کلیم عاجز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کلیم عاجز
معلومات شخصیت
پیدائش 1920
وفات 14 فروری 2015ء
ہزاری باغ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پٹنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ اردو شاعر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
وجہ شہرت غزل گوئی
اعزازات
پدم شری اعزاز

کلیم عاجز (پیدائش: 1920ء – وفات: 14 فروری 2015ء) ایک ہندوستانی نژاد اردو شاعر جن کا تعلق اردو کے دبستان عظیم آباد سے تھا۔ کلیم عاجز کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت ہند کی جانب سے 1982ء میں پدم شری اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

کلیم عاجز کی ولادت 1920ء میں پٹنہ کے موضع تیلہاڑہ میں ہوئی۔ تیلہاڑہ صوبہ بہار کے نالندہ ضلع کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں پرانے زمانے میں بدھ مت کے راہب رہا کرتے تھے۔ کلیم عاجز نے پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ پھر اسی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری اور بعد ازاں 1956ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ انہوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ "بہار میں اردو ادب کا ارتقا" کے عنوان پر لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔ طالب علمی سے فراغت کے بعد کلیم عاجز کا پٹنہ یونیورسٹی سی تعلق باقی رہا۔ وہ وہاں شعبہ اردو میں فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور بحیثیت پروفیسر وظیفہ یاب ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ حکومت بہار کی اردو مشاورتی کمیٹی (Urdu Advisory Committee) کے صدر مقرر ہوئے اور تا دم حیات اس عہدے پر باقی رہے۔

کلیم عاجز نے اپنی پہلی غزل 17 برس کی عمر میں لکھی اور 1949ء سے مشاعروں میں شرکت شروع کی۔ انکا پہلا دیوان 1976ء میں شائع ہوا جس کی تقریب رونمائی اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند فخر الدین علی احمد کے ہاتھوں وگیان بھون میں ہوئی۔ اس کے بعد ان کے متعدد دیوان منظر عام پر آئے جن میں "جب فصل بہاراں آئی تھی"، "وہ جو شاعری کا سبب ہوا"، "جب فصل بہار آئی" اور "جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی" قابل ذکر ہیں۔ دنیا بھر میں ڈلاس (امریکا) سمیت کئی ملکوں میں انہوں نے اردو کے مشاعروں میں شرکت کی اور اپنے کلام سے مستفیض کیا۔

شاعری[ترمیم]

کلیم عاجز میر کے انداز کے لیے بہت مشہور ہیں۔ وہ خود بھی اس کو محسوس کرتے تھے اور جا بجا اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے۔

اس قدر سوز کہاں کسی اور کے ساز میں ہے کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

کلیم نئے زمانے کے کلاسیکی انداز کے شاعر تھے۔ انکی غزلوں میں دو معنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے درد، عشق، ہجر، زلف، خون و خنجر، شیخ و برہمن اور قتل و دامن کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ کلیم عاجز اپنی شاعری پر طنز کرنے میں ماہر تھے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

یہاں تک کہ ایک پوری غزل انہوں نے طنز کے لیے وقف کردی ہے۔ اس کا مطلع کچھ یوں ہے

تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہےہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے

کلیم عاجز نے کثرت سے غزلیں کہی ہیں۔ غزل کے علاوہ نظم اور سہرے بھی لکھے ہیں۔ انکی نظم "رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے" بہت مقبول ہوئی تھی۔

وفات[ترمیم]

14 فروری 2015ء کو جھارکھنڈ کے شہر ہزاری باغ میں انہوں نی آخری سانسیں لیں۔ ان کی نماز جنازہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں ادا کی گئی اور آبائی وطن تیلہاڑہ میں مدفون ہوئے۔

سانچہ:اردو شعرا