کمال احمد صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کمال احمد صدیقی اردو کے مشہورصحافی، کالم نگار اور شاعر تھے۔ ان کا حقیقی نام محمد احمد علی صدیقی تھا۔[1] وہ 1926ء میں پیدا ہوئے تھے۔

خاندان[ترمیم]

کمال کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ ان کی اہلیہ کا نام شاہدہ کمال ہے۔ ان کے دو بیٹے آصف اور عارف درآمدات وبرآمدات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کی بیٹی سیما جموں وکشمیر کے رکن اسمبلی رفیع احمد میر کی اہلیہ ہے۔ ایک اور بیٹی لندن میں بسی ہے۔

کشمیر ریڈیو سے وابستگی[ترمیم]

کمال چار دہے تک جموں وکشمیر ریڈیو سے جُڑے رہے۔ وہ وہاں پروڈیوسر کے طور پر آئے تھے۔ پھر وہ چیف پروڈیوسر (اردو) کے طور پر دلی سے سبک دوش ہوئے تھے۔ انہوں نے "ریڈیو و ٹیلی ویژن میں ابلاغ کی زبان" لکھی تھی جو نشریات کے لیے ایک رہنمایانہ کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

تحقیق[ترمیم]

سبک دوشی کے بعد کمال نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دلی سے پی ایچ ڈی کی اور اے جے قدوائی میڈیا انسٹی ٹیوٹ جامعہ ملیہ دہلی میں ویزیٹنگ لیکچرر کے طور پر تقرر ہوئے تھے۔

کشمیر: ایک منظرنامہ[ترمیم]

کمال نے اس عنوان کی کتاب میں جو 2013ء میں شائع ہوئی تھی، 1947ء سے لے کر 1990ء تک کے دہے کے کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا تھا۔

غالب ایوارڈ[ترمیم]

شعرونثر میں کمال نے جو کام کیا تھا اس کے اعتراف میں انہیں غالب ایوارڈ اور دیگر کئی اعزازات حاصل ہوئے تھے۔

انتقال[ترمیم]

کمال کا انتقال 24 دسمبر 2013ء کو ہوا تھا۔[2]

کمال احمد صدیقی کی کچھ مشہور غزلیں[ترمیم]

  • عروج اوروں کو کچھ دن ہے اہرمن کی طرح
  • باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں
  • دل میں جو بات کھٹکتی ہے دہن تک پہنچے
  • میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے[3]

حوالہ جات[ترمیم]