذہبی جائز حکمران کے کیا جاتا ہے۔ کلیوپیٹرا اول کو بطلیموسی مصر کی ایک اہم سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے جس نے یونانی-مصری ریاست کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ [4]

وصایت بر تخت

[ترمیم]

بطلیموس پنجم ایپیفانِس ستمبر 180 ق م میں اچانک وفات پا گیا، اس وقت اس کی عمر تقریباً 30 سال تھی۔ اس کے بعد اس کا چھ سالہ بیٹا بطلیموس ششم فیلومیٹر فوراً تخت نشین ہوا اور اس کی والدہ کلیوپیٹرا اول کو ریاست کی وصی (Regent) مقرر کیا گیا۔ کلیوپیٹرا اول وہ پہلی بطلیموسی ملکہ تھی جس نے اپنے شوہر کے بغیر براہِ راست حکومت کی۔ اس دور کی دستاویزات میں اس کا نام بعض اوقات بطلیموس سے پہلے لکھا جاتا ہے اور سکے بھی اسی کے اور اس کے بیٹے کے مشترکہ نام سے جاری کیے گئے۔[5]

پالیسی میں تبدیلی

[ترمیم]

بطلیموس پنجم کی وفات سے قبل وہ سلوقی سلطنت کے خلاف ایک نئی جنگ کی تیاری کر رہا تھا، لیکن کلیوپیٹرا اول نے فوری طور پر ان جنگی تیاریوں کو ختم کر دیا۔ اس نے امن کی پالیسی اختیار کی، جس کی ایک وجہ اس کا سلوقی نسب بھی تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ جنگ اس کی اپنی سیاسی حیثیت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔

کلوپاترا اول نے اپنے آخری ایام میں دو قریبی افراد کو اپنے بیٹے کے سرپرست مقرر کیا: یولیئس لینیائیوس یولیئس بطلیموس ششم کا استاد تھا، جبکہ لینیائیوس ایک شامی غلام تھا جو غالباً کلیوپیٹرا اول کے ساتھ مصر آیا تھا۔[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Cleopatra I by Chris Bennett آرکائیو شدہ 2017-10-04 بذریعہ وے بیک مشین
  2. Polybius 18.51.10 and 28.20.9; Livy 33.40.3 and 35.13.4; Appian, Syriaca 3.13 and 5.18
  3. J G Manning (2009) The Last Pharaohs: Egypt under the Ptolemies, 305-30 BC (New Jersey: Princeton University Press).
  4. "Ptolemy VI"۔ 2023-09-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-20
  5. Hölbl, Günther (2001). A History of the Ptolemaic Empire. London & New York: Routledge. صفحة. 143–152 & 181–194.
  6. Morkholm, Otto (1961). "Eulaios and Lenaios". Classica et Medievalia. 22: 32–43.