کوئیر نظریہ
کوئیر نظریہ (انگریزی: Queer theory) جدید نظری اصطلاح ہے جو فیمنزم کی چوتھی لہر کے طور پر سامنے آئی۔[1] اس کا تعلق جنس، صنف اور جنسی شناخت کے روایتی تصورات سے انحراف سے ہے۔
اصطلاح کا آغاز
[ترمیم]کوئیر تھیوری کی اصطلاح 1990ء کی دہائی میں نمایاں ہوئی۔ پیٹر بیری (پ: 1947ء) اپنی کتاب بیگننگ تھیوری میں لکھتے ہیں:
- "These terms date (at least in their institutional acceptance) from the 1990 conference on 'queer theory' at the University of California Santa Cruz."
- (یعنی: ان اصطلاحات کو (کم از کم ادارہ جاتی سطح پر) قبولیت 1990ء میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سانتا کروز میں منعقدہ ’کوئیر تھیوری‘ کانفرنس سے ملی۔)[2]
کوئیر تھیوری کے آغاز کے بارے میں اپریل ایس کیلس (April S. Callis) لکھتی ہیں:
- "Queer theory has part of its root structure within the queer political movement of the late 1980s and early 1990s. However, queer theory also arose from the gay and lesbian academic endeavours that began in the 1960s and 1970s."
- (یعنی: کوئیر تھیوری کی بعض جڑیں 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے کوئیر سیاسی تحریکوں میں پیوست ہیں تاہم اس نظریے کا ارتقا 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں ہم جنس پرستوں کے علمی مطالعوں سے بھی ہوا۔)[3]
بنیادی نظریات
[ترمیم]کوئیر تھیوری اس بات پر زور دیتی ہے کہ کوئی بھی انسان فطری طور پر صرف مرد یا عورت نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ معاشرتی اقدار ہی ہیں جو اس کی جنس کا تعین کرتی ہیں۔ اس کے مطابق سارے انسان حیاتیاتی طور پر برابر ہوتے ہیں، جبکہ ”مرد“ اور ”عورت“ کا تصور معاشرتی تشکیل ہے۔ کوئی شخص حیاتیاتی طور پر مرد ہو کر نفسیاتی سطح پر عورت ہو سکتا ہے اور اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔
اس نظریے پر کارل یونگ کے نظریات خاص طور پر انیما اور انیمس کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں جن کے مطابق ہر مرد کے اندر ایک عورت اور ہر عورت کے اندر ایک مرد موجود ہو سکتا ہے۔ خلاصتاً یہ نظریہ بنیادی طور پر جنس اور صنف کو مختلف خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔[4]
پس ساختیات سے تعلق
[ترمیم]کوئیر تھیوری کو لیزبیئن فیمنزم سے جدا کر کے پس ساختیات سے جوڑا جاتا ہے جہاں بائنری اپوزیشن (یعنی دو قطبی متضاد تصورات) کی ردِ تشکیل کا بنیادی نکتہ ہے۔ پیٹر بیری لکھتے ہیں:
- "One of the main points of post-structuralism was to 'deconstruct' binary opposition (like that between speech and writing, for instance) showing, firstly, that the distinction between paired opposites is not absolute."
- یعنی: پس ساختیات کا ایک بنیادی نکتہ یہ تھا کہ وہ دو بائنری اپوزیشن (جیسے تقریر اور تحریر کے درمیان فرق) کو رد تشکیل کرے اور یہ دکھائے کہ ان کے درمیان امتیاز مطلق یا غیر متزلزل نہیں ہوتا۔[2]
کوئیر تھیوری جنس کی رد تشکیل کر کے کسی انسان کو جنس کی سطح سے بلند کر کے صنفی سطح پر شناخت دینے کی کوشش کرتی ہے۔
دائرۂ مطالعہ میں وسعت
[ترمیم]ابتدا میں کوئیر تھیوری نے ایل جی بی ٹی اسٹڈیز کی بنیاد پر جنس کی بنیاد پر قائم سماجی اقدار کو چیلنج کیا مگر بعد میں اس نے اپنی توجہ صرف جنس تک محدود نہ رکھتے ہوئے طبقہ (امیر، غریب)، نسل، ذات اور رنگ جیسے موضوعات کو بھی شامل کر لیا۔ یہ رجحان اس نظریے کو مارکسی فکر کے قریب کر دیتا ہے۔[5]
نمایاں مفکرین
[ترمیم]کوئیر تھیوری کے نمایاں مفکرین درج ذیل ہیں:
- جیوڈتھ بٹلر (پ: 24 فروری 1956ء)
- لارنس برلنٹ (31 اکتوبر 1957ء – 28 جون 2021ء)
- مائیکل وارنر (پ: 9 ستمبر 1958ء)
- ایو کوسوفسکی سیجوک (2 مئی 1950ء – 12 اپریل 2009ء)
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ فضل کبیر؛ مسرور حسین؛ امتل ضیا (1 جون 2024)۔ "کوئیر تھیوری کے تناظر میں ناول غبار کا تجزیاتی مطالعہ"۔ خیابان۔ شعبۂ اردو، جامعہ پشاور۔ ج 1 شمارہ 49: 5
- 1 2 Peter Barry, "Beginning theory" , (Manchester : University Press, 2009) , Pg 138
- ↑ April S.Callis , "Playing with Butler and Foucault: Bisexuality and Queer Theory", (Journal of Bisexuality, 2009), pg 215
- ↑ فضل کبیر؛ مسرور حسین؛ امتل ضیا (1 جون 2024)۔ "کوئیر تھیوری کے تناظر میں ناول غبار کا تجزیاتی مطالعہ"۔ خیابان۔ شعبۂ اردو، جامعہ پشاور۔ ج 1 شمارہ 49: 6
- ↑ فضل کبیر؛ مسرور حسین؛ امتل ضیا (1 جون 2024)۔ "کوئیر تھیوری کے تناظر میں ناول غبار کا تجزیاتی مطالعہ"۔ خیابان۔ شعبۂ اردو، جامعہ پشاور۔ ج 1 شمارہ 49: 7