مندرجات کا رخ کریں

کنگنا رناوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(کنگنا راناوت سے رجوع مکرر)
کنگنا رناوت
(انگریزی میں: Kangana Ranaut ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 مارچ 1986ء (40 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منڈی ضلع [2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ہماچل پردیش   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب ہندومت [3]  ویکی ڈیٹا پر (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی نیو یارک فلم اکیڈمی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ [[:اداکار|اداکارہ اور ادکارہ]] ،  [[:فلمی ہدایت کار|فلمی ہدایت کارہ]]   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
 فنون میں پدم شری   (2020)[4]
فلم فیئر اعزاز  
قومی فلم اعزاز برائے بہترین اداکارہ
قومی فلم اعزاز برائے معاون اداکارہ
سی این این نیوز 18 انڈین آف دی ائیر   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کنگنا امر دیپ رناوت (پیدائش: 23 مارچ 1986ء) بھارتی اداکارہ، فلم ساز اور سیاست دان ہیں جو جون 2024ء سے منڈی سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ وہ خواتین مرکزی کرداروں پر مشتمل ہندی فلموں میں مضبوط، غیر روایتی نسوانی کرداروں کے موثر اظہار کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھیں متعدد اعزازات حاصل ہوئے جن میں چار قومی فلم ایوارڈ، چار فلم فیئر ایوارڈ شامل ہیں اور وہ فوربس 100 نامور شخصیات کی فہرست میں چھ مرتبہ شامل رہ چکی ہیں۔ 2020ء میں حکومت ہند نے انھیں پدم شری جو ملک کا چوتھا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے، سے نوازا۔

کنگنا نے سولہ برس کی عمر میں مختصر طور پر ماڈلنگ کی بعد ازاں انھوں نے تھیٹر ہدایت کار اروِند گور سے اداکاری کی تربیت حاصل کی۔ اُنھوں نے 2006ء میں سنسنی خیز فلم گینگسٹر سے فلمی سفر کا آغاز کیا جس پر انھیں فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین نووارد اداکارہ عطا ہوا۔ اسی عرصے میں ”وہ لمحے۔۔۔“ (2006ء)، ”لائف اِن آ۔۔۔ میٹرو“ (2007ء) اور ”فیشن“ (2008ء) جیسی ڈرامائی فلموں میں جذباتی گہرائی والے کرداروں کے لیے سراہی گئیں۔ فیشن میں ان کی کارکردگی پر انھیں قومی فلم ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکارہ دیا گیا۔

وہ تجارتی اعتبار سے کامیاب فلموں ”راز: دی مسٹری کنٹینیوز“ (2009ء) اور ”وانس اپون اے ٹائم اِن ممبئی“ (2010ء) میں بھی نظر آئیں اگرچہ اُن پر اکثر جذباتی عدم توازن سے دوچار کرداروں میں مخصوص کیے جانے کی تنقید ہوتی رہی۔ 2011ء میں ریلیز ہونے والی کامیڈی فلم ”تنّو ویڈز منّو“ میں ان کے مزاحیہ کردار کو بے حد پزیرائی حاصل ہوئی تاہم اس کے بعد ان کے حصے میں بیشتر سطحی یا ظاہری دلکشی پر مبنی مختصر کردار ہی آئے۔

کنگنا کے فلمی سفر میں نئی جان 2013ء میں اس وقت آئی جب انھوں نے سائنس فکشن سپر ہیرو فلم کِرِش 3 میں میوٹنٹ کا کردار ادا کیا جو بھارتی سنیما کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی۔ بعد ازاں انھیں لگاتار دو برسوں (2014ء اور 2015ء) میں قومی فلم ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ سے نوازا گیا (پہلا کوئین میں ایک متروکہ دلہن کے کردار پر اور دوسرا تنّو ویڈز منّو ریٹرنز میں دوہرا کردار نبھانے پر) جو اس وقت تک خواتین مرکزی کردار پر مبنی سب سے زیادہ منافع بخش فلم بنی۔ تاہم اس کامیابی کے بعد ان کے فلمی سفر میں زوال آیا اور کئی فلمیں تجارتی طور پر ناکام ثابت ہوئیں سوائے مانی کارنیکا: جھانسی کی رانی (2019ء) کے جس کی وہ شریک ہدایت کارہ بھی تھیں۔ اس فلم میں جھانسی کی رانی کے کردار کے ساتھ ساتھ 2020ء میں کھیلوں پر مبنی فلم پنگا میں ان کی اداکاری نے انھیں چوتھا قومی فلم ایوارڈ دلوایا۔

کنگنا کی دوسری ہدایت کاری 2025ء میں آئی جس میں انھوں نے سوانحی ڈراما ”ایمرجنسی“ میں اندرا گاندھی کا کردار ادا کیا؛ تاہم یہ فلم تنقیدی طور پر ناکام رہی۔ 2020ء میں کنگنا نے اپنی ذاتی پروڈکشن کمپنی مانی کرنیکا فلمز کی بنیاد رکھی جس کے تحت وہ بطور ہدایت کارہ اور پروڈیوسر سرگرم رہیں۔ وہ اپنے انٹرویو اور سوشل میڈیا پر دو ٹوک اور اکثر متنازع بیانات دینے کے لیے معروف ہیں۔ ان کے کئی خیالات بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا) کے دائیں بازو کے نظریات سے ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں جب کہ ان کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی میں متعدد تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔