کملا داس ثریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کملا داس ثریا
 

معلومات شخصیت
پیدائش 31 مارچ 1934ء[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 31 مئی 2009ء (75 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پونے  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت (26 جنوری 1950–)
برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ نالاپت بالم اماں[5]  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ[5]،  افسانہ نگار[5]،  آپ بیتی نگار[5]،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان ملیالم  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[6]،  ملیالم[7]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں مائی سٹوری  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کملا داس (31 مارچ 1934 ~ 31مئی2009ء)ہندوستان میں انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ[8] تھیں ملیالم ادب میں آپ کو مادھوی کٹی کہا جاتا تھا۔ آپ کو انگریزی اور ملیالم ادب میں کمال حاصل تھا۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

کملا داس 31مارچ 1934ء کو بھارت کے شہر کیرالا کے ایک برھمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد وی ایم نائر اور والدہ اس دور کی مشہور ملیالم شاعرہ بالامانیمیمّا تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اے کے انتھونی بھی آپ کے رشتہ دار بتا‎‎ئے جاتے ہیں۔

ادبی زندگی[ترمیم]

آپ کی ادبی زندگی کا آغاز 8 سال کی عمر میں ہی ہو گیا تھا جب آپ نے وکٹر ہیوگو کی تحریروں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ آپ کی پہلی کتاب " سمران کلکتہ " تھی جس نے آپ کو انقلابی ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان کی تحریروں میں مردوں کے تسلط والے سماج میں خواتین کی بے بسی کا ذکر ہے اور ان کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پڑھنے والوں کو عدم مساوات کو ختم کرنے پر سوچنے پر راغب کیا۔

قبول اسلام[ترمیم]

کئی برس اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ نے اسلام قبول کر لیا جس کے باعث بھارت اور کیرالہ کے ادبی و سماجی حلقوں میں ایک طوفان آ گیا[9] تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد آپ کا نام ثریا رکھا گیا۔ اپنے قبول اسلام کی بڑی وجہ جو وہ بیان کیا کرتیں تھیں وہ ان کے الفاظ میں " اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں وہ جان کر میں حیران ہوں میرے قبول اسلام کے پس پردہ اسلام کی جانب سے خواتین کو دیے جانے والے حقوق کا بڑا کردار ہے۔

31مئی 2009 کو آپ پونا کے جہانگیر ہسپتال میں خالق حقیقی سے جاملیں۔ آپ کی عمر پچھتر برس تھی۔

مشہور تصانیف[ترمیم]

  • این اٹروڈکشن،
  • دی ڈیزیڈنٹ،
  • الفابیٹ آف لسٹ
  • اونلی سول نوز ہاؤ ٹو سنگ
  • مائی سٹوری (خود نوشت)

اعزازات[ترمیم]

  • ایشین پوئٹری پرائز
  • کینٹ ایوارڈ فار انگلش راٹنگ
  • آسیان ورلڈ پرائز
  • ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
  • کیرالا ساہتیہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12303649p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/37915574 — بنام: Kamala Das — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب بنام: Kamala Das — FemBio ID: https://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=7018 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/das-kamala — بنام: Kamala Das
  5. ^ ا ب عنوان : The Feminist Companion to Literature in English — صفحہ: 266
  6. http://www.theguardian.com/world/2009/jun/18/obituary-kamala-das — اخذ شدہ بتاریخ: 4 جون 2016
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12303649p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  8. [ http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/05/090531_kamla_das_sz.shtml بی بی سی اردو]
  9. [ روزنامہ امّت http://www.ummatpublication.com/2009/06/02/lead62.html آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ ummatpublication.com (Error: unknown archive URL)]

بیرونی روابط[ترمیم]