کناد
| کناد | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | غیر واضح، چھٹی سے دوسری صدی قبل مسیح دوارکا جزیرہ |
| تاریخ وفات | 2ویں صدی ق.م |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | فلسفی |
| شعبۂ عمل | فلسفہ |
| درستی - ترمیم | |
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
کناد (سنسکرت: कणाद)، جنھیں "کنابکشک" اور "کنابُھج" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، قدیم ہندوستان کے ایک قدرتی سائنس دان اور فلسفی تھے جنھوں نے ہندوستانی فلسفہ کے ویشیشک مکتب فکر کی بنیاد رکھی، جو قدیم ترین ہندوستانی طبیعیات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
ان کے عہد کا تخمینہ چھٹی صدی عیسوی سے دوسری صدی قبل مسیح کے درمیان لگایا گیا ہے، تاہم ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ ان کا روایتی نام "کناد" (कणाद) ہے جس کے معنی "ایٹم یا ذرات کھانے والا" کے ہیں۔ وہ سنسکرت کی کتاب "ویشیشک سوتر" (वैशेषिक सूत्र) میں فلسفے کے "جوہر پرستانہ" (atomistic) نقطۂ نظر کی بنیاد رکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی اس تحریر کو "کناد سوتر" یا "کناد کے اقوالِ زریں" بھی کہا جاتا ہے۔
کناد کے قائم کردہ مکتب فکر نے جوہر پرستانہ نظریے کی تجویز، منطق اور حقیقت پسندی (realism) کا اطلاق کر کے کائنات کی تخلیق اور وجود کی وضاحت کی ہے اور یہ انسانی تاریخ میں قدیم ترین معلوم منظم حقیقت پسندانہ وجودیات (ontology) میں سے ایک ہے۔ کناد نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر چیز کو ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ تقسیم ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہ سکتی۔ اس کا اختتام ان کم ترین وجودوں پر ہونا چاہیے جنھیں مزید تقسیم نہ کیا جا سکے؛ یہ "ایٹم" یا "پرمانو" (परमाणु) ابدی ہیں، جو مختلف طریقوں سے مجتمع ہو کر پیچیدہ مادوں اور مخصوص شناخت رکھنے والے اجسام کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس عمل میں حرارت کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور یہی تمام مادی وجود کی بنیاد ہے۔ انھوں نے ان نظریات کو "آتما" (روح، خودی) کے تصور کے ساتھ جوڑ کر "موکش" (نجات) کے حصول کا ایک غیر مذہبی ذریعہ بتایا۔ اگر طبیعیات کے زاویے سے دیکھا جائے تو ان کے خیالات مشاہدہ کار کے ایک واضح کردار کی نشان دہی کرتے ہیں جو زیر مشاہدہ نظام سے آزاد ہے۔ کناد کے افکار نے ہندومت کے دیگر مکاتبِ فکر کو بہت متاثر کیا اور تاریخ میں یہ افکار ہندو فلسفے کے نیائے مکتب فکر سے گہرا تعلق اختیار کر گئے۔
کناد کا نظام چھ خصوصیات یا "پدارتھ" (पदार्थ) کے بارے میں بتاتا ہے جو نام دینے کے قابل اور جاننے کے لائق ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کائنات کی ہر چیز، بشمول مشاہدہ کاروں کے، ان چھ اقسام کے ذریعے بیان کی جا سکتی ہے۔ یہ چھ زمرے درج ذیل ہیں: "درویہ" (مادہ)، "گن" (صفت)، "کرم" (عمل یا حرکت)، "سامانیہ" (عمومیت)، "ویشیش" (خصوصیت) اور "سموایہ" (تلازم)۔ مادوں یا "درویہ" (द्रव्य) کی نو اقسام ہیں، جن میں سے کچھ جوہری ہیں، کچھ غیر جوہری اور کچھ ایسی ہیں جو ہر جگہ محیط ہیں۔
کناد کے خیالات وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں، جنھوں نے نہ صرف فلسفے پر اثر ڈالا بلکہ ممکنہ طور پر دیگر شعبوں کے ماہرین کو بھی متاثر کیا، مثلاً چرک جنھوں نے طب کی مشہور کتاب "چرک سنہتا" لکھی تھی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- قدیم ہندوستانی فلسفی
- قدیم ماہرین طبیعیات
- ماہرین مابعد الطبیعیات
- ہندو رشی
- چھٹی صدی ق م کے ہندوستانی فلسفی
- چھٹی صدی قبل مسیح کی ہندوستانی شخصیات
- آستک
- ہندو دیویاں
- ہندو دیوتا
- ہندو مذہبی رہنما
- ہندو فلاسفہ
- جوہریت
- مادیت پرست
- بھارتی ملحدین
- قدیم ہندوستانی مصنفین
- دوسری صدی کے مصنفین
- سنسکرت مصنفین
- دوسری صدی کی وفیات
- دوسری صدی کے فلسفی
- دوسری صدی کی ہندوستانی شخصیات
- دوسری صدی کی پیدائشیں
- پہلے ہزارے ق م کی پیدائشیں
- پہلے ہزارے قبل مسیح کی وفیات
- ہندوستانی فلسفہ
- بھارتی شخصیات