مندرجات کا رخ کریں

کنڈی قبیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے


‎کنڈی پٹھان قبیلہ – تاریخی پس منظر ‎ قیس عبد الرشید کو جو "پٹھان" کے لقب سے بھی مشہور ہے اور جس کا شجرہ نسب پینتالیس واسطوں سے ملک طالوت کے پوتے افغنہ تک اور پچاس واسطوں سے حضرت یعقوب اسرائیل اللہ علیہ السلام تک اور پچپن واسطوں سے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور ایک دوسرے قول کے مطابق اس کا سلسلۂ نسب چونتیس واسطوں سے افغنه بن ارمیا تک، سینتیس واسطوں سے ملک طالوت تک، بیالیس واسطوں سے حضرت یعقوب اسرائیل اللہ تک، پینتالیس واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک اور تریسٹھ واسطوں سے حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے، تین سعادت مند اور شرافت شعار بیٹے عطا فرمائے تھے۔ بڑے بیٹے کا نام سربنی، منجھلے کا بٹنی اور سب سے چھوٹے کا ابراہیم عرف غرغشت تھا۔ ان میں سے ہر ایک کی پشت سے لا تعداد بیٹے بیٹیاں اور بے شمار سلسلے وجود میں آئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق ان تمام خاندانوں اور قبیلوں کی تعداد تین سو پچانوے تک پہنچتی ہے۔ ان تمام میں سے سربنی قبیلوں کی تعداد ایک سو پانچ، بٹنی قبیلے تعداد میں پچیس، غرغشتی کے پچانوے قبیلے، متی کے باون قبیلے اور کررانی قبیلوں کی تعداد ایک سو بیس تھی۔ بٹنی کے دو بیٹے تھے، ایک متوازی اور دوسرا بٹنی۔ متوازی کے دو شاخے ہیں، ایک غلزئی اور دوسرا لودھی۔ غلزئی سے سلیمان خیل اور اکاخیل وغیرہ۔ ‎لودھی بن متوازی کی اولادوں کا ذکر لودھی کے تین بیٹے تھے۔ بڑے کا نام نیازی، دوسرے کو سیانی کہتے تھے اور تیسرا دوتانی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق دوتانی اس کا منہ بولا بیٹا تھا۔ سیانی کے دو بیٹے تھے، ایک اسمعیل اور دوسرا پڑنگی۔ اسمعیل بن سیانی بن لودھی بن متوازی بن بٹنی بن قیس کی اولادوں کا ذکر ‎اسمعیل کے تین بیٹے تھے، پہلا سوری، دوسرا لوحانی اور تیسرا مہیال کے نام سے مشہور ہے۔ لوحانی کے زوجہ اول شیری سے مروت، اس کی اولادوں کو بھی مروت خیل ہی کہتے ہیں۔ اس کی نسلوں میں سے کوئی دوسرا قبیلہ پیدا نہیں ہوا یعنی کسی نے کسی دوسرے نام سے کوئی الگ قبیلہ نہیں بنایا۔ اور زوجہ دوم مسمات نوری سے مماخیل، میاخیل، تتور، ہود، کنڈی، بلچ، وغیرہ۔ مہیال سے بی بی زی اور سور سے شادوخیل، الاخیل، یونس خیل اور بکے ہیں۔ ‎ میاخیل سے دو بیٹوں اسوب خیل اور موسی خیل نے جنم لیا۔ خواجہ عثمان لوحانی جو ایک عرصے تک بنگالہ کا حاکم رہا اور اسوب اور موسیٰ جو صوبہ بہار میں سلطان سکندر لودھی کے امرا میں سے تھے اور بہادر خان جس نے صوبہ بہار کے تخت پر قبضہ کر کے وہاں اپنے نام کا خطبہ اور سکہ جاری کیا، اسی میا خیل اولادوں میں سے تھے ‎ #کنڈی پٹھان قبیلہ – تاریخی پس منظر کُنڈی قبیلہ پختونوں کی لودھی شاخ سے تعلق رکھتا ہے۔ لودھی خود پشتونوں کی متوازی شاخ سے ہیں، تقریباً سات سو سے آٹھ سو سال پہلے کُنڈی قبیلے نے اپنے مرکز غزنی اور گرد و نواح سے ہجرت کی اور مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔ ‎ابتدائی سکونت۔ کُنڈی قبائل کا پرانا مسکن غزنی اور قندھار کے علاقے تھے۔ کچھ روایات کے مطابق یہ قبیلہ سلطان شہاب الدین غوری کے زمانے (12ویں صدی) میں بھی وہاں موجود تھا۔ ‎  ہجرت برِصغیر کی طرف۔ لودھی اور غوری سلطنت کے دور میں جب افغان لشکر ہندوستان کی طرف بڑھے تو کُندی قبیلے کے سردار بھی اُن کے ساتھ دہلی تک پہنچے۔ بعد ازاں یہ قبیلہ کُرم، بنوں، کرک، کوہاٹ اور ڈی آئی خان کی وادیوں میں آباد ہوا۔ ‎کُنڈی اور لودھی سلطنت جب بہلول لودھی نے 1451ء میں دہلی کی سلطنت قائم کی تو اُس کے ساتھ پشتون قبائل میں کُنڈی بھی شامل تھے۔ انھیں دہلی دربار اور مختلف علاقوں میں جاگیریں دی گئیں۔ ‎ جنوبی اضلاع میں قیام۔ تقریباً 14ویں اور 15ویں صدی میں کُنڈی قبیلہ زیادہ تر کرک اور کوہاٹ کے پہاڑی و میدانی علاقوں میں آباد ہو گیا۔ بعد میں ان کی شاخیں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک تک پھیل گئیں۔ ‎ ثقافتی و قبائلی شناخت کُنڈی پٹھان اپنی بہادری، قبائلی غیرت، پشتون ولی اور زمینداری کے نظام کے لیے جانے جاتے ہیں۔ 800 سال پہلے بھی یہ قبیلہ اپنی مخصوص جرگہ سسٹم اور روایتی پشتون اقدار پر عمل پیرا تھا۔ خلاصہ یہ کہ کُنڈی قبیلے کی تاریخ تقریباً 800 سال پہلے غزنی و قندھار سے شروع ہوتی ہے، پھر یہ قبیلہ دہلی سلطنت کے ادوار میں شامل ہوا اور بعد ازاں کرک، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مستقل طور پر آباد ہو گیا۔ کُنڈی قبیلے کے بانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بہادر سردار تھے جنھوں نے کرک اور کوہاٹ کے علاقوں میں اپنی شاخ کو آباد کیا۔ بعض مورخین کے مطابق ان کی جڑیں غزنی و قندھار تک جاتی ہیں۔ کُنڈی قبیلے کی مشہور شخصیات تاریخ میں کئی اہم شخصیات سامنے آئی ہیں ‎ #ملک کُنڈی خان۔ قبیلے کے ابتدائی سردار جن کے نام سے "کُنڈی" شاخ مشہور ہوئی۔ ‎ کرک، کوہاٹ، ٹانک اور ڈی آئی خان کے مختلف علاقوں میں آج بھی کُنڈی قبیلے کے لوگ جرگوں، مقامی سیاست اور کاروبار میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ‎ تاریخی حیثیت۔ یہ قبیلہ پندرہویں صدی کے آخر میں افغانستان کے مقام زابل سے ہجرت کرکے پاکستان کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے کنڈے غر میں آباد ہوا۔ کنڈی قبیلہ لودھی کا ایک پووندہ قبیلہ تھا، اس قبیلے کے لوگ برصغیر اور افغانستان میں تجارت کا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ قبیلہ مالی طور پر مستحکم تھا اور برصغیر پر افغانوں کے دور حکومت میں اس قبیلے کے لوگ اہم عہدوں پر فائز رہے۔ کنڈی قبیلہ پاکستان میں خیبر پختونخوا کے #ضلع-ٹانک کی اکثریت، ڈی آئی خان کے کچھ علاقوں، لکی مروت، افغانستان کے کچھ حصے (خوست، زابل)، بلوچستان کے کچھ حصے (کوئٹہ، لورالائی) میں آباد ہیں۔ جبکہ کچھ گھرانے جنوبی وزیرستان اور ضلع کرک میں آباد ہیں۔ ضلع ٹانک میں کنڈیوں کے اہم دیہات گل امام، شاہ عالم، آبیزری (محمد اکبر)، درکی (میخانی), پائی، نندور، غریب آباد، شربتی، وانڈہ زلو، اماخیل، شاہ عالم ہیں۔ گل امام، شاہ عالم، رانوال، پائی اور آبیزری (محمد اکبر) کنڈی قبیلہ کے خانوں کے آبائی گاؤں ہیں۔ اور کنڈی قوم کے خان براہیم خیل، عظیم خیل، دیوانی خیل اور کوکی خیل شاخ سے تعلق رکھتے ہیں ‎۔ کنڈیوں نے اٹھارویں صدی کے آخر میں ٹانک کے نوابوں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں جن میں سے آخرکار چند میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ یہ قبیلہ ہمیشہ داخلی تنازعات میں ملوث رہتا ہے۔ پاکستان میں بہت سارے کنڈی قبیلے کے لوگ تعلیم، سیاست، سول سروسز، عدلیہ وغیرہ کے شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں جبکہ جو افغانستان میں موجود ہیں ان کا رجحان تجارت کی طرف زیادہ ہے۔ لودھی کا کنڈی قبیلہ زیادہ تر خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں آباد ہے  افغانستان میں بھی کنڈی قبیلہ کے واضح آثار دستیاب ہیں۔  ابوبکر خان کنڈی جو شیر شاہ سوری کے عہد میں گذرے اور شیر شاہ سوری کے دادا کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ بہرحال کنڈی قبیلہ سترھویں صدی عیسوی میں ٹانک میں مستقل سکونت پزیر ہونے لگا۔ شروع میں تو ان کا دولت خیلوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہوا۔ لیکن بعد کے زمانے میں نوابین ٹانک کٹی خیل جو دولت خیل لوہانی کی شاخ ہیں ان سے ان کے تنازعات چلتے رہے۔ اس قبیلے سے عبد الرحیم کنڈی نے انگریزوں کے زمانے میں ملازمت اختیار کی جس کے بعد کنڈی قبیلہ شعبہ قانون میں بہت آگے گیا۔ آج بھی کنڈی قبیلہ کے وکلا کو ملک بھر میں کافی شہرت حاصل ہے۔ ‎ اس قبیلے سے ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان سے اس قبیلے کے ایم این ایز و ایم پی اے منتخب ہوتے رہتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں فیصل کریم کنڈی مشہور ترین شخص ہیں۔ کُنڈی کے ذیلی قبیلوں میں #کوکی خیل، چکی خیل، شادمنخیل، تاجو خیل، اذرخیل، بدین زی، اچھاخیل، اماخیل، برہیم خیل، منگلی وغیرہ شامل ہیں. ‎

شجرہ نسب

[ترمیم]

تین سعادت مند اور شرافت شعار بیٹے عطا فرمائے تھے۔ بڑے بیٹے کا نام سربنی، منجھلے کا بٹنی اور سب سے چھوٹے کا ابراہیم عرف غرغشت تھا۔ ان میں سے ہر ایک کی پشت سے لا تعداد بیٹے بیٹیاں اور بے شمار سلسلے وجود میں آئے۔ بعض مؤرخین کے مطابق ان تمام خاندانوں اور قبیلوں کی تعداد تین سو پچانوے تک پہنچتی ہے۔ ان تمام میں سے سربنی قبیلوں کی تعداد ایک سو پانچ، بٹنی قبیلے تعداد میں پچیس، غرغشتی کے پچانوے قبیلے، متی کے باون قبیلے اور کررانی قبیلوں کی تعداد ایک سو بیس تھی۔ بٹنی کے دو بیٹے تھے، ایک متوازی اور دوسرا بٹنی۔ متوازی کے دو شاخے ہیں، ایک غلزئی اور دوسرا لودھی۔ غلزئی سے سلیمان خیل اور اکاخیل وغیرہ۔

‎لودھی بن متوازی کی اولادوں کا ذکر لودھی کے تین بیٹے تھے۔ بڑے کا نام نیازی، دوسرے کو سیانی کہتے تھے اور تیسرا دوتانی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق دوتانی اس کا منہ بولا بیٹا تھا۔ سیانی کے دو بیٹے تھے، ایک اسمعیل اور دوسرا پڑنگی۔ اسمعیل بن سیانی بن لودھی بن متوازی بن بٹنی بن قیس کی اولادوں کا ذکر

‎اسمعیل کے تین بیٹے تھے، پہلا سوری، دوسرا لوحانی اور تیسرا مہیال کے نام سے مشہور ہے۔ لوحانی کے زوجہ اول شیری سے مروت، اس کی اولادوں کو بھی مروت خیل ہی کہتے ہیں۔ اس کی نسلوں میں سے کوئی دوسرا قبیلہ پیدا نہیں ہوا یعنی کسی نے کسی دوسرے نام سے کوئی الگ قبیلہ نہیں بنایا۔ اور زوجہ دوم مسمات نوری سے مماخیل، میاخیل، تتور، ہود، کنڈی، بلچ، وغیرہ۔ مہیال سے بی بی زی اور سور سے شادوخیل، الاخیل، یونس خیل اور بکے ہیں۔

مشاہیر

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]

The pathans (olsf caoe)

بلوچستان کے قبائل ( منصور بخآری)

سلطانی تاریخ جدون

  1. K