کورونا وائرس کی وبا، 2019ء - 2020ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ووہان کورونا وائرس وبا 2019ء - 2020ء
کورونا وائرس کی وبا، 2019ء - 2020ء is located in چین
کورونا وائرس کی وبا، 2019ء - 2020ء
ووہان کا مقام، چین میں وبا کا مرکز
تاریخ8 دسمبر 2019[1] – جاری
(2 مہینا، 2 ہفتہ اور 2 دن)
مقامپہلی تشخیص
ووہان، ہوبئی، چین
متاثرین
بمطابق 24 فروری 2020:
40000 تصدیق شدہ مریض 910 اموات

کورونا وائرس کی وبا، 2019ء - 2020ء (اس کو ووہان کورونا وائرس یا چینی نمونیا یا ووہان نمونیا (چینی زبان:武漢肺炎) بھی کہا جاتا ہے) دسمبر 2019ء میں وسطی چین کے شہر ووہان میں پھوٹ پڑی جہاں نامعلوم سبب کی وجہ سے نمونیا سے متاثر مریضوں کے ایک گروپ میں کورونا وائرس پایا گیا۔ بنیادی طور پر یہ وائرس ان لوگوں میں پایا گیا ہے جو ووہان کی سمندری غذائی بازار (چینی زبان:華南海鮮市場) میں کام کرتے ہیں۔ چین کے سائنس دانوں نے اس کو کورونا وائرس کی ایک الگ قسم قرار دیا ہے اور اس کا نام nCoV-2019 بتایا ہے۔ نیز یہ وائرس، سارس کورونا وائرس کے جینوم سے 70 فیصد ملتا جلتا ہے، لیکن اب تک یہ ثابت نہیں ہو سکتا ہے کہ سختی اور ہلاکت میں یہ سارس وائرس کے مقابل ہے۔[2][3][4][5]

تفصیلات[ترمیم]

اس وائرس کے ابتدائی آثار تصدیق سے 3 ہفتہ قبل 8 دسمبر 2019ء ظاہر ہوئے تھے،[1] اور پہلا مشتبہ واقعہ 31 دسمبر 2019ء میں درج کیا گیا۔[6] 1 جنوری 2020ء کو بازار بند کر دیا گیا اور وائرس کی علامت سے متاثر افراد کو الگ کر دیا گیا۔[6] 700 سے زائد افراد کو نگرانی میں رکھا گیا، اور تقریباً 400 افراد کو ان کے علاج اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے رکھا گیا۔[7] انفیکشن کی تشخیص کے لئے ایک پولیمریز چین رد عمل (PCR) ٹیسٹ تیار کیا گیا تھا، اس انتہائی نگہداشت کے ساتھ ووہان کے 41 افراد کے گروپ میں ایک نئے کورونا وائرس کی دریافت کی تصدیق ہوئی۔[2][8] ان میں دو لوگوں نے ابھی جلد ہی شادی کی تھی۔ ان میں ایک بازار بھی نہیں گیا تھا۔ اور کچھ لوگ اس سمندری غذائی بازار میں کام کرنے والے خاندان سے تھے۔[9][10] اس وائرس سے متاثر پہلی موت 9 جنوری 2020ء میں ہوئی۔[11]

  • 20 جنوری 2020ء کو، چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے زور دیا کہ نئے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی وبا کو روکنے اور اس سے نمٹنے کے لئے فیصلہ کن اور موثر کوشش کی جائے۔[12]
  • 22 جنوری 2020ء کو عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام ایک ایمرجنسی کمیٹی منتخب ہوئی، جس میں صحت کے عالمی قوانین کے مطابق صحت عامہ کی فوری توجہ کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔[13] عالمی ادارہ صحت نے اس مرض کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا، اور چینی سال نو کے سفر کے دوران مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وائرس کی تیزی سے غیر متوقع طور پر پھیلنے، اس وائرس کے مرکز ووہان اور اور جائے علاج و نگرانی سے متعلق سوالات وغیرہ بھی زیر بحث آئے۔[4][14][5][14][15][16][17]
  • 22 جنوری 2020ء تک 17 اموات ہو چکی تھیں، تمام اموات چین میں تھیں۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ یہ وائرس ایک سے دوسرے میں پھیل رہا ہے۔ پھر بڑے پیمانے پر جاری ٹیسٹ کے ذریعہ 540 سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، متاثرین میں سے بعض افراد علاج و نگرانی میں کام کرنے والے بھی تھے۔[18][19]
  • 23 جنوری 2020ء کو چینی حکومت نے اس وائرس کے مرکز، تقریباً 11 ملین کی آبادی پر مشتمل شہر ووہان کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے 600 متاثرین اور 17 اموات درج ہوچکی تھیں۔[20]۔ ثم قررت الصين فرض الحجر الصحي بحكم الأمر الواقع، على مدينة ثانية، لتعزل بذلك ما مجموعہ أكثر من 18 مليون مواطن في المدينتين، بهدف منع انتشار الوباء[21]
  • 24 جنوری 2020ء کو اموات کی تعداد 41 اور متاثرین کی تعداد 1106 تک پہونچ گئی۔[22]
  • 25 جنوری 2020 کو چین میں اموات کی تعداد 55 تک ہو گئی۔[23] سنیچر کی صبح، ذمہ داران کے بیان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں 400 نئے افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، اس طرح نئے بیانات کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد 1741 تک پہنچ گئی ہے۔ ووہان اور 12 دوسرے متاثرہ شہروں میں آمد و رفت کو روک دیا گیا ہے، تاکہ چینی سال نو کا چشن متاثر نہ ہو سکے۔[24]

اسی طرح تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان، مکاؤ، ہانگ کانگ اور ریاستہائے متحدہ امریکا میں اس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ہسپتال کی تعمیر[ترمیم]

24 جنوری جمعہ کے دن چین کی حکومت نے 1000 بستروں کی گنجائش والا ایک ہسپتال 10 دنوں میں بنانے کا وعدہ کیا۔[25]

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ژانجیانگ ڈیلی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دس بلڈوزر اور تیرہ کے قریب کھدائی کرنے والی مشینیں جمعرات کی شام 23 جنوری کو ووہان کے نو تعمیر ہونے والے ہسپتال کی جگہ پر پہنچے۔[25]

حکام کے مطابق امید ہے کہ 3 فروری تک 270،000 مربع فٹ پر ہسپتال کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔[26]

ظاہری علامات[ترمیم]

جانچ دستاویزات کی تصدیق کے مطابق، 90٪ متاثرین میں بخار کا آنا ہوتا ہے،[2] 80٪ میں عام کمزوری اور خشک کھانسی ہوتی ہے[2][27] اور 20٪ میں سانس کی تکلیف ہوتی ہے۔[28][29][27]۔ خون کی جانچ میں سفید خون کی کمی کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔[2]

جانچ[ترمیم]

15 جنوری 2020 کو، عالمی ادارہ صحت نے نئے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک ضابطہ مقرر کیا، جسے جرمنی کے چیریٹی اسپتال سے وائرولوجی ٹیم نے تیار کیا تھا۔[30]

دیگر ممالک میں اثرات[ترمیم]

اس وائرس کے متاثرین کی مختلف ممالک میں بھی تصدیق ہوئی ہے، جن کی کل تعداد 25 جنوری کی شام ساڑھے سات بجے جاری ایک فہرست کے مطابق 28 ہے، فہرست درج ذیل ہے:[18][19]

  • آسٹریلیا۔ 4 متاثرین
  • جاپان۔ 3
  • جنوبی کوریا۔ 2
  • ویتنام۔ 2
  • ملیشیا۔ 3
  • سنگاپور۔ 3
  • تھائی لینڈ۔ 5
  • نیپال۔ 1
  • فرانس۔ 3
  • امریکا۔ 2

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Schnirring، Lisa (14 جنوری 2020). "Report: Thailand's coronavirus patient didn't visit outbreak market". CIDRAP. مؤرشف من الأصل في 14 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 15 جنوری 2020. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ Hui، David S.; Azhar، Esam EI; Madani، Tariq A.; Ntoumi، Francine; Kock، Richard; Dar، Osman; Ippolito، Giuseppe; Mchugh، Timothy D. et al۔ (14 جنوری 2020). "The continuing epidemic threat of novel coronaviruses to global health – the latest novel coronavirus outbreak in Wuhan, China" (انگریزی میں). International Journal of Infectious Diseases 91: 264–266. doi:10.1016/j.ijid.2020.01.009. آئی ایس ایس این 1201-9712. https://www.ijidonline.com/article/S1201-9712(20)30011-4/pdf. 
  3. "Undiagnosed pneumonia – China (HU) (01): wildlife sales, market closed, RFI Archive Number: 20200102.6866757". International Society for Infectious Diseases. مؤرشف من الأصل في 22 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2020. 
  4. ^ ا ب Cohen، Jon; Normile، Dennis (17 جنوری 2020). "New SARS-like virus in China triggers alarm" (en میں). Science 367 (6475): 234–235. doi:10.1126/science.367.6475.234. آئی ایس ایس این 0036-8075. PMID 31949058. https://science.sciencemag.org/content/367/6475/234۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جنوری 2020. 
  5. ^ ا ب Parry، Jane (20 جنوری 2020). "China coronavirus: cases surge as official admits human to human transmission" (en میں). British Medical Journal 368. doi:10.1136/bmj.m236. آئی ایس ایس این 1756-1833. https://www.bmj.com/content/368/bmj.m236. 
  6. ^ ا ب "Pneumonia of unknown cause – China. Disease outbreak news". منظمة الصحة العالمية. 5 جنوری 2020. مؤرشف من الأصل في 7 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 6 جنوری 2020. 
  7. Schnirring، Lisa (11 جنوری 2020). "China releases genetic data on new coronavirus, now deadly". CIDRAP (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 11 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 12 جنوری 2020. 
  8. Lu، Hongzhou; Stratton، Charles W.; Tang، Yi-Wei (16 جنوری 2020). "Outbreak of Pneumonia of Unknown Etiology in Wuhan China: the Mystery and the Miracle" (en میں). Journal of Medical Virology. doi:10.1002/jmv.25678. آئی ایس ایس این 1096-9071. https://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1002/jmv.25678. 
  9. Schnirring، Lisa (15 جنوری 2020). "Second family cluster found in Wuhan novel coronavirus outbreak". CIDRAP (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 16 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2020. 
  10. Wee، Sui-Lee؛ Jr، Donald G. McNeil (8 جنوری 2020). "China Identifies New Virus Causing Pneumonialike Illness". The New York Times (باللغة انگریزی). ISSN 0362-4331. مؤرشف من الأصل في 14 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2020. 
  11. Qin، Amy؛ Hernández، Javier C. (10 جنوری 2020). "China Reports First Death From New Virus". The New York Times (باللغة انگریزی). ISSN 0362-4331. مؤرشف من الأصل في 11 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2020. 
  12. "CChinese premier stresses curbing viral pneumonia epidemic". الصين يوميا. بكين: وكالة أنباء شينخوا. 2020-01-21. مؤرشف من الأصل في 22 جنوری 2020. 
  13. Newey، Sarah (14 جنوری 2020). "WHO refuses to rule out human-to-human spread in China's mystery virus outbreak". The Telegraph (باللغة انگریزی). ISSN 0307-1235. مؤرشف من الأصل في 15 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2020. 
  14. ^ ا ب Schnirring، Lisa (20 Jan 2020). "New coronavirus infects health workers, spreads to Korea". CIDRAP (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 21 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  15. Nectar Gan؛ Yong Xiong؛ Eliza Mackintosh. "China confirms new coronavirus can spread between humans". CNN. مؤرشف من الأصل في 20 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 20 جنوری 2020. 
  16. Tan، Weizhen (21 جنوری 2020). "China says coronavirus that killed 6 can spread between people. Here's what we know". CNBC (باللغة انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  17. Edwards، Erika (21 جنوری 2020). "1st case of coronavirus from China confirmed in U.S.". NBC News (باللغة انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  18. ^ ا ب Griffiths، James (22 جنوری 2020). "Wuhan coronavirus death toll rises to nine with 440 infected says China, sparking fears of wider spread". CNN. اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2020. 
  19. ^ ا ب Field، Field (22 جنوری 2020). "Nine dead as Chinese coronavirus spreads, despite efforts to contain it". The Washington Post. مؤرشف من الأصل في 22 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2020. 
  20. "الصين تغلق مدينة يقطنها 11 مليونا في مركز انتشار فيروس كورونا". مؤرشف من الأصل في 23 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2020. 
  21. "الفيروس الغامض۔۔ الصين تعزل 18 مليون مواطن وإجراءات عالمية". مؤرشف من الأصل في 23 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 23 جنوری 2020. 
  22. "Tracking coronavirus: Map, data and timeline" en-US (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 24 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2020. 
  23. "Countries in North America, Europe, Australia, Asia Confirm Coronavirus Cases, Raising Travel Advisories – Caixin Global". www.caixinglobal.com (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 25 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2020. 
  24. "Coronavirus Live Updates: China Reports More Deaths as U.S. Orders Evacuation". The New York Times (باللغة انگریزی). 2020-01-25. ISSN 0362-4331. مؤرشف من الأصل في 25 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2020. 
  25. ^ ا ب "China building 1,000-bed hospital over the weekend to treat coronavirus". Reuters (باللغة انگریزی). 2020-01-24. مؤرشف من الأصل في 25 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 25 جنوری 2020. 
  26. ^ ا ب "Experts explain the latest bulletin of unknown cause of viral pneumonia". Wuhan Municipal Health Commission. 11 جنوری 2020. مؤرشف من الأصل في 11 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2020. 
  27. Schnirring، Lisa (6 جنوری 2020). "Questions still swirl over China's unexplained pneumonia outbreak". CIDRAP (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 6 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2020. 
  28. "Pneumonia of Unknown Cause in China – Watch – Level 1, Practice Usual Precautions – Travel Health Notices | Travelers' Health | CDC". wwwnc.cdc.gov. 6 جنوری 2020. مؤرشف من الأصل في 8 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2020. 
  29. Schirring، Lisa؛ 2020 (16 جنوری 2020). "Japan has 1st novel coronavirus case; China reports another death". CIDRAP (باللغة انگریزی). مؤرشف من الأصل في 20 جنوری 2020. اخذ شدہ بتاریخ 16 جنوری 2020.