کماؤں کے تہوار اور میلے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھارت کی کئی ریاستوں کے مقابلے اپنی تشکیل کے حساب سے اتراکھنڈ ایک جدید ریاست ہے۔ اس کا کماؤں علاقہ اپنی تہذیبی وراثت کے لیے مشہور ہے۔ اس کی تہذیبی شناخت میں جو چند تہوار اور میلے خاص طور سے قابل ذکر ہیں، وہ نیچے درج کیے گئے ہیں:

کماؤنی ہولی[ترمیم]

کماؤنی ہولی کا خاصہ یہ ہے کہ یہ موسیقی ریز ہوتی ہے، چاہے اس کی جو بھی شکل ہو، چاہے یہ بیٹھکی ہولی، کھڑی ہولی یا مہیلا ہولی کیوں نہ ہو۔ بیٹھکی ہولی اور مہیلا ہولی اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ ان گیتوں کو یہاں بروئے کار لایا جاتا ہے، وہ میٹھے سروں پر قائم ہیں۔ اس میں مزے کے ساتھ ساتھ روحانیت کا بھی ماحول ہوتا ہے۔ یہ گیت کلاسیکی راگوں سے بنتے ہیں۔ بیٹھکی ہولی کا ہی ایک اور نام نِروان کی ہولی بھی ہے۔

بیٹھکی ہولی کا آغاز مندروں کے احاطوں سے ہوتا ہے۔ یہاں ہولیار (ہولی کے پیشے ور گویے) اور دیگر لوگ کلاسیکی موسیقی کے ساتھ گیت گاتے ہیں۔ کماؤنی لوگ اس بات کو خاص اہمیت دیتے ہیں کون سے راگ پر مبنی گیت کو گایا جا رہا ہے۔ مثلًا دوپہر میں سورج کے تمازت کے بیچ ایسے گیت گائے جاتے ہیں جو پیلو، ھیم پلاسی اور سارنگ راگوں پر مبنی ہوں۔ شاموں کے وقت جب روشنی دھیرے دھیرے اندھیرے میں تبدیل ہو رہی ہوتی ہے، تب کچھ راگ جیسے کہ کلیان، شیام کلیان اور یمن راگوں پر مبنی گیت گائے جاتے ہیں۔

کھڑی ہولی کو عمومًا کماؤں کے دیہی علاقوں میں منایا جاتا ہے۔ اس ہولی کے گیت لوگ روایتی سفید چوڑی دار پاجامہ اور کُرتا پہن کر گاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مخصوص روایتی آلات کی دھنوں پر ناچتے ہیں۔[1]

مہیلا ہولی کا جشن خواتین کے ساتھ مخصوص ہے۔

بسنت پنچمی[ترمیم]

بسنت پنچمی کا تہوار بہار کے موسم کی آمد کا جشن ہے۔ یہ تہوار موسم سرما کے اختتام کا اشارہ دیتا ہے۔ یہ عام طور سے ماگھ کے مہینے (جنوری - فروری کے بیچ منایا جاتا تھا۔ اس تقریب کے موقع پر لوگ سرسوتی دیوی کی پوجا کرتے ہیں۔ اس موقع پر پیلے رنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اس کا بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ بہ طور خاص حسب ذیل پیلے رنگ میں دیکھے اور استعمال کیے جاتے ہیں:

  • پیلی رومال
  • پیلا کپڑا
  • پیلا تلک (قشقہ)

اس تہوار کے ساتھ ہی ہولی کی بیٹھکوں کا آغاز ہوتا ہے۔[2]

بگوال دیوی دھورا میلہ[ترمیم]

یہ میلہ وراہی دیوی کی مندر کے احاطے میں منایا جاتا ہے جو دیوی دھورا میں واقع ہے۔ یہ تہوار راکھی تہوار کے دن منایا جاتا ہے۔ دیوی دھورا الموڑا، پتھوراگڑھ اور نینیتال ضلعوں کے ملنے کے مقام پر واقع ہے۔ یہ میلہ لبھاؤنے لوک گیتوں اور رقص کے لیے مشہور ہے۔ یہاں ایک مخصوص تقریب ہوتی ہے جس کا نام بگوال ہوتا ہے۔ اس میں دو گروہ ایک دوسرے پر پتھر پھینکتے ہیں اور ساتھ خود کو پتھروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ یہاں آکر نظارہ دیکھنے والے سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ اس رسم کی سختی پہلے کے دور کی طرح قائم ہے۔[3]

وٹ ساوتری[ترمیم]

اس تہوار کو کرشنا اماوسیہ کے موقع پر (مہینے کے آدھے بے چاند دن) جییشٹھ کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس دن شادی شدہ خواتین ساوتری اور وٹ یا برگد کے پیڑ کی پرستش کرتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے شوہروں کی خوشحالی کی دعائیں مانگتی ہیں۔ عورتیں ساوتری اور ستیاوان کے اعزاز میں اپواس رکھتی ہیں اور یہ یاد رکھتی ہیں کہ کس طرح ساوتری نے اپنے شوہر کو موت کی چُنگل سے چھڑایا تھا۔[4]

ہریلا اور بھیتولی[ترمیم]

نوراتری کے پہلے دن (نوروزہ تقاریب کے دوران) چیتر کے مہینے میں عورتیں باسکٹوں میں مٹی بھرتی ہیں اور ان میں سات قسم کا اناج اگاتی ہیں۔ ان اناجوں کا اگنا مستقبل کی فصل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیلے پتے جنہیں ہریلا کہا جاتا ہے، دسویں دن کاٹے جاتے ہیں اور لوگ انہیں اپنے سروں اور کانوں کے پیچھے ڈال دیتے ہیں۔ اسی چیتر کے مہینے (مارج-اپریل) میں بھائی اپنی بہنوں کو تحقے تحائف بھیجتے ہیں۔ ان تحفوں کو بھیتولی کہا جاتا ہے۔

ہریلا بہ طور خاص ایک کماؤنی تہوار ہے جو برسات کے موسم کی آمد کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ تقاریب کا جشن شرون کی یکم کو منایا جاتا ہے۔ مقررہ تاریخ سے دس دن پہلے پانچ یا سات قسم کے اناجوں کی بیجیں ملا کر کمرے میں گملے میں بوئی جاتی ہیں، جس کے لیے مٹی سے بھری ہوئی چھوٹی باسکٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بونے کا کام خاندان کا صدر یا پنڈت کرتا ہے۔ یہ رسم و رواج سے انجام پاتا ہے۔ پوجا کے بعد پانی چھڑکا جاتا ہے۔ آشاڑھ کے مہینے کے آخری دن، تہوار کے کے منائے جانے سے ایک دن پہلے، خودرو پودوں کو فرضی طور پر چھوٹی لکڑیوں کی کدالیوں سے اکھاڑا جاتا ہے۔ شیو اور پاروتی کی خوش نما تصاویر اور ان کی آل کی تصاویر بنائی جاتی ہیں اور سنکرانتی کے دن ان سب کی پوجا کی جاتی ہے۔

تازہ تازہ اگنے والے ہریلوں کو سر کے پہناوے پر رکھا جاتا ہے۔ ہریلا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاشت کاروں کو بیجوں کے سقم یا ان خوبیوں کو جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تہوار ایک موقع ہے جب خاندان کی جواں سال لڑکیوں کو جیب خرچ کے لیے پیسہ فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سے بھی مقبول عام بات یہ ہے کہ شرون کے مہینے میں شیو اور پاروتی کی شادی کی تقریب منائی جاتی ہے اور برسات کے موسم کی آمد اور نئی فصل کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ آج کے دن لوگ ڈِکار یا چکنی مٹی کی مورتیاں بناتے ہیں جو گوری، مہیشور اور گنیش کے ہوتے ہیں اور وہ ان کو پوجتے ہیں۔ ہریلا کے موقع پر کولُو کے بیلوں کو بھی آرام دیا جاتا ہے۔ لوگ ہریلے کے تازہ بہ تازہ کٹے پتوں کی دھاریں بناتے ہیں اور انہیں اپنے سروں پر رکھتے ہیں اور یہ رشتے داروں اور دستوں کو بھی بھیجتے ہیں۔ دیوی اور دیوتاؤں کی مورتیاں جو چکنی مٹی / لال مٹی سے بنتی ہیں، کئی رنگوں میں سجائی جاتی ہیں۔[5]

چھپلا جات[ترمیم]

چھپلاکوٹ کالی ندی اور گوری ندیوں کے بیچ واقع ہے۔ پنچولی پہاڑیوں کے جنوب میں واقع ہے۔ اس پہاڑ کا سب سے اونچا مقام نجُوری کُنڈ ہے جو 4,497 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ چھپلا کیدار کا مقام وقوع ہے۔ دھرچولا اور گوری کال کے 15 - 20 دیہات کے لوگ کیداردوے اور نجوری کوٹ ہر تیسرے سال (مثلًا 2002ء، پھر اس کے بعد 2005ء ہوا) بھادو کے پورن ماسی (ماہ کامل) پر پہنچتے ہیں۔ مرکزی جاترا کھیلا گاؤں سے شروع ہوتی ہے جو تواگھاٹ کے قریب واقع ہے۔ یہ گھنے جنگلات، پتھریلی زمین اور بُگیالوں سے ہو کر گزرتی ہے۔ لوگ یہاں پر ان دنوں میں بھی ننگے پاؤں جاتے ہیں۔ دھامی بُرہا یا بونیا (لوک پنڈت) جات (جاترا) کی توازیخ طے کرتا ہے۔ لوک ڈھول، باچے، بھنکر (دھات سے بنی پھونکنی جیسا آلہ) اور نیجا (لال رنگ کا کپڑا جسے گاؤں کے سبھی خاندانوں سے جمع کیا جاتا ہے)۔ یہ جات برمانو پہنچتی ہے جو کھیلا سے 6 کیلو میٹر فاصلے پر ہے۔ دوسرے دن جاتری گھنے بلوت کے جنگل سے گزرتے ہیں۔ چار دن کی جد وجہد کے بعد جس میں ننگے پاؤں جاترا، عبادت، اسنان (غسللنگر، گیت اور ناچ شامل ہوتا ہے، یہ جاترا اختتام کو پہنچتی ہے۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]