مندرجات کا رخ کریں

کمارل بھٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کمارل بھٹ
معلومات شخصیت
پیدائش تقریباً 700ء
آسام   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنارس   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہرِ لسانیات ،  فلسفی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کُمارِل بھٹ (تقریباً ساتویں صدی عیسوی) قرونِ وسطیٰ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو فلسفی اور میمانسا مکتبِ فکر کے مشہور دانش ور تھے۔ وہ میمانسا پر اپنے مختلف مقالات "میمانسا شلوک وارتک" (मीमांसाश्लोकवार्त्तिकं) وغیرہ کی بنا پر خاصے مشہور ہیں۔ کمارل بھٹ ویدک احکامات کی اعلیٰ ترین سند و حجیت کے قائل، پورو میمانسا کے علم بردار اور ایک پکے رسوم پرست (ritualist) تھے۔[1] ان کی کتاب "وارتک" بنیادی طور پر جے مِنی کے پورو میمانسا سوتر پر شبر کی شرح کی ذیلی شرح ہے۔ بعض محققین ان کے فلسفے کو "وجودی حقیقت پسندی" (existential realism) سے تعبیر کرتے ہيں۔[2]

کمارل بھٹ کو اس میمانسی عقیدے کی منطقی تشکیل کا سہرا بھی دیا جاتا ہے کہ وید کسی انسان کی تصنیف نہیں (اپورشے) ہیں۔ خاص طور پر وہ قرونِ وسطیٰ کے بودھ تصوریت (idealism) کے خلاف ویدک رسوم پرستی کے دفاع کے لیے معروف ہیں۔[3] ان کی کاوشوں نے ہندوستانی فلسفے کے دیگر مکاتبِ فکر کو بھی بہت زیادہ متاثر کیا،[4] سوائے اس فرق کے کہ جہاں میمانسا اپنشدوں کو ویدوں کے تابع سمجھتی ہے، وہیں ویدانت مکتبِ فکر ایسا نہیں سمجھتا۔

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

کمارل بھٹ کے مقامِ پیدائش کی یقینی معلومات دستیاب نہیں۔ سولھویں صدی کے بودھ عالم تاراناتھ کے مطابق کمارل جنوبی ہند کے رہنے والے تھے۔ تاہم آنند گری کی تصنیف "شنکر وجیہ" میں مذکور ہے کہ کمارل بھٹ شمال (उद्गदेशात्) سے آئے تھے اور انھوں نے جنوب میں بدھ مت کے پیروکاروں اور جینیوں سے مناظرہ کیا تھا۔[5]

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ ان کا تعلق مشرقی ہندوستان، بالخصوص کاماروپ (موجودہ آسام) سے تھا۔ شیش کی تصنیف "سرو سدھانت رہسیہ" میں ان کے لیے مشرقی خطاب بھٹاچاریہ استعمال کیا گیا ہے۔ ان کی تحریروں سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ آسامی ریشم کی تیاری سے واقف تھے، جو آسام میں عام تھا۔[6] ایک اور نظریہ یہ ہے کہ وہ متھلا سے تعلق رکھتے تھے، جہاں کی ثقافت آسام سے مماثلت رکھتی ہے اور وہیں سے اس موضوع کے ایک اور عالم منڈن مشر بھی پیدا ہوئے تھے۔ متھلا کی روایات کے مطابق متھلا کے خطے میں واقع مدھوبنی ضلع کے مقامات "بھٹ سمر" یا "بھٹ پورہ" کو کمارل بھٹ کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔[7][8][9][10]

فلسفۂ زبان

[ترمیم]

کمارل بھٹ اور میمانسا روایت میں ان کے پیروکار، جو "بھاٹ" کہلاتے ہیں، علمِ معنی کے ایک پختہ ترکیبی نقطۂ نظر کے حامی تھے جسے "ابھی ہِتانوئے" (अभिहितान्वय) یا "مشارٌ الیہ کا تعین" کہا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق کسی جملے کا مفہوم صرف اس صورت میں سمجھا جا سکتا ہے جب پہلے اس کے الفاظ کے معنی سمجھ لیے جائیں۔ فلسفی ڈینیئل آرنلڈ کے مطابق الفاظ کے مدلولات آزاد اور مکمل تھے، یہ خیال زبان کے بارے میں جیری فوڈر کے نظریات سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔[11] انھوں نے اپنی تصانیف میں متعدد تمل الفاظ بھی استعمال کیے، جن میں ان کی کتاب تنترا وارتک میں ملنے والا لفظ "دراوڑ" کا ذکر شمالی ہند کے مآخذ میں اس نام کے ابتدائی حوالوں میں سے ایک ہے۔[12]

جملے کے مفہوم سے متعلق مذکورہ بالا نظریے پر میمانسا کے اندر ہی پربھاکر مکتبِ فکر کے پیروکاروں نے تقریباً سات یا آٹھ صدیوں تک بحث کی، جن کا استدلال تھا کہ الفاظ براہِ راست معنی متعین نہیں کرتے۔ بلکہ الفاظ کے معنی پہلے سے ہی دوسرے الفاظ کے ساتھ جڑے ہوئے سمجھے جاتے ہیں ("انوِتابھدھان"، انوِت = جڑا ہوا؛ ابھدھان = اشارہ)۔ یہ نظریہ بھرتری ہری کے نظریۂ اسپھوٹ کے ہمہ گیریت پر مبنی دلائل سے متاثر تھا۔[13] بنیادی طور پر پربھاکر کے پیروکاروں کا استدلال یہ تھا کہ جملے کے مفہوم کو ادراکی اور سیاقی اشاروں سے براہِ راست اخذ کیا جاتا ہے اور اس میں الفاظ کے الگ الگ معنی سمجھنے کے مرحلے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔[14] یہ نظریہ "انڈراسپیسی فکیشن" (underspecification) کے جدید لسانیاتی نقطہ نظر سے مشابہت رکھتا ہے، جس کا تعلق علمِ معنی کے حرکی رخ (dynamic turn) سے ہے۔ یہ نظریہ جملے کے مفہوم کو سمجھنے کے ان طریقوں کی مخالفت کرتا ہے جو محض ترکیبی اسلوب پر مبنی ہوتے ہیں۔

نظریۂ علم

[ترمیم]

کمارل بھٹ "داخلی استناد" (intrinsic validity) کے نظریے کے حامی ہیں، جسے "سوتہ پرامانئے" (स्वतःप्रामाण्य) بھی کہا جاتا ہے۔[15] اس نقطہ نظر میں تمام ادراکات اپنے وقوع کے لمحے ہی معتبر ہوتے ہیں جب تک کہ ان کا غلط ہونا ثابت نہ ہو جائے۔ جان ٹیبر کا استدلال ہے کہ یہ تصور نظریۂ ارتباط حقیقت (coherence theories) سے مختلف ہے۔[15]

اپنی کتاب "شلوک وارتک" میں کمارل بھٹ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ادراکات داخلی طور پر معتبر (سوتہ پرامانئے) ہوتے ہیں:[13]

یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ تمام "پرمانوں" (ذرائع علم) میں داخلی طور پر پرمان ہونے کی صفت موجود ہوتی ہے؛ کیونکہ وہ صلاحیت جو بذاتِ خود (سوتہ) موجود نہ ہو، وہ کسی دوسری چیز سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔

کمارل اس بات کے خلاف دلیل دیتے ہیں کہ ادراکات کو معتبر تسلیم کرنے سے پہلے کسی دوسرے درجے کی توثیق (second-order justification) کی ضرورت ہے۔[13]

وجودِ خدا

[ترمیم]

آستک موقف اپنانے کے باوجود، یعنی ایسا موقف جس میں ویدوں کی برتری کو تسلیم کیا جاتا ہے، کمارل بھٹ میمانسا روایت کے مطابق ایک اعلیٰ ہستی یا خدا کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔[16] اپنی شروحات میں کمارل خدا کے تصور کو رد کرنے کے لیے مختلف قسم کے دلائل فراہم کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک استدلال ماورائی خالقِ حقیقی کے حق میں دی جانے والی دلیل علت و معلول کے تئیں ان کا شک و شبہ ہے۔[17] اپنی کتاب "شلوک وارتک" میں کمارل دلیل دیتے ہیں کہ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ایک طرف تو یہ تسلیم کیا جائے کہ دنیا کا کوئی خالق ہے اور دوسری طرف یہ مانا جائے کہ دنیا کی کوئی ابتدا بھی تھی۔[17]

اسی تسلسل میں کمارل دو صورتوں پر غور کرتے ہیں: یا تو وہ ہستی جس نے دنیا تخلیق کی، اس کا جسم تخلیق شدہ ہے یا غیر تخلیق شدہ۔ اگر اس ہستی کا جسم تخلیق شدہ ہے تو دور و تسلسل لازم آئے گا، کیونکہ ہمیں پھر یہ پوچھنا پڑے گا کہ خالق کے جسم کو کس نے تخلیق کیا؟ اور اگر اس ہستی کا جسم غیر تخلیق شدہ ہے، یعنی ایسا جسم جو ہمیشہ سے موجود ہے تو پھر ہم اپنی ذات کے بارے میں یہی بات کیوں نہیں کہہ سکتے؟[17]

بدھ مت کی مخالفت

[ترمیم]

کمارل بھٹ قرونِ وسطیٰ کے بودھی تصوریت (idealism) کے خلاف ویدک رسوم پرستی کا دفاع کرتے رہے۔[3] ویدک صحیفوں کی برتری ثابت کرنے کی غرض سے کمارل بھٹ نے کئی اچھوتے دلائل پیش کیے: 1۔ "بدھ (یا جینی) صحیفے درست نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں کئی نحوی لغزشیں موجود ہیں۔" وہ خاص طور پر اس بودھ مصرعے کی مثال دیتے ہیں: "ایمے سکھدا دھما سمبھونتی سکرانا اگرانا ونسنتی" (یہ مظاہر اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب علت موجود ہو اور علت کی عدم موجودگی میں فنا ہو جاتے ہیں)۔ چنانچہ وہ اپنا استدلال یوں پیش کرتے ہیں:[18]

بدھ مت اور جین مت کے صحیفے حد درجہ غلط (اسادھو) زبان، مگدھ یا داکشی ناتیہ زبانوں کے الفاظ، یا ان کی بولیوں (تداپ بھرنش) میں مرتب کیے گئے ہیں۔ لہٰذا یہ جھوٹی تصانیف (اسن نِبَندھن) ہیں، یہ کبھی بھی سچا علم (شاستر) نہیں ہو سکتیں ... اس کے برعکس وید کی اپنی ہیئت (اس کی مرتب زبان) اس کی حجیت کو آزاد اور مطلق ثابت کرتی ہے۔

2۔ ہر موجود مکتبِ فکر کسی نہ کسی صحیفے کو درست مانتا تھا۔ یہ دکھانے کے لیے کہ صرف وید ہی واحد درست صحیفہ ہے، کمارل نے کہا کہ "کسی مصنف کی عدم موجودگی وید کو تمام تر اعتراضات سے محفوظ رکھتی ہے" (اپورشے[19] ان کے بقول "بدھ مت کے صحیفوں کے مندرجات کو براہِ راست روح کے اعتبار سے غلط ثابت کرنے کا کوئی راستہ نہیں..."، الا یہ کہ کوئی خود صحیفے کے جائز ہونے اور اس کی ابدی نوعیت کو چیلنج کرے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پالی کینن گوتم بدھ کے پری نروان کے بعد مرتب کیا گیا تھا۔ مزید برآں اگر وہ بدھ کے الفاظ بھی ہوتے تب بھی وہ ویدوں کی طرح ابدی یا بلا مصنف نہیں تھے۔

سوترانتک بودھ مکتبِ فکر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کائنات لمحاتی (شَنِک) ہے۔ کمارل نے کہا کہ یہ لغو بات ہے، کیونکہ کائنات ہر لمحہ غائب نہیں ہوتی۔ کوئی لمحے کے دورانیے کی جتنی بھی چھوٹی تعریف کر لے، اس لمحے کو مزید لامتناہی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کمارل استدلال پیش کرتے ہیں: "اگر کائنات لمحات کے درمیان موجود نہیں ہے تو پھر ان میں سے کس لمحے میں اس کا وجود ہے؟" چونکہ ایک لمحہ نہایت چھوٹا ہو سکتا ہے، اس لیے بھٹ نے دلیل دی کہ بدھ مت کے پیروکار دراصل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ کائنات کا وجود ہی نہیں۔

4۔ ادراک کا تعین (प्रत्यक्षपरिच्छेद)۔[20]

کمارل اور دھرم کیرتی

[ترمیم]

بوتون رنچن دروب کے مطابق کمارل نے اپنے بھانجے دھرم کیرتی سے اس وقت اہانت آمیز گفتگو کی جب وہ ان کے برہمنی لباس لے رہا تھا۔ اس بات نے دھرم کیرتی کو دور کر دیا اور تمام غیر بودھ ملحدوں کو مغلوب کرنے کا عزم لیے ہوئے اس نے بدھ مت کی راہ اختیار کر لی۔[21]

جان ٹیبر نے "شلوک وارتک" میں کمارل کے دلائل کے تجزیے کی مدد سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کمارل کا آمنا سامنا دھرم کیرتی سے نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ بدھ مت کے دلائل کی جو تصویر انھوں نے پیش کی ہے وہ دھرم کیرتی کے دلائل کے مقابلے میں کم پیچیدہ ہے۔[22] کمارل کے ذہن میں ایک ایسا بودھ مخالف تھا جس کے دلائل دگناگ سے تو زیادہ پیچیدہ تھے مگر دھرم کیرتی سے کم۔ مذکورہ تجزیہ سے اس خیال کی مخالفت ہوتی ہے کہ کمارل بھٹ دھرم کیرتی اور ان کی تصانیف سے واقف تھے۔[22]

افسانوی زندگی

[ترمیم]

روایات کے مطابق کمارل بھٹ ویدک مذہب کے دفاع اور بدھ مت کے عقائد کی تردید کی غرض سے نالندہ (چوتھی صدی میں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی) میں بدھ مت کی تعلیم حاصل کرنے گئے۔[23] لیکن انھیں اس وقت یونیورسٹی سے نکال دیا گیا جب انھوں نے اپنے استاد (دھرم کیرتی) کی جانب سے ویدک رسومات کے مذاق اڑانے پر احتجاج کیا۔ روایت ہے کہ اگرچہ انھیں یونیورسٹی کے مینار سے نیچے پھینک دیا گیا تھا، لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ "اگر وید حتمی سچائی ہیں تو میں موت سے بچ جاؤں گا"، چنانچہ محض آنکھ زخمی ہوئی اور وہ زندہ بچ گئے۔

شنکر آچاریہ کی زندگی پر چودھویں صدی کی ایک تصنیف "مادھویہ شنکر دگوجیم" میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شنکر نے کمارل بھٹ کو ان کے بسترِ مرگ پر مناظرے کا چیلنج دیا۔[24] کمارل بھٹ شنکر سے بحث نہ کر سکے کیونکہ وہ پریاگ راج میں گنگا کے کنارے خود سوزی کر کے خود کو اس بات کی سزا دے رہے تھے کہ انھوں نے اپنے بودھ استاد کو ویدوں کی مدد سے مناظرے میں شکست دے کر ان کی بے ادبی کی تھی۔[حوالہ درکار] اس کی بجائے انھوں نے شنکر کو ماہشمتی میں اپنے شاگرد منڈن مشرا سے بحث کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا:

تمھیں ایک ایسا گھر ملے گا جس کے دروازوں پر کئی پنجرہ بند طوطے ایسے تجریدی موضوعات پر بحث کر رہے ہوں گے کہ — "کیا وید داخلی حجیت رکھتے ہیں یا وہ اپنی سند کے لیے کسی بیرونی اتھارٹی پر انحصار کرتے ہیں؟ کیا کرم براہِ راست ثمر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا انھیں ایسا کرنے کے لیے خدا کی مداخلت کی ضرورت ہے؟ کیا دنیا ابدی ہے، یا یہ محض ایک ظاہری شکل ہے؟" جہاں تمھیں پنجرہ بند طوطے ایسے پیچیدہ فلسفیانہ مسائل پر بحث کرتے ملیں، تم سمجھ لینا کہ تم منڈن کے مقام پر پہنچ گئے ہو۔

ہندوستانی فلسفے کی تاریخ میں کمارل کی اہمیت اس حقیقت سے عیاں ہوتی ہے کہ ان کی تصنیفات کے حوالے بکثرت دیے گئے ہیں۔[25]

تصانیف

[ترمیم]
  • شلوک وارتک ("شلوکوں کی تشریح"، شبر کی جے مِنی کے میمانسا سوتر کی تفسیر پر حاشیہ، کتاب 1، باب 1) [1]
    • ساتویں صدی عیسوی کی پہلی ششماہی میں لکھی گئی۔[26]
  • تنتر وارتک ("مقدس علوم کی تشریح"، شبر کے قلم سے جے مِنی کے میمانسا سوتر کی تفسیر پر حاشیہ، کتاب 1، ابواب 2-4 اور کتب 2-3) [2]
  • ٹُپ ٹیکا ("مکمل تشریح"، شبر کے قلم سے جے مِنی کے میمانسا سوتر کی تفسیر پر حاشیہ، کتب 4-9) [3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sharma 1980, p. 3–6
  2. Bhatt, p. 6.
  3. ^ ا ب Sheridan 1995, p. 200
  4. Bhatt, p. 3.
  5. Kumārila Bhaṭṭa؛ Peri Sarveswara Sharma (1980)۔ Anthology of Kumārilabhaṭṭa's Works۔ Motilal Banarsidass۔ ص 11۔ ISBN:978-81-208-2084-5
  6. Biswanarayan Shastri (1995)۔ Mīmāṁsā philosophy & Kumārila Bhaṭṭa۔ Rashtriya Sanskrit Sansthan۔ ص 76
  7. "कुमारिल भट्ट डीह को मिलेगा पर्यटन केंद्र का दर्जा - Kumaril Bhatt Dih will get tourism center status - Bihar Madhubani General News". Jagran (بزبان ہندی). Retrieved 2024-07-12.
  8. "दर्शन शास्त्र की जननी है मिथिला -". Jagran (بزبان ہندی). Retrieved 2024-07-12.
  9. "सनातन धर्म के सच्चे सिपाही थे दार्शनिक कुमारिल भट्ट, तीन ग्रंथों के थे रचयिता". News18 हिंदी (بزبان ہندی). 3 Jul 2024. Archived from the original on 2024-07-11. Retrieved 2024-07-12.
  10. "कुमारिल भट्ट भटपुरा से महिषी तक निकलेगी रथ यात्रा"۔ دینک بھاسکر
  11. Daniel Arnold (2005)۔ Buddhists, Brahmins, and Belief: Epistemology in South Asian Philosophy of Religion۔ New York: Columbia University Press
  12. Bhadriraju Krishnamurti (2003)۔ The Dravidian languages۔ Cambridge language surveys۔ Cambridge; New York: Cambridge University Press۔ ص 1۔ ISBN:978-0-521-77111-5۔ OCLC:50525804
  13. ^ ا ب پ Daniel Arnold (2020ء)، "Kumārila"، در Edward N. Zalta (مدیر)، The Stanford Encyclopedia of Philosophy (Spring 2020 ایڈیشن)، Metaphysics Research Lab, Stanford University، اخذ شدہ بتاریخ 2024-02-07
  14. Matilal, p. 108.
  15. ^ ا ب John Taber (1992ء)۔ "What Did Kumārila Bhaṭṭa Mean by Svataḥ Prāmāṇya?"۔ Journal of the American Oriental Society۔ ج 112 شمارہ 2: 204–221۔ DOI:10.2307/603701۔ ISSN:0003-0279
  16. Bales, p. 198.
  17. ^ ا ب پ Bilimoria, P. (2001). Hindu Doubts About God: Towards a Mīmāṃsā Deconstruction. In R. W. Perrett (Ed.), Philosophy of Religion (1st ed., pp. 87–105). Routledge. https://doi.org/10.4324/9781315053981-6
  18. Pollock, p. 55.
  19. Jha, p. 31.
  20. Taber, p??
  21. Rinchen drub Buton (1931)۔ The History of Buddhism in India and Tibet۔ ترجمہ از E. Obermiller۔ Heidelberg: Harrossowitz۔ ص 152
  22. ^ ا ب John Taber (2010ء)۔ "Kumārila's Buddhist"۔ Journal of Indian Philosophy۔ ج 38 شمارہ 3: 279–296۔ DOI:10.1007/s10781-010-9093-9۔ S2CID:170490847
  23. Long 2011, p. 175
  24. 'Madhaviya Sankara Digvijayam' by medieval Vijayanagara biographer Madhava, Sringeri Sharada Press
  25. Kei Kataoka؛ Kumārila Bhaṭṭa (2011ء)۔ Kumārila on truth, omniscience, and killing۔ Beiträge zur Kultur- والہ Geistesgeschichte Asiens۔ Wien: Verlag der Österreichischen Akademie der Wissenschaften۔ ص xvii۔ ISBN:978-3-7001-7001-3۔ OCLC:741557941
  26. John Taber؛ Kumārila (2005ء)۔ A Hindu critique of Buddhist epistemology: Kumārila on perception; the 'Determination of perception' chapter of Kumārila Bhaṭṭa's Ślokavārttika۔ RoutledgeCurzon Hindu studies series (1. publ ایڈیشن)۔ London: RoutledgeCurzon۔ ص 1۔ ISBN:978-0-415-33602-4

مآخذ

[ترمیم]
  • آرنلڈ، ڈینیئل اینڈرسن۔ Buddhists, Brahmins, and Belief: Epistemology in South Asian Philosophy of Religion۔ کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2005ء۔ ISBN 978-0-231-13281-7۔
  • Eugene Bales (1987ء)۔ A Ready Reference to Philosophy East and West۔ University Press of America۔ ص 201۔ ISBN:9780819166401۔ Buddhist philosophy as presented in Mimamsa Sloka Vartika.
  • بھٹ، گووردھن پی۔ The Basic Ways of Knowing: An In-depth Study of Kumārila's Contribution to Indian Epistemology۔ دہلی: موتی لال بنارسی داس، 1989ء۔ ISBN 81-208-0580-1۔
  • کمارل بھٹ، ترجمہ از گنگا ناتھ جھا (1985ء)۔ Slokavarttika۔ دی ایشیاٹک سوسائٹی، کلکتہ
  • بمل کرشنا متی لال (1990ء)۔ The word and the world: India's contribution to the study of language۔ آکسفورڈ
  • جیفری ڈی۔ لانگ (2011ء)، Historical Dictionary of Hinduism، Scarecrow Press
  • وجے رانی (1982ء)۔ Buddhist Philosophy as Presented in Mimamsa Sloka Varttika. 1st Ed۔ پریمل پبلیکیشنز، دہلی ASIN B0006ECAEO
  • شیلڈن پولک (2006ء)۔ The Language of the Gods in the World of Men – Sanskrit, Culture and Power in Premodern India۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس
  • پیری سرویشور شرما (1980ء)۔ Anthology of Kumārilabhaṭṭa's Works۔ دہلی، موتی لال بنارسی داس
  • ڈینیئل پی۔ شیریڈن (1995ء)، "Kumarila Bhatta"، در ایان میک گریڈی (مدیر)، Great Thinkers of the Eastern World، نیویارک: ہارپر کولنز، ISBN:0-06-270085-5
  • ترجمہ و حاشیہ از جان ٹیبر (جنوری 2005ء)۔ A Hindu Critique of Buddhist Epistemology۔ روٹلیج۔ ISBN:978-0-415-33602-4

بیرونی روابط

[ترمیم]