مندرجات کا رخ کریں

کوزہ کانوپی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
برٹش میوزیم میں نمائش کے لیے نیوبین جار
چار کینوپیک جار: ایمسیٹ ، ہاپی ، کیبیحسینوف اور 19 ویں خاندان سے دوموتف (مصری میوزیم، برلن)

کوزہ کانوپی یا خابیۂ اموات وہ برتن تھے جو قدیم مصری لوگ تحنیط کے عمل کے دوران استعمال کرتے تھے تاکہ مرنے والے کے جسم کے اندرونی اعضا کو محفوظ رکھا جا سکے، تاکہ وہ آخرت میں کام آ سکیں۔ [1] [2] یہ برتن عام طور پر چونا پتھر یا مٹی کے برتن سے بنائے جاتے تھے۔ تمام اعضا ایک ہی برتن میں نہیں رکھے جاتے تھے بلکہ چار الگ برتن ہوتے تھے اور ہر ایک میں ایک مخصوص عضو رکھا جاتا تھا: معدہ ، آنتیں پھیپھڑے جگر مصری عقیدے کے مطابق دل کو نکالا نہیں جاتا تھا کیونکہ اسے روح اور عقل کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

تاریخی ارتقا

[ترمیم]

قدیم سلطنت میں یہ برتن سادہ اور بغیر نقش و نگار کے ہوتے تھے۔ بعد میں ان پر نقش و نگار عام ہو گئے اور ڈھکن انسانی شکل کے بننے لگے۔ انیسویں خاندان میں ڈھکنوں کو حورس کے چار بیٹوں کی شکل دی جانے لگی، جو ان اعضا کے محافظ سمجھے جاتے تھے۔ حورس کے چار بیٹے حاپی → پھیپھڑوں کا محافظ ایمستی → جگر کا محافظ دوموتف → معدے کا محافظ قبح سنوف → آنتوں کا محافظ یہ یقین تھا کہ مرنے والا آخرت میں ان اعضا کو دوبارہ استعمال کرے گا، اس لیے انھیں محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ برتنوں میں ایسے مادے بھی ڈالے جاتے تھے جو گلنے سڑنے سے بچاتے تھے اور انھیں ممی کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا۔[3][4]

خونسو کا کینوپک صندوق، انیسواں خاندان، نئی سلطنت مصر

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. حسن سعيد الكرمي (1999)، المغني الأكبر: معجم اللغة الإنكليزية الكلاسيكية والمعاصرة والحديثة إنكليزي عربي موضح بالرسوم واللوحات الملونة (بزبان عربی وانگریزی) (2 ایڈیشن)، بیروت: Librairie du Liban Publishers، ص 184، OCLC:1039055899، QID: Q117808099
  2. منیر البعلبكی؛ Ramzi al-Baalbaki (2008)۔ Al-Mawrid Al-Hadeeth: قاموس إنكليزي عربي (بزبان عربی وانگریزی) (1 ایڈیشن)۔ بیروت: دار العلم للملایین۔ ص 186۔ ISBN:978-9953-63-541-5۔ OCLC:405515532۔ OL:50197876M۔ QID: Q112315598
  3. "A Complete Set of Canopic Jars"۔ متحف والترز۔ 06 يوليو 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  4. Weighing Of The Heart Sceneآرکائیو شدہ 2013-12-17 بذریعہ وے بیک مشین, Swansea University: W1912, accessed 18 November 2011