کندیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


کندیا
ویلی
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہخیبر پختونخوا
ضلعکوہستان اپر
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

کندیا ضلع اپرکوہستان کی ایک تحصیل ہے جو پانچ یونین کونسلوں پرمشتمل ہے۔ یہاں کی آبادی پشتو اور اردو زبان بخوبی جانتی ہے۔ یہ علاقہ جنگلات اور چراہ گاہوں سے بھرا ہوا ہے اور خوبصورت نظارے بھی یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔

کندیا عجب جغرافيائي اہميّت اور حکمتِ عملانہ مقصديت کا حامل ہے۔ اس کی سرحدیں تانگیر، ضلع دیامر، ضلع غذر، ضلع سوات اور ضلع لوئرکوہستان سے جا ملتی ہیں پورے صوبے میں یه علاقه پسمانده ہے اور یہاں تعلیم کی بہت کمی ہے۔ کندیا میں بسنے والے لوگ پٹهانوں کی ایک نسل ہیں جو صلۂ رحمی، دوستی اور مہمان نوازی میں مشہور ہیں، سچی دوستی اور دشمنی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں کے مشہور علاقے بیرتی، کرنگ سیال دره، کافربانڈه، گبرال، میدان،

بگڑو، تهوٹی، الیل اور جشوئی ہیں۔ اس پوری تحصیل میں ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوئے ہیں۔

2010ء کے سیلاب[1][2] میں یہ تحصیل نصف سے زیاده تباه ہوچکی تھی اور لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ جو نقل مکانی کر رہے تھے۔ روڈ[3] اور دیگر سرکاری املاک تو مکمل طور پر تباه ہو چکے تھے۔ مگر پھر بھی اس وقت ارباب حکومت سے کوئی امداد حاصل نہیں ہوئی تھی

اسلام کی آمد[ترمیم]

اسلام سے قبل یہاں کوئی قانون اور تہذیب نہیں تھی۔ جنگ وجدل کے حالات اور معاشرتی ناہمواریوں سے بھرا یہ علاقہ لاقانونیت کا سماں پیش کر رہا تھا مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں کوہستان کے مختلف علاقوں میں اسلام کا ظہور ہوا۔ سولہویں صدی کے جہادی عالم غازی اخون سالاک بابا مجاہدوں کے دستے کی قیادت کرتے ہوئے ہزارہ کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کوہستان پہنچ گئے۔ کوہستان کے کچھ علاقوں میں جنگ کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر و بیشتر لوگ اسلام کی تبلیغ سے متاثر ہو کر غازی اخون سالاک بابا کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اسلام سے قبل تقریبا یہاں پر لوگ بت پرستی اور ہندومت میں مبتلا تھے کیوں کہ آج تک کوہستان کے مختلف علاقوں میں ہندومت کی پرانی روایات موجود ہیں

مذاہب[ترمیم]

تحصیل کندیا میں سارے ایک ہی مذہب بلکہ سارے ایک ہی مسلک کے لوگ ہیں جن کے مسلک کا احناف سے ہے اور تمام لوگ دیوبندی ہیں یہاں کے تمام لوگ ایک ہی مذہبی نظریہ رکھتے ہیں اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں نہ فقہی اختلاف یہاں پایا جاتا ہے

بااثر شخصیات[ترمیم]

ملک دادی خان کوہستان کے نامور اور بااثر شخصیات میں سے ایک تھے. آپ کو یہ شرف حاصل تھا کہ آپ زندگی کے کسی معاملے میں ہارے نہیں تھے۔ والی سوات کے دورحکومت میں آپ اور آپ کے خاندان پر حکومت کی طرف سے اقتدار اور عہدوں کی بارش برسائی گئی تھی مگر والی سوات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد بھی آپ سرفہرست رہے تھے۔ آپ کے پایہ کے شخص ملک نواب خان تھے جو پوری کندیا میں بااثر تھے ملک نواب خان شدم خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ ملک گلیا گبریال، ملک حیات کنگل، ملک غزن خان کرنگ ملک پھجئی خوڑ اور ملک بوتا الیل بااثر شخصات میں سے تھے

موسم[ترمیم]

کندیاکا زبردست موسم ہوتا ہے خاص کر مارچ کے مہینے سے ایک خوشگوار اور معتدل موسم کا آغاز ہوتا ہے اور نومبر کے مہینے میں یہ موسم سردیوں کی طرف قدم بڑھاتا ہے پھر تین مہینے سردی کا موسم ہوتا ہے پورے پاکستان میں کچھ علاقے ایسے ہیں جو موسمی لحاظ سے سیاحوں کی جنت کہلاتے ہیں ان میں ایک کوہستان کا علاقہ کندیا بھی شامل ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "At least 63 die in Kohistan village hit by flash floods | Newspaper". Dawn.Com. 2011-08-26. 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2011. 
  2. "Infant found alive in search for flash flood victims in Kohistan | Provinces". Dawn.Com. 2011-08-27. 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2011. 
  3. "Kandia Valley Road trail - Suyal, North West Frontier Province (Pakistan) - GPS track". Wikiloc. 2011-05-05. 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2011.