کلکوٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


کلکوٹی
کلکوٹی بہ خطِ نستعلیق
مستعمل دیر کوہستان، کلکوٹ، (خیبر پختونخوا) پاکستان
خطہ سینٹرل ایشیاء
کل متتکلمین 10 ہزار
رتبہ انتیسوان
خاندان_زبان ہند-یورپی
  • کوہستانی
    • کلکوٹی
نظام کتابت فارسی-عربی
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان کلوٹی
نظمیت از کھوار اکیڈمی
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 xka
آئیسو 639-2 xka (B)  xka (T)
آئیسو 639-3 xkaKalkoti
فائل:KalkotiLanguage.jpg
کلکوٹی رسم الخط کا نمونہ، کلکوٹی رومن اور اردو رسم الخط میں لکھی جارہی ہے.

کلکوٹی زبان، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دیر کوہستان کی وادی کلکوٹ میں بولی جاتی ہے

کلکوٹی زبان دیر کوہستان میں بولی جانے والی ایک ہند-یورپی زبان ہے جو پاکستان کے کلکوٹ اور دیر کوہستان میں بولی جاتی ہے۔ دیر کوہستان کی وادی کلکوٹ میں یہ زبان اکثریتی آبادی کی زبان ہے اور اس زبان نے کلکوٹ میں بولی جانے والی دیگر زبانوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ کلکوٹ اور دیر کوہستان کے اہل قلم اس زبان کو بچانے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کی ہویی ہے۔ کلکوٹ کے تقریبا اسی فیصد افراد کی یہ مادری زبان ہے۔ کھوار اکیڈمی نے صوبہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات کی جن معدوم ہونے زبانوں کو بچانے کے لیے یونیسکو (UNESCO) سے اپیل کی ہے ان زبانوں میں کلکوٹی زبان سر فہرست ہے۔ شمالی زبانوں کے فروع کے لیے ادبی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں لیکن حکومت سطح پرکام سستی کا شکار ہے۔ اور شمالی پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں امتیازی سلوک کی زد میں ہیں۔

جماعت بندی[ترمیم]

کلکوٹی زبان ایرانی زبانوں کے مغربی گروہ سے تعلق رکھتی ہے جو ہند-یورپی زبانوں کی ایک شاخ ہے۔ رحمت عزیز چترالی کی تحقیق کے مطابق عالمی سطح یہ ہند یوروپی، ہند ایرانی، ہند آرین، دردی زبان تصور کی جاتی ہے۔ اور اس زبان پر سب سے پہلے جن لوگوں کے قلم اٹھایا وہ مستشرقیں تھے ان کا سارا کام رومن میں ہے اور ہر ایک کی دسترس سے باہر ہے۔

کل تعداد[ترمیم]

کلکوٹی بولنے والوں کی کل تعداد سمر انسٹی ٹیوٹ آف لنگوسٹکس نے 1990ء میں صرف چار ہزار لکھی ہے لیکن چترالی زبانوں کے فروع کے لیے قایم ادبی تنظیم کھوار اکیڈمی نے رحمت عزیز چترالی کی حالیہ تحقیق کے حوالے سے پاکستان میں کلکوٹی بولنے والوں کی کل تعداد 10 ہزار لکھی ہے جو صحیح اعداد و شمار ہیں۔

بولنے والے[ترمیم]

کلکوٹی بولنے والے مندرجہ زیل علاقوں اور ملکوں میں آباد ہیں

  • دیر کوہستان، کلکوٹ [خیبر پختونخوا] پاکستان]

دیگر نام[ترمیم]

کلکوٹی زبان کو دیر کوہستانی بھی کہا جاتا ہے اور اس زبان نے سب سے زیادہ اثر اردو اور فارسی زبان سے قبول کیا ہے۔ اور اپنا سب سے زیادہ اثر کالامی اور پشتو زبانون پر چھوڑا ہے۔

حوالہ نمبر[ترمیم]

کھوار اکیڈمی کی سفارش پر کلکوٹی زبان کو عالمی سطح پر حوالہ نمبر 29 الاٹ کرنے کی سفارش کی سفارش کی گیی جو منظور ہوگیی ہے اور اس حوالہ نمبر کے توسط سے کلکوٹی کے بارے میں اردو اور انگریزی کو عالمی سطح پر تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔

لہجے[ترمیم]

کھوار اکیڈمی نے کلکوٹی زبان کے مندرجہ زیل چار لہجوں کی نشان دہی کی ہے

  • کلکوٹ کا لہجہ

ان سارے لہجوں میں کلکوٹ کے لہجے کو اصل لہجہ تصور کیا جاتا ہے

مماثلت[ترمیم]

کلکوٹی زبان فارسی، کالامی اور پشتو سے مماثلت رکھتی ہے ان زبانوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ سمر انسٹی ٹیوٹ آف لنگوسٹکس نے 1990ء میں پشتو اور کلکوٹی میں چھیاسی سے 69 فیصد مماثلت کی نشاندھی کی ہے۔

دیر کوہستان کی اہم ترین زبان[ترمیم]

کلکوٹی دیر کوہستان کی زبانوں میں سے اہم ترین زبان ہے، کلکوٹی بولنے والے اردو، پشتو، فارسی اور دیگر زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔

شرح خواندگی[ترمیم]

کلکوٹ میں خواندگی کی شرح 15 فیصد سے 20 فیصد [مرد] اور 1 فیصد [عورتیں]

نقل مکانی[ترمیم]

کھوار اکیڈمی کی حالیہ تحقیق کے مطابق دیر کوہستان کے کلکوٹی بولنے والوں نے پشاور اسلام آباد، کراچی اور لاہور نقل مکانی شروع کی ہے ۔

مذاہب[ترمیم]

کلکوٹ میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ان میں سنی مسلمان شامل ہیں

کلکوٹی پر کام کرنے والی ادبی انجمنیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]